🏠 👥 🔍 🧩 🅰️ 📌 ↩️

المستدرك على الصحيحين سے متعلقہ
تمام کتب
ترقیم الرسالہ
ترقيم الشرکۃ
عربی لفظ
اردو لفظ
حدیث کتب میں نمبر سے حدیث تلاش کریں:

ترقیم الرساله سے تلاش کل احادیث (9018)
حدیث نمبر لکھیں:
ترقیم الشركة سے تلاش کل احادیث (8909)
حدیث نمبر لکھیں:
حدیث میں عربی لفظ/الفاظ تلاش کریں
عربی لفظ / الفاظ لکھیں:
حدیث میں اردو لفظ/الفاظ تلاش کریں
اردو لفظ / الفاظ لکھیں:
7. لا نذر فى معصية الرب ولا فى قطيعة الرحم
اللہ کی معصیت اور قطع رحمی میں کوئی نذر (ماننا) جائز نہیں
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 8019
حدثنا محمد بن صالح بن هانئ حدثنا يحيى بن محمد بن يحيى، حدثنا الحَكَم بن موسى، حدثنا الهيثم بن حُمَيد، عن زيد بن واقد، عن بُسْر بن عُبيد الله، عن ابن عائذ، عن أبي الدَّرداء، عن النبيِّ ﷺ؛ قال: أفاءَ الله على رسولِه إبلًا ففرَّقها، فقال أبو موسى الأشعريُّ: يا رسولَ الله، أَحْذِني، قال:"لا"، فقال له ثلاثًا، فقال رسول الله ﷺ:"لا أفعلُ (2) "، قال: وبقي أربعٌ غُرُّ الذُّرَى فقال:"يا أبا موسى، خُذْهُنَّ" فقال: يا رسولَ الله، إني أستَحْيي [سألتُك] (3) فمنعتَني وحلفتَ، فأشفقتُ أن يكونَ دخلَ على رسول الله ﷺ وهمٌ، فقال رسول الله ﷺ:"إنِّي إذا حلفتُ فرأيتُ أنَّ غيرَ ذلك أفضلُ، كفَّرتُ عن يميني وأَتيتُ الذي هو أفضلُ" (4) .
هذا حديث صحيح على شرط الشيخين، ولم يُخرجاه.
[التعليق - من تلخيص الذهبي] ترقيم العلميه 7825 - على شرط البخاري ومسلم
سیدنا ابوالدرداء رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں کہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا: اللہ تعالیٰ نے اپنے رسول کو مال غنیمت کے طور پر اونٹ عطا فرمائے تھے، اور اس نے وہ تقسیم کر دئیے ہیں، سیدنا ابوموسیٰ اشعری نے کہا: یا رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم ایک مجھے بھی عطا فرما دیجئے، حضور صلی اللہ علیہ وسلم نے انکار فرما دیا، سیدنا ابوموسیٰ نے تین مرتبہ عرض کی، حضور صلی اللہ علیہ وسلم نے ہر مرتبہ منع فرما دیا۔ راوی کہتے ہیں: چار بچے باقی بچ گئے، حضور صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: اے ابوموسیٰ! یہ لے لو، سیدنا ابوموسیٰ نے عرض کی: یا رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم اب تو مجھے حیاء آ رہی ہے، میں نے پہلے آپ سے مانگا تو آپ نے منع فرما دیا تھا اس لیے میں قسم کھا لی، مجھے یہ ڈر تھا کہ شاید رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کو میرے بارے میں کوئی غلط فہمی ہو گئی ہے، رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: جب میں کوئی قسم کھا لیتا ہوں، لیکن دیکھتا ہوں کہ اس کے خلاف کام کرنا زیادہ افضل ہے تو میں افضل کام کر لیتا ہوں اور قسم کا کفارہ دے دیتا ہوں۔ ٭٭ یہ حدیث امام بخاری رحمۃ اللہ علیہ اور امام مسلم رحمۃ اللہ علیہ کے معیار کے مطابق صحیح ہے لیکن شیخین رحمۃ اللہ علیہما نے اس کو نقل نہیں کیا۔ [المستدرك على الصحيحين/كتاب الأيمان والنذور/حدیث: 8019]

المستدرك على الصحيحين کی حدیث نمبر 8019 پر
الشیخ عادل مرشد، ڈاکٹر احمد برہوم، ڈاکٹر محمد کامل قرہ بلی، ڈاکٹر سعید اللحام کی
تخريج وتحقيقِ محدثانہ نکات و اصطلاحی مطالعہ
(2) كذا وقع في نسخ "المستدرك"، بلا قسم فيه، وعند الذين أخرجوا الحديث ذكرُ القسم، وهو الصواب، إذ هو موضع الشاهد من الحديث.
📝 نوٹ / توضیح: "مستدرک" کے نسخوں میں یہ روایت اسی طرح بغیر قسم (حلف) کے نقل ہوئی ہے، جبکہ دیگر ائمہ جنہوں نے اس کی تخریج کی ہے، انہوں نے قسم کا ذکر کیا ہے اور وہی درست ہے، کیونکہ وہی حدیث کا اصل محلِ شاہد ہے۔
(3) من "تلخيص الذهبي".
📖 حوالہ / مصدر: یہ اضافہ امام ذہبی کی "تلخیص الذہبی" سے لیا گیا ہے۔
(4) صحيح لغيره، وهذا إسناد حسن من أجل الحكم بن موسى وشيخه الهيثم بن حميد. وابنُ عائذ: هو أبو إدريس الخَولاني كما جاء مصرَّحًا به في رواية الطبراني، وقد اختلف في اسمه، فقيل: عائذ الله بن عبد الله، ويقال فيه: عيِّذ الله بن إدريس بن عائذ، كما قال الذهبي في "سير النبلاء" 4/ 272.
⚖️ درجۂ حدیث: یہ روایت شواہد کی بنا پر "صحیح لغیرِہ" ہے، جبکہ یہ سند حکم بن موسیٰ اور ان کے شیخ ہیثم بن حمید کی وجہ سے "حسن" درجے کی ہے۔ 🔍 فنی نکتہ / علّت: ابن عائذ سے مراد "ابو ادریس الخولانی" ہیں جیسا کہ طبرانی کی روایت میں اس کی صراحت موجود ہے۔ ان کے نام میں اختلاف پایا جاتا ہے: ایک قول کے مطابق ان کا نام عائذ اللہ بن عبد اللہ ہے، اور بعض نے عیذ اللہ بن ادریس بن عائذ کہا ہے، جیسا کہ امام ذہبی نے "سیر اعلام النبلاء" (4/272) میں ذکر کیا ہے۔
وقد انبهم أمرُه على الحافظ ابن حجر فترجم له في إتحاف المهرة 12/ 609: ابن عائذ عن أبي الدرداء، ولم ينسبه! مع أنَّ البخاري وغيره قد رووا بهذه السلسلة يعني زيد بن واقد عن بسر عن أبي إدريس عن أبي الدرداء - غير ما حديث واعتبره البعض عبد الرحمن بن عائذ كما في "أطراف الغرائب" للمقدسي (4666)، وهذا بعيد، فهذه السلسلة معروفة كما تقدَّم، أضف إلى ذلك أنه لا يعرف رواية له عن أبي الدرداء، ولا يعرف لبسر رواية عن عبد الرحمن بن عائد.
🔍 فنی نکتہ / علّت: اس راوی کی پہچان حافظ ابن حجر پر پوشیدہ رہی، چنانچہ انہوں نے "اتحاف المہرہ" (12/609) میں "ابن عائذ عن ابی الدرداء" کے تحت ترجمہ تو لکھا مگر ان کی نسبت واضح نہیں کی! حالانکہ امام بخاری وغیرہ نے اسی سند "زید بن واقد عن بسر بن عبید اللہ عن ابی ادریس الخولانی عن ابی الدرداء" سے کئی احادیث روایت کی ہیں۔ بعض نے انہیں "عبد الرحمن بن عائذ" قرار دیا ہے جیسا کہ مقدسی کی "اطراف الغرائب" (4666) میں ہے، مگر یہ بعید ہے کیونکہ مذکورہ بالا سلسلہ سند معروف ہے، مزید یہ کہ عبد الرحمن بن عائذ کی حضرت ابو الدرداء سے اور بسر کی عبد الرحمن بن عائذ سے روایت معروف نہیں ہے۔
وأخرجه أبو عوانة في "صحيحه" (5955) و (5960)، والطبراني في "مسند الشاميين" (1301)، والبيهقي 10/ 52 من طرق عن الحكم بن موسى، بهذا الإسناد. وعند الطبراني: أبو إدريس مكان ابن عائذ.
📖 حوالہ / مصدر: اس کی تخریج ابو عوانہ نے اپنی "صحیح" (5955 اور 5960)، طبرانی نے "مسند الشامیین" (1301) اور بیہقی نے (10/52) میں حکم بن موسیٰ کے مختلف طرق سے اسی سند کے ساتھ کی ہے۔ طبرانی کی روایت میں "ابن عائذ" کی جگہ "ابو ادریس" (ابو ادریس الخولانی) مذکور ہے۔
وقد ورد هذا الحديث من حديث أبي موسى الأشعري نفسه عند البخاري (3133)، ومسلم (1649).
🧾 تفصیلِ روایت: یہ حدیث خود حضرت ابو موسیٰ اشعری رضی اللہ عنہ سے بھی مروی ہے جسے امام بخاری (3133) اور امام مسلم (1649) نے روایت کیا ہے۔
قوله: "أحْذِني" رباعي، أي: أعطني. وفي لغة حَذَاه، فيكون من الفعل الثلاثي.
📝 نوٹ / توضیح: متن میں لفظ "أحْذِني" بابِ افعال (رباعی) سے ہے جس کا معنی ہے "مجھے عطا کر"۔ ایک لغت میں یہ "حَذَاہ" بھی استعمال ہوتا ہے جو کہ ثلاثی مجرد ہے۔
و"غُرُّ الذُّرى": بيض الأسنمة.
📝 نوٹ / توضیح: "غُرُّ الذُّرى" سے مراد سفید کوہان والے (اونٹ) ہیں۔