المستدرك على الصحيحين سے متعلقہ
تمام کتب
ترقیم الرسالہ
ترقيم الشرکۃ
عربی لفظ
اردو لفظ
5. تشميت العاطس إذا حمد الله .
چھینکنے والے کا جواب دینا (تشمیت) جب وہ اللہ کی حمد بیان کرے
حدیث نمبر: 7883
حَدَّثَنَا أبو زكريا يحيى بن محمد العَنْبري، حَدَّثَنَا الحسين بن محمد بن زياد، حَدَّثَنَا يعقوب بن إبراهيم الدَّورَقي، حَدَّثَنَا القاسم بن مالك المُزَني، حَدَّثَنَا عاصم بن كُلَيب، عن أبي بُرْدة بن أبي موسى، قال: شَهِدتُ أبا موسى وهو في بيت أمِّ الفضل، فعَطَسَتْ فشمَّتها، وعطستُ فلم يُشمِّتْني، فلما جئتُ إلى أُمِّي أخبرتُها، فلما جاءها أبو موسى قالت له: عَطَسَ عندك ابني فلم تُشمِّتْه، وعطسَتِ امرأةٌ فشمَّتَها، فقال: إِنَّ ابنَك عَطَسَ فلم يَحمَدِ الله فلم أُشمَّتْه، وإِنَّها عطسَتْ فَحَمِدَتِ اللهِ فَشمَّتُّها، سمعتُ رسولَ الله ﷺ يقول:"إذا عطس أحدُكم فحَمِدَ الله فشمِّتُوه، وإذا لم يَحمَدِ الله فلا تُشمِّتُوه"، قالت: أحسنتَ أحسنتَ (1) .
هذا حديث صحيح الإسناد، ولم يُخرجاه.
[التعليق - من تلخيص الذهبي] ترقيم العلميه 7690 - صحيح
هذا حديث صحيح الإسناد، ولم يُخرجاه.
[التعليق - من تلخيص الذهبي] ترقيم العلميه 7690 - صحيح
ابوبردہ بن ابی موسیٰ فرماتے ہیں: میں ابوموسیٰ کے پاس گیا، وہ اس وقت سیدنا ام فضل رضی اللہ عنہا کے گھر میں تھے۔ ام الفضل رضی اللہ عنہا کو چھینک آئی، ابوموسیٰ نے ان کو ” یرحمک اللہ “ کہہ دیا، پھر مجھے چھینک آئی تو انہوں نے مجھے ” یرحمک اللہ “ نہ کہا۔ ابوبردہ کہتے ہیں: میں اپنی والد کے پاس واپس آیا اور ان کو ساری بات سنائی، جب ابوموسیٰ گھر آئے تو میری والدہ نے ان سے کہا: تیرے پاس میرے بیٹے کو چھینک آئی، لیکن تو نے اسے ” یرحمک اللہ “ نہیں کہا۔ جبکہ تیری بیوی کو چھینک آئی تو، تو نے ” یرحمک اللہ “ کہہ دیا۔ ابوموسیٰ نے کہا: تیرے بیٹے کو چھینک آئی تھی، لیکن اس نے ” الحمدللہ “ نہیں کہا۔ اس لیے میں نے ” یرحمک اللہ “ بھی نہیں کہا۔ اور اس کو چھینک آئی تو اس نے ” الحمدللہ “ کہا، تو میں نے بھی ” یرحمک اللہ “ کہہ دیا۔ اس کی وجہ یہ ہے کہ میں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کو یہ فرماتے ہوئے سنا ہے کہ جب کسی کو چھینک آئے اور وہ ” الحمد للہ “ کہے، تو تم اس کو جواب میں ” یرحمک اللہ “ کہو۔ اور اگر وہ ” الحمد للہ “ نہ کہے تو تم بھی جواب میں ” یرحمک اللہ “ نہ کہو۔ ابوبردہ کی والدہ نے کہا: تم نے ٹھیک کیا، تم نے ٹھیک کیا۔ ٭٭ یہ حدیث صحیح الاسناد ہے لیکن امام بخاری رحمۃ اللہ علیہ اور امام مسلم رحمۃ اللہ علیہ نے اس کو نقل نہیں کیا۔ [المستدرك على الصحيحين/كتاب الأدب/حدیث: 7883]
المستدرك على الصحيحين کی حدیث نمبر 7883 پر
الشیخ عادل مرشد، ڈاکٹر احمد برہوم، ڈاکٹر محمد کامل قرہ بلی، ڈاکٹر سعید اللحام کی
تخريج وتحقيقِ محدثانہ نکات و اصطلاحی مطالعہ
الشیخ عادل مرشد، ڈاکٹر احمد برہوم، ڈاکٹر محمد کامل قرہ بلی، ڈاکٹر سعید اللحام کی
تخريج وتحقيقِ محدثانہ نکات و اصطلاحی مطالعہ
(1) إسناده قوي.
⚖️ درجۂ حدیث: اس کی سند قوی (مضبوط) ہے۔
وأخرجه أحمد (32/ 19697)، ومسلم (2992) من طرق عن القاسم بن مالك، بهذا الإسناد.
📖 حوالہ / مصدر: اسے امام احمد نے (32/ 19697) اور امام مسلم نے (2992) میں قاسم بن مالک کے مختلف طرق سے اسی سند کے ساتھ روایت کیا ہے۔