🏠 👥 🔍 🧩 🅰️ 📌 ↩️

المستدرك على الصحيحين سے متعلقہ
تمام کتب
ترقیم الرسالہ
ترقيم الشرکۃ
عربی لفظ
اردو لفظ
حدیث کتب میں نمبر سے حدیث تلاش کریں:

ترقیم الرساله سے تلاش کل احادیث (9018)
حدیث نمبر لکھیں:
ترقیم الشركة سے تلاش کل احادیث (8909)
حدیث نمبر لکھیں:
حدیث میں عربی لفظ/الفاظ تلاش کریں
عربی لفظ / الفاظ لکھیں:
حدیث میں اردو لفظ/الفاظ تلاش کریں
اردو لفظ / الفاظ لکھیں:
46. لا تقولوا تعس الشيطان فإنه يستعظم .
یہ نہ کہو کہ "شیطان ہلاک ہو" کیونکہ اس سے وہ خود کو بڑا سمجھنے لگتا ہے
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 7988
أخبرنا الأستاذ أبو الوليد وأبو عمرو الحِيري وأبو بكر بن قُريش، قالوا: حدثنا الحسن بن سفيان حدثنا عمر (1) بن حفص الشَّيباني، حدثنا عبد الله بن وهب، أخبرني عبد الجبار بن عمر الأَيْلي، عن محمد بن المُنكدِر، عن جابر قال: كان رسولُ الله ﷺ، إِذا مَشَى لم يَلتفِت (2) . قال الحاكم: لا أعلم أحدًا رواه عن محمد بن المنكدِر غير عبد الجبار.
[التعليق - من تلخيص الذهبي] ترقيم العلميه 7794 - عبد الجبار بن عمر تالف
سیدنا جابر رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں: رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم جب چلتے تو ادھر ادھر نہیں دیکھا کرتے تھے۔ ٭٭ امام حاکم کہتے ہیں: مجھے نہیں معلوم کہ یہ حدیث محمد بن منکدر سے عبدالجبار کے علاوہ کسی نے روایت کی ہو۔ [المستدرك على الصحيحين/كتاب الأدب/حدیث: 7988]

المستدرك على الصحيحين کی حدیث نمبر 7988 پر
الشیخ عادل مرشد، ڈاکٹر احمد برہوم، ڈاکٹر محمد کامل قرہ بلی، ڈاکٹر سعید اللحام کی
تخريج وتحقيقِ محدثانہ نکات و اصطلاحی مطالعہ
(1) تحرف في النسخ الخطية إلى: عمرو.
📝 نوٹ / توضیح: قلمی نسخوں میں یہاں تحریف ہوئی ہے اور غلطی سے "عمرو" لکھا گیا تھا۔
(2) إسناده ضعيف جدًّا من أجل عبد الجبار بن عمر الأيلي، قال أبو حاتم: حديث منكر، وضعّف عبدَ الجبار، وجعله ابن حبان من منكراته في كتابه "المجروحين"، وقال: كان رديء الحفظ ممن يأتي بالمعضلات عن الثقات، لا يجوز الاحتجاج به إلَّا فيما وافق الثقات، وبه أعلَّه الذهبي في "التلخيص" فقال: عبد الجبار تالف.
⚖️ درجۂ حدیث: اس کی سند عبد الجبار بن عمر الایلی کی وجہ سے "انتہائی ضعیف" ہے۔ 🔍 فنی نکتہ / علّت: امام ابو حاتم نے اسے "منکر" قرار دیا اور عبد الجبار کو ضعیف کہا۔ ابن حبان نے "المجروحین" میں اسے عبد الجبار کی منکر روایات میں شمار کیا اور کہا کہ وہ برے حافظے والا تھا اور ثقہ راویوں کے واسطے سے "معضل" (سخت منقطع) روایتیں لاتا تھا، لہٰذا اس سے صرف وہی بات لی جائے گی جو دیگر ثقہ راویوں کے موافق ہو۔ امام ذہبی نے "التلخیص" میں اسے "تالف" (بالکل بیکار/سخت ضعیف) قرار دیا ہے۔
وأخرجه ابن سعد في الطبقات 1/ 326، والحكيم الترمذي في "نوادر الأصول" (89)، وابن أبي حاتم في "العلل" (2235)، وابن حبان في "المجروحين" 2/ 159، والطبراني في "الأوسط" (3216) و (9014) من طرق عن عبد الجبار بن عمر بهذا الإسناد. وزادوا فيه وكان ربما تعلَّق رداؤه في الشجرة أو الشيء فلا يلتفتُ حتى يرفعوه عليه، وكانوا يضحكون ويمزحون، وكانوا قد أمِنوا التفاتَه.
📖 حوالہ / مصدر: اسے ابن سعد (الطبقات 1/ 326)، حکیم ترمذی (نوادر الاصول: 89)، ابن ابی حاتم (العلل: 2235)، ابن حبان (المجروحین 2/ 159) اور طبرانی (الاوسط: 3216، 9014) نے عبد الجبار بن عمر کی اسی سند سے روایت کیا ہے۔ 🧾 تفصیلِ روایت: ان روایات میں یہ اضافہ بھی ہے کہ بسا اوقات آپ ﷺ کی چادر کسی درخت یا کسی چیز میں اٹک جاتی تو آپ ﷺ مڑ کر نہ دیکھتے جب تک کہ صحابہ اسے خود نہ ہٹا دیتے، اور صحابہ (آپس میں) ہنستے اور مذاق کرتے تھے کیونکہ انہیں اطمینان ہوتا تھا کہ آپ ﷺ مڑ کر نہیں دیکھیں گے۔
وفي الباب عن أبي هريرة عند البخاري (155)، وفيه: اتبعت النبي ﷺ وخرج لحاجته فكان لا يلتفت فدنوت منه. وعن ابن عباس عند البزار (2391 - كشف الأستار) بلفظ: أنَّ رسول الله ﷺ إذا مشى لم يلتفت، يعرف في مشيته أنه غير كَسِل ولا وَهِن وسنده ضعيف، فقد خالف أحد رواته وهو محمدُ بن راشد من هو أحفظ منه وأكثر عددًا، خالفهم في السند والمتن، والصواب فيه: عن رجل عن ابن عباس، كما أنَّ الصواب في متنه: وإذا مشى مشى مجتمعًا.
🧩 متابعات و شواہد: اس باب میں حضرت ابو ہریرہ رضی اللہ عنہ سے صحیح بخاری (155) میں روایت ہے کہ: "میں نبی ﷺ کے پیچھے چلا جب آپ ﷺ حاجت کے لیے نکلے، آپ ﷺ مڑ کر نہیں دیکھ رہے تھے، پھر میں آپ ﷺ کے قریب ہوا"۔ 🔍 فنی نکتہ / علّت: حضرت ابن عباس رضی اللہ عنہما سے مروی بزار (2391) کی روایت کہ "آپ ﷺ چلتے ہوئے مڑ کر نہیں دیکھتے تھے اور آپ ﷺ کی چال سے چستی ظاہر ہوتی تھی"، اس کی سند ضعیف ہے۔ اس کے ایک راوی محمد بن راشد نے اپنے سے زیادہ حافظے والے اور کثیر راویوں کی مخالفت کی ہے۔ صحیح بات یہ ہے کہ یہ "عن رجل عن ابن عباس" ہے اور متن میں صحیح الفاظ "مشى مجتمعاً" (قوت کے ساتھ چلنا) ہیں۔
هذا وليس عدم التفاته ﷺ على إطلاقه، بل كان يلتفت ﷺ أحيانًا، لكن كان إذا التفت التفت جميعًا، كما في حديث علي بن أبي طالب عند أحمد 2/ (684) وغيره، ورواه جمع من الصحابة لا يخلو إسناد منها من ضعف.
📌 اہم نکتہ: آپ ﷺ کا مڑ کر نہ دیکھنا مطلق (ہمیشہ کے لیے) نہیں تھا، بلکہ آپ ﷺ کبھی کبھار مڑ کر دیکھتے بھی تھے، لیکن جب مڑتے تو پورے وجود کے ساتھ مڑتے (یعنی صرف گردن نہیں گھماتے تھے)۔ 📖 حوالہ / مصدر: یہ بات حضرت علی رضی اللہ عنہ کی حدیث (مسند احمد 2/ 684) اور دیگر صحابہ سے مروی ہے، اگرچہ ان میں سے کوئی بھی سند ضعف سے خالی نہیں ہے۔