🏠 👥 🔍 🧩 🅰️ 📌 ↩️

المستدرك على الصحيحين سے متعلقہ
تمام کتب
ترقیم الرسالہ
ترقيم الشرکۃ
عربی لفظ
اردو لفظ
حدیث کتب میں نمبر سے حدیث تلاش کریں:

ترقیم الرساله سے تلاش کل احادیث (9018)
حدیث نمبر لکھیں:
ترقیم الشركة سے تلاش کل احادیث (8909)
حدیث نمبر لکھیں:
حدیث میں عربی لفظ/الفاظ تلاش کریں
عربی لفظ / الفاظ لکھیں:
حدیث میں اردو لفظ/الفاظ تلاش کریں
اردو لفظ / الفاظ لکھیں:
5. تشميت العاطس إذا حمد الله .
چھینکنے والے کا جواب دینا (تشمیت) جب وہ اللہ کی حمد بیان کرے
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 7882
أخبرنا محمد بن يعقوب الحافظ، حَدَّثَنَا يحيى بن محمد بن يحيى، حَدَّثَنَا مُسدَّد، حَدَّثَنَا بِشر بن المُفضَّل، حَدَّثَنَا عبد الرحمن بن إسحاق، عن سعيد المَقبُري، عن أبي هريرة قال: جلسَ عند النَّبِيِّ ﷺ رجلانِ أحدُهما أشرفُ من الآخَر، فعَطَسَ الشريفُ فلم يَحمَدِ الله، فلم يُشمِّته النَّبِيُّ ﷺ، ثم عَطَسَ الآخرُ فَحَمِدَ الله، فشمَّته النَّبِيُّ ﷺ، فقال الشريفُ: عَطَستُ فلم تُشمِّتْني، وعَطَسَ هذا فشمَّتَّه؟ قال:"إنَّك نسيتَ الله فنَسيتُك، وإِنَّ هذا ذكَرَ الله فذَكرتُه" (1) . صحيح الإسناد، ولم يُخرجاه.
[التعليق - من تلخيص الذهبي] ترقيم العلميه 7689 - سكت عنه الذهبي في التلخيص
سیدنا ابوہریرہ رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں: رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی بارگاہ میں دو آدمی بیٹھے ہوئے تھے، ایک امیر اور دوسرا غریب تھا۔ امیر آدمی کو چھینک آئی، اس نے الحمد اللہ نہ پڑھا، نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے اس کو جواب نہیں دیا۔ پھر دوسرے کو چھینک آئی، اس نے الحمد للہ کہا۔ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے اس کو یرحمک اللہ کہا۔ امیر شخص کہنے لگا: مجھے چھینک آئی تو آپ نے مجھے یرحمک اللہ نہیں کہا اور اس کو آئی تو آپ نے اس کو یرحمک اللہ کہہ دیا۔ حضور صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: تو نے اللہ تعالیٰ کو بھلا دیا، میں نے تجھے بھلا دیا، اس نے اللہ تعالیٰ کو یاد رکھا، میں نے اس کو یاد رکھا۔ ٭٭ یہ حدیث صحیح الاسناد ہے لیکن امام بخاری رحمۃ اللہ علیہ اور امام مسلم رحمۃ اللہ علیہ نے اس کو نقل نہیں کیا۔ [المستدرك على الصحيحين/كتاب الأدب/حدیث: 7882]

المستدرك على الصحيحين کی حدیث نمبر 7882 پر
الشیخ عادل مرشد، ڈاکٹر احمد برہوم، ڈاکٹر محمد کامل قرہ بلی، ڈاکٹر سعید اللحام کی
تخريج وتحقيقِ محدثانہ نکات و اصطلاحی مطالعہ
(1) حديث صحيح، وهذا إسناد حسن كسابقه.
⚖️ درجۂ حدیث: یہ حدیث صحیح ہے اور اس کی سند گزشتہ روایت کی طرح حسن ہے۔
وأخرجه أحمد (14/ 8346) عن رِبعي بن إبراهيم، وابن حبان (602) من طريق يزيد بن زريع، كلاهما عن عبد الرحمن بن إسحاق، بهذا الإسناد.
📖 حوالہ / مصدر: اسے امام احمد نے (14/ 8346) میں ربعی بن ابراہیم کے واسطے سے، اور امام ابن حبان نے (602) میں یزید بن زریع کے طریق سے روایت کیا ہے، اور یہ دونوں عبد الرحمن بن اسحاق سے اسی سند کے ساتھ روایت کرتے ہیں۔
وأخرجه إسحاق بن راهويه في "مسنده" (361)، وعنه البخاري في "الأدب المفرد" (930) من طريق أبي حازم الأشجعي، عن أبي هريرة بنحوه.
📖 حوالہ / مصدر: اسے امام اسحاق بن راہویہ نے اپنی مسند (361) میں روایت کیا ہے، اور ان سے امام بخاری نے 'الادب المفرد' (930) میں ابو حازم الاشجعی عن ابی ہریرہ کے طریق سے اس جیسی روایت نقل کی ہے۔
وفي الباب عن أنس عند البخاري (6221)، ومسلم (2991).
🧩 متابعات و شواہد: اس باب میں حضرت انس رضی اللہ عنہ سے امام بخاری (6221) اور امام مسلم (2991) کے ہاں روایت موجود ہے۔