المستدرك على الصحيحين سے متعلقہ
تمام کتب
ترقیم الرسالہ
ترقيم الشرکۃ
عربی لفظ
اردو لفظ
46. لَا تَقُولُوا تَعِسَ الشَّيْطَانُ فَإِنَّهُ يَسْتَعْظِمُ .
یہ نہ کہو کہ "شیطان ہلاک ہو" کیونکہ اس سے وہ خود کو بڑا سمجھنے لگتا ہے
حدیث نمبر: 7985
أخبرنا الحسن بن يعقوب العَدْل، حدثنا السَّري بن خُزيمة، حدثنا عمر (3) بن حفص بن غِيَاث، حدثني أبي، حدثنا مَعبَد (4) بن خالد الأنصاري، عن أبيه، عن جابر بن عبد الله قال: دخل جَريرُ بن عبد الله على رسولِ الله ﷺ وعندَه أصحابُه، فضَنَّ كلُّ رجل بمَجلِسِه، فأخذَ رسولُ الله ﷺ رداءَه فألقاهُ إليه، فتلقَّاه بنَحْرِه ووجهِه فقبَّله ووَضَعَه على عينه، وقال: أكرمَكَ الله كما أكرمتَني، ثم وَضَعَه على ظَهرِ رسولِ الله ﷺ، فقال رسول الله ﷺ:"مَن كان يُؤْمِنُ بالله واليوم الآخر، فإذا أتاه كريمُ قومٍ [فليُكرِمه] (1) " (2) .
هذا حديث صحيح الإسناد، ولم يُخرجاه بهذه السِّياقة.
[التعليق - من تلخيص الذهبي] ترقيم العلميه 7791 - سكت عنه الذهبي في التلخيص
هذا حديث صحيح الإسناد، ولم يُخرجاه بهذه السِّياقة.
[التعليق - من تلخيص الذهبي] ترقيم العلميه 7791 - سكت عنه الذهبي في التلخيص
سیدنا جابر بن عبداللہ رضی اللہ عنہما فرماتے ہیں: سیدنا جریر بن عبداللہ رضی اللہ عنہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی بارگاہ میں حاضر ہوئے، اس وقت حضور صلی اللہ علیہ وسلم کے صحابہ کرام رضی اللہ عنہم بھی حضور صلی اللہ علیہ وسلم کے ساتھ تھے، اور ہر شخص مجلس میں اپنی جگہ پر جم کر بیٹھا ہوا تھا، رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے اپنی چادر اس کی طرف پھینکی، انہوں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی چادر مبارک کو چوم کر سینے اور آنکھوں سے لگایا، پھر عرض کی: جیسے آپ نے مجھے عزت بخشی ہے، اللہ تعالیٰ آپ کو بھی عزت بخشے، پھر سیدنا جریر رضی اللہ عنہ نے وہ چادر رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے کندھوں پر ڈال دی، رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: جو شخص اللہ اور اس کے رسول پر ایمان رکھتا ہے، جب اس کے پاس کسی قوم کا باعزت شخص آئے، اس کو چاہیے کہ وہ اس کو عزت دے۔ ٭٭ یہ حدیث صحیح الاسناد ہے لیکن امام بخاری رحمۃ اللہ علیہ اور امام مسلم رحمۃ اللہ علیہ نے اس کو اس اسناد کے ہمراہ نقل نہیں کیا۔ [المستدرك على الصحيحين/كِتَابُ الْأَدَبِ/حدیث: 7985]
حدیث نمبر: 7986
حدثنا علي بن حَمْشاذ العَدْل، حدثنا أبو المثنّى، حدثنا مُسدَّد، حدثنا يزيد بن زُرَيع، حدثنا، خالد، عن أبي تَمِيمة (3) ، عن رَدِيفِ رسولِ الله ﷺ: أنه عَثَرَت به دابَّتُه فقال: تَعِسَ الشيطانُ! فقال رسول الله ﷺ:"لا تقُلْ: تَعِسَ الشيطانُ، فإنك إذا قلتَ: تَعِسَ الشيطانُ، تعاظَمَ، وقال: بقوّتي صَرَعتُه، وإذا قيل: باسم الله، خَنَسَ حتى يصيرَ مثلَ الذُّباب (4) .
هذا حديث صحيح الإسناد، ولم يُخرجاه. ورديفُ رسول الله ﷺ الذي لم يُسمِّه يزيدُ بن زُرَيع عن خالد، سمَّاه غيرُه أسامةَ بن مالك والدَ أبي المَلِيح بن أسامة.
[التعليق - من تلخيص الذهبي] ترقيم العلميه 7792 - صحيح
هذا حديث صحيح الإسناد، ولم يُخرجاه. ورديفُ رسول الله ﷺ الذي لم يُسمِّه يزيدُ بن زُرَيع عن خالد، سمَّاه غيرُه أسامةَ بن مالك والدَ أبي المَلِيح بن أسامة.
[التعليق - من تلخيص الذهبي] ترقيم العلميه 7792 - صحيح
ابوتمیمہ بیان کرتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے ردیف (پیچھے سواری کرنے والے) کے بارے میں مروی ہے کہ ان کا گھوڑا پھسل گیا انہوں نے کہا: شیطان نے پھسلا دیا۔ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا: تم یہ مت کہو شیطان نے پھسلایا ہے کیونکہ اگر تم یہ کہو گے کہ اس کو شیطان نے پھسلایا ہے، تو اس سے شیطان بڑا ہو جاتا ہے، اور کہتا ہے: میں نے اپنی قوت کے ساتھ اس کو پچھاڑ دیا ہے۔ اور جب ”بسم اللہ“ پڑھ لی جائے تو وہ سکڑ کر مکھی کی مثل ہو جاتا ہے۔ ٭٭ یہ حدیث صحیح الاسناد ہے لیکن امام بخاری رحمۃ اللہ علیہ اور امام مسلم رحمۃ اللہ علیہ نے اس کو نقل نہیں کیا۔ یزید بن زریع نے خالد سے روایت کرتے ہوئے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے جس ردیف کا نام ذکر نہیں کیا تھا، دیگر محدثین نے ان کا نام ”اسامہ بن مالک “ ذکر کیا ہے، وہ ابوالملیح بن اسامہ کے والد ہیں۔ [المستدرك على الصحيحين/كِتَابُ الْأَدَبِ/حدیث: 7986]
حدیث نمبر: 7987
حدَّثَناه علي بن عيسى، حدثنا أحمد بن نَجْدة القُرشي، حدثنا سعيد بن منصور، حدثنا محمد بن حُمْران، حدثنا خالد الحذَّاء، عن أبي تَمِيمة، عن أبي المَلِيح بن أسامة، عن أبيه قال: كنتُ رَدِيفَ رسولِ الله ﷺ فَعَثَرَ بعيرُنا، فقلتُ: تَعِسَ الشَّيطانُ، فقال لي النبيُّ ﷺ:"لا تقُلْ: تَعِسَ الشيطانُ، فإنه يَستعظِمُ حتى يكونَ مثلَ البيتِ ويَقْوَى، ولكن قُلْ: باسم الله، فإذا قلتَ: باسم الله، تصاغَرَ حتى يصيرَ مثلَ الذُّباب" (1) .
ابوتمیمہ روایت کرتے ہیں کہ ابوالملیح بن اسامہ اپنے والد کا یہ بیان نقل کرتے ہیں (وہ فرماتے ہیں) میں رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے پیچھے سوار تھا، ہمارا اونٹ گر گیا، میں نے کہا: اس کو شیطان نے گرایا ہے، نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے مجھے فرمایا: یہ مت کہو کہ ” اس کو شیطان نے گرایا ہے “ کیونکہ اس سے وہ بڑا ہو جاتا ہے، اور وہ ایک مکان کی طرح ہو جاتا ہے اور طاقتور ہو جاتا ہے، تم کہو ”بسم اللہ“ کیونکہ جب بسم اللہ کہو گے تو یہ چھوٹا ہوتے ہوتے مکھی جتنا ہو جائے گا۔ [المستدرك على الصحيحين/كِتَابُ الْأَدَبِ/حدیث: 7987]
حدیث نمبر: 7988
أخبرنا الأستاذ أبو الوليد وأبو عمرو الحِيري وأبو بكر بن قُريش، قالوا: حدثنا الحسن بن سفيان حدثنا عمر (1) بن حفص الشَّيباني، حدثنا عبد الله بن وهب، أخبرني عبد الجبار بن عمر الأَيْلي، عن محمد بن المُنكدِر، عن جابر قال: كان رسولُ الله ﷺ، إِذا مَشَى لم يَلتفِت (2) . قال الحاكم: لا أعلم أحدًا رواه عن محمد بن المنكدِر غير عبد الجبار.
[التعليق - من تلخيص الذهبي] ترقيم العلميه 7794 - عبد الجبار بن عمر تالف
[التعليق - من تلخيص الذهبي] ترقيم العلميه 7794 - عبد الجبار بن عمر تالف
سیدنا جابر رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں: رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم جب چلتے تو ادھر ادھر نہیں دیکھا کرتے تھے۔ ٭٭ امام حاکم کہتے ہیں: مجھے نہیں معلوم کہ یہ حدیث محمد بن منکدر سے عبدالجبار کے علاوہ کسی نے روایت کی ہو۔ [المستدرك على الصحيحين/كِتَابُ الْأَدَبِ/حدیث: 7988]