المستدرك على الصحيحين سے متعلقہ
تمام کتب
ترقیم الرسالہ
ترقيم الشرکۃ
عربی لفظ
اردو لفظ
5. تَشْمِيتُ الْعَاطِسِ إِذَا حَمِدَ اللَّهَ .
چھینکنے والے کا جواب دینا (تشمیت) جب وہ اللہ کی حمد بیان کرے
حدیث نمبر: 7881
أخبرنا أبو عبد الله محمد بن يعقوب، حَدَّثَنَا يحيى بن محمد بن يحيى، حَدَّثَنَا مُسدَّد، حَدَّثَنَا بِشر بن المُفضَّل، حَدَّثَنَا عبد الرحمن بن إسحاق، عن سعيد المَقبُري، عن أبي هريرة قال: نَهَى رسولُ الله ﷺ الناسَ أن يَجلِسوا بأفنيَةِ الصُّعُدات، قالوا: إنَّا لا نستطيعُ ذاك ولا نُطِيقُه يا رسول الله، قال:"إمَّا لا، فأَدُّوا حقها" قالوا: وما حقُّها يا رسولَ الله؟ قال:"رَدُّ التحيَّة، وتشميتُ العاطس إذا حَمِدَ الله، وغَضُّ البصر، وإرشادُ السَّبيل" (3) .
هذا حديث صحيح الإسناد، ولم يُخرجاه.
[التعليق - من تلخيص الذهبي] ترقيم العلميه 7688 - صحيح
هذا حديث صحيح الإسناد، ولم يُخرجاه.
[التعليق - من تلخيص الذهبي] ترقيم العلميه 7688 - صحيح
سیدنا ابوہریرہ رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے چوکوں، چوراہوں میں بیٹھنے سے منع فرمایا: صحابہ کرام نے عرض کیا: یا رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم ہم یہ عمل نہیں چھوڑ سکتے۔ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: اگر تم اس کے بغیر نہیں رہ سکتے تو پھر اس کا حق ادا کرو، صحابہ کرام رضی اللہ عنہم نے پوچھا: یا رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم اس کا حق کیا ہے؟ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: اس کا حق یہ ہے کہ سلام کا جواب دو، اور چھینکنے والا ” الحمد للہ “ کہے تو اس کو ” یرحمک اللہ “ کہہ کر جواب دو۔ آنکھوں کو جھکا کر رکھو، اور کوئی راستہ پوچھے تو اس کو راستہ بتلاؤ۔ ٭٭ یہ حدیث صحیح الاسناد ہے لیکن امام بخاری رحمۃ اللہ علیہ اور امام مسلم رحمۃ اللہ علیہ نے اس کو نقل نہیں کیا۔ [المستدرك على الصحيحين/كِتَابُ الْأَدَبِ/حدیث: 7881]
حدیث نمبر: 7882
أخبرنا محمد بن يعقوب الحافظ، حَدَّثَنَا يحيى بن محمد بن يحيى، حَدَّثَنَا مُسدَّد، حَدَّثَنَا بِشر بن المُفضَّل، حَدَّثَنَا عبد الرحمن بن إسحاق، عن سعيد المَقبُري، عن أبي هريرة قال: جلسَ عند النَّبِيِّ ﷺ رجلانِ أحدُهما أشرفُ من الآخَر، فعَطَسَ الشريفُ فلم يَحمَدِ الله، فلم يُشمِّته النَّبِيُّ ﷺ، ثم عَطَسَ الآخرُ فَحَمِدَ الله، فشمَّته النَّبِيُّ ﷺ، فقال الشريفُ: عَطَستُ فلم تُشمِّتْني، وعَطَسَ هذا فشمَّتَّه؟ قال:"إنَّك نسيتَ الله فنَسيتُك، وإِنَّ هذا ذكَرَ الله فذَكرتُه" (1) . صحيح الإسناد، ولم يُخرجاه.
[التعليق - من تلخيص الذهبي] ترقيم العلميه 7689 - سكت عنه الذهبي في التلخيص
[التعليق - من تلخيص الذهبي] ترقيم العلميه 7689 - سكت عنه الذهبي في التلخيص
سیدنا ابوہریرہ رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں: رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی بارگاہ میں دو آدمی بیٹھے ہوئے تھے، ایک امیر اور دوسرا غریب تھا۔ امیر آدمی کو چھینک آئی، اس نے الحمد اللہ نہ پڑھا، نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے اس کو جواب نہیں دیا۔ پھر دوسرے کو چھینک آئی، اس نے الحمد للہ کہا۔ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے اس کو ” یرحمک اللہ “ کہا۔ امیر شخص کہنے لگا: مجھے چھینک آئی تو آپ نے مجھے ” یرحمک اللہ “ نہیں کہا اور اس کو آئی تو آپ نے اس کو ” یرحمک اللہ “ کہہ دیا۔ حضور صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: تو نے اللہ تعالیٰ کو بھلا دیا، میں نے تجھے بھلا دیا، اس نے اللہ تعالیٰ کو یاد رکھا، میں نے اس کو یاد رکھا۔ ٭٭ یہ حدیث صحیح الاسناد ہے لیکن امام بخاری رحمۃ اللہ علیہ اور امام مسلم رحمۃ اللہ علیہ نے اس کو نقل نہیں کیا۔ [المستدرك على الصحيحين/كِتَابُ الْأَدَبِ/حدیث: 7882]
حدیث نمبر: 7883
حَدَّثَنَا أبو زكريا يحيى بن محمد العَنْبري، حَدَّثَنَا الحسين بن محمد بن زياد، حَدَّثَنَا يعقوب بن إبراهيم الدَّورَقي، حَدَّثَنَا القاسم بن مالك المُزَني، حَدَّثَنَا عاصم بن كُلَيب، عن أبي بُرْدة بن أبي موسى، قال: شَهِدتُ أبا موسى وهو في بيت أمِّ الفضل، فعَطَسَتْ فشمَّتها، وعطستُ فلم يُشمِّتْني، فلما جئتُ إلى أُمِّي أخبرتُها، فلما جاءها أبو موسى قالت له: عَطَسَ عندك ابني فلم تُشمِّتْه، وعطسَتِ امرأةٌ فشمَّتَها، فقال: إِنَّ ابنَك عَطَسَ فلم يَحمَدِ الله فلم أُشمَّتْه، وإِنَّها عطسَتْ فَحَمِدَتِ اللهِ فَشمَّتُّها، سمعتُ رسولَ الله ﷺ يقول:"إذا عطس أحدُكم فحَمِدَ الله فشمِّتُوه، وإذا لم يَحمَدِ الله فلا تُشمِّتُوه"، قالت: أحسنتَ أحسنتَ (1) .
هذا حديث صحيح الإسناد، ولم يُخرجاه.
[التعليق - من تلخيص الذهبي] ترقيم العلميه 7690 - صحيح
هذا حديث صحيح الإسناد، ولم يُخرجاه.
[التعليق - من تلخيص الذهبي] ترقيم العلميه 7690 - صحيح
ابوبردہ بن ابی موسیٰ فرماتے ہیں: میں ابوموسیٰ کے پاس گیا، وہ اس وقت سیدنا ام فضل رضی اللہ عنہا کے گھر میں تھے۔ ام الفضل رضی اللہ عنہا کو چھینک آئی، ابوموسیٰ نے ان کو ” یرحمک اللہ “ کہہ دیا، پھر مجھے چھینک آئی تو انہوں نے مجھے ” یرحمک اللہ “ نہ کہا۔ ابوبردہ کہتے ہیں: میں اپنی والد کے پاس واپس آیا اور ان کو ساری بات سنائی، جب ابوموسیٰ گھر آئے تو میری والدہ نے ان سے کہا: تیرے پاس میرے بیٹے کو چھینک آئی، لیکن تو نے اسے ” یرحمک اللہ “ نہیں کہا۔ جبکہ تیری بیوی کو چھینک آئی تو، تو نے ” یرحمک اللہ “ کہہ دیا۔ ابوموسیٰ نے کہا: تیرے بیٹے کو چھینک آئی تھی، لیکن اس نے ” الحمدللہ “ نہیں کہا۔ اس لیے میں نے ” یرحمک اللہ “ بھی نہیں کہا۔ اور اس کو چھینک آئی تو اس نے ” الحمدللہ “ کہا، تو میں نے بھی ” یرحمک اللہ “ کہہ دیا۔ اس کی وجہ یہ ہے کہ میں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کو یہ فرماتے ہوئے سنا ہے کہ جب کسی کو چھینک آئے اور وہ ” الحمد للہ “ کہے، تو تم اس کو جواب میں ” یرحمک اللہ “ کہو۔ اور اگر وہ ” الحمد للہ “ نہ کہے تو تم بھی جواب میں ” یرحمک اللہ “ نہ کہو۔ ابوبردہ کی والدہ نے کہا: تم نے ٹھیک کیا، تم نے ٹھیک کیا۔ ٭٭ یہ حدیث صحیح الاسناد ہے لیکن امام بخاری رحمۃ اللہ علیہ اور امام مسلم رحمۃ اللہ علیہ نے اس کو نقل نہیں کیا۔ [المستدرك على الصحيحين/كِتَابُ الْأَدَبِ/حدیث: 7883]
حدیث نمبر: 7884
أخبرني أبو بكر محمد بن أحمد بن بالَوَيهِ، حَدَّثَنَا موسى بن هارون، حَدَّثَنَا أبو الرَّبيع الحارثي ومحمد بن يحيى القُطَعي، قالا: حَدَّثَنَا زياد بن الرَّبيع، حَدَّثَنَا الحَضْرميُّ بن لاحِق، عن نافع: أنَّ رجلًا عَطَسَ عند عبد الله بن عمر فقال: الحمدُ لله والسلامُ على رسول الله، فقال ابن عمر: وأنا أقولُ: الحمدُ لله والسلامُ على رسول الله، ولكن ليس هكذا عُلِّمنا، عَلَّمَنا رسولُ الله ﷺ إذا عَطَسَ أحدُنا أن نقولَ: الحمدُ الله على كلِّ حال (2) .
هذا حديث صحيح الإسناد، غريبٌ (1) في ترجمة شيوخ نافع، ولم يُخرجاه. وقد رُويَ عن أمير المؤمنين علي بن أبي طالب ﵁ في الباب حديثانِ تفرَّد بروايتهما محمدُ بن عبد الرحمن بن أبي ليلى عن آبائه، أما الحديث الأول منهما:
[التعليق - من تلخيص الذهبي] ترقيم العلميه 7691 - صحيح غريب
هذا حديث صحيح الإسناد، غريبٌ (1) في ترجمة شيوخ نافع، ولم يُخرجاه. وقد رُويَ عن أمير المؤمنين علي بن أبي طالب ﵁ في الباب حديثانِ تفرَّد بروايتهما محمدُ بن عبد الرحمن بن أبي ليلى عن آبائه، أما الحديث الأول منهما:
[التعليق - من تلخيص الذهبي] ترقيم العلميه 7691 - صحيح غريب
سیدنا نافع فرماتے ہیں: سیدنا عبداللہ بن عمر رضی اللہ عنہما کے پاس ایک آدمی کو چھینک آئی، اس نے کہا: الحمدللہ والسلام علی رسول اللہ “ سیدنا عبداللہ بن عمر رضی اللہ عنہما نے کہا: میں بھی ” الحمد للہ والسلام علی رسول اللہ “ کو مانتا ہوں، لیکن رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے ہمیں یہ سکھایا تھا کہ جب کسی کو چھینک آئے تو ہم کہیں ” الحمد اللہ علی کل حال “۔ ٭٭ یہ حدیث نافع کے شیوخ کے ترجمہ میں صحیح الاسناد ہے، غریب المتن ہے۔ اس موضوع پر امیرالمومنین سیدنا علی ابن ابی طالب رضی اللہ عنہ دو حدیثیں مروی ہیں، ان دونوں حدیثوں کو محمد بن عبدالرحمن بن ابی لیلی اپنے آباء سے روایت کرنے میں منفرد ہیں۔ ان میں سے پہلی حدیث یہ ہے۔ [المستدرك على الصحيحين/كِتَابُ الْأَدَبِ/حدیث: 7884]
حدیث نمبر: 7885
فحدَّثَناه أبو العباس محمد بن يعقوب، حَدَّثَنَا إبراهيم بن مرزوق البصري بمصر، حَدَّثَنَا سعيد بن عامر، حَدَّثَنَا شُعبة، عن محمد بن عبد الرحمن بن أبي ليلى، عن أخيه (2) عيسى، عن أبيه عبد الرحمن بن أبي ليلى، عن أبي أيوب الأنصاري، أنَّ رسولَ الله ﷺ قال:"العاطسُ يقولُ: الحمدُ الله على كلِّ حال، ويقول الذي يُشمِّتُه: يَرحمُكمُ الله، ويردُّ عليه: يَهديكم الله ويُصلِحُ بالَكم" (3) . هذا من أَوهام محمد بن عبد الرحمن بن أبي ليلى الفقيه الأنصاري القاضي ﵀، فلولا ما ظَهَرَ من هذه الأوهام لما نسبه أئمةُ الحديث إلى سوء الحفظ، وبيانُ ما ذكرته:
سیدنا ابوایوب انصاری رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا: چھینکنے والا ” الحمدللہ علی کل حال “ کہے، اور اس کو جواب دینے والا ” یرحمک اللہ “ کہے، اور چھینکنے والا اس کے جواب میں ” یہدیکم ویصلح بالکم “ کہے۔ ٭٭ یہ محمد بن عبدالرحمن بن ابی لیلی فقیہہ انصاری قاضی رحمۃ اللہ علیہ کے اوہام میں سے ہے، اگر ان کے اوہام میں سے ایسی باتیں ظاہر نہ ہوتیں، ائمہ حدیث ان کو سوء حفظ کی جانب منسوب نہ کرتے۔ [المستدرك على الصحيحين/كِتَابُ الْأَدَبِ/حدیث: 7885]