🏠 👥 🔍 🧩 🅰️ 📌 ↩️

المستدرك على الصحيحين سے متعلقہ
تمام کتب
ترقیم الرسالہ
ترقيم الشرکۃ
عربی لفظ
اردو لفظ
حدیث کتب میں نمبر سے حدیث تلاش کریں:

ترقیم الرساله سے تلاش کل احادیث (9018)
حدیث نمبر لکھیں:
ترقیم الشركة سے تلاش کل احادیث (8909)
حدیث نمبر لکھیں:
حدیث میں عربی لفظ/الفاظ تلاش کریں
عربی لفظ / الفاظ لکھیں:
حدیث میں اردو لفظ/الفاظ تلاش کریں
اردو لفظ / الفاظ لکھیں:
46. لا تقولوا تعس الشيطان فإنه يستعظم .
یہ نہ کہو کہ "شیطان ہلاک ہو" کیونکہ اس سے وہ خود کو بڑا سمجھنے لگتا ہے
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 7987
حدَّثَناه علي بن عيسى، حدثنا أحمد بن نَجْدة القُرشي، حدثنا سعيد بن منصور، حدثنا محمد بن حُمْران، حدثنا خالد الحذَّاء، عن أبي تَمِيمة، عن أبي المَلِيح بن أسامة، عن أبيه قال: كنتُ رَدِيفَ رسولِ الله ﷺ فَعَثَرَ بعيرُنا، فقلتُ: تَعِسَ الشَّيطانُ، فقال لي النبيُّ ﷺ:"لا تقُلْ: تَعِسَ الشيطانُ، فإنه يَستعظِمُ حتى يكونَ مثلَ البيتِ ويَقْوَى، ولكن قُلْ: باسم الله، فإذا قلتَ: باسم الله، تصاغَرَ حتى يصيرَ مثلَ الذُّباب" (1) .
ابوتمیمہ روایت کرتے ہیں کہ ابوالملیح بن اسامہ اپنے والد کا یہ بیان نقل کرتے ہیں (وہ فرماتے ہیں) میں رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے پیچھے سوار تھا، ہمارا اونٹ گر گیا، میں نے کہا: اس کو شیطان نے گرایا ہے، نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے مجھے فرمایا: یہ مت کہو کہ اس کو شیطان نے گرایا ہے کیونکہ اس سے وہ بڑا ہو جاتا ہے، اور وہ ایک مکان کی طرح ہو جاتا ہے اور طاقتور ہو جاتا ہے، تم کہو بسم اللہ کیونکہ جب بسم اللہ کہو گے تو یہ چھوٹا ہوتے ہوتے مکھی جتنا ہو جائے گا۔ [المستدرك على الصحيحين/كتاب الأدب/حدیث: 7987]

المستدرك على الصحيحين کی حدیث نمبر 7987 پر
الشیخ عادل مرشد، ڈاکٹر احمد برہوم، ڈاکٹر محمد کامل قرہ بلی، ڈاکٹر سعید اللحام کی
تخريج وتحقيقِ محدثانہ نکات و اصطلاحی مطالعہ
(1) حديث صحيح، وهذا إسناد ضعيف، محمد بن حمران ليِّن الحديث، وقد سلك فيه طريق الجادة، فجعل صحابيه أسامة. وأخرجه النسائي (10313) من طريق أحمد بن عبدة، عن محمد بن حمران، بهذا الإسناد. وقال: هذا عندي خطأ.
⚖️ درجۂ حدیث: اصل حدیث صحیح ہے، لیکن یہ سند ضعیف ہے۔ 🔍 فنی نکتہ / علّت: راوی محمد بن حمران "لیّن الحدیث" (کمزور) ہیں اور انہوں نے معروف راستہ (طریقِ جادہ) اپناتے ہوئے صحابی کے طور پر حضرت اسامہ رضی اللہ عنہ کا نام ذکر کر دیا ہے۔ 📖 حوالہ / مصدر: اسے امام نسائی (10313) نے احمد بن عبدہ کے طریق سے محمد بن حمران کی اسی سند سے روایت کیا اور فرمایا: "میرے نزدیک یہ خطا ہے"۔