🏠 👥 🔍 🧩 🅰️ 📌 ↩️

المستدرك على الصحيحين سے متعلقہ
تمام کتب
ترقیم الرسالہ
ترقيم الشرکۃ
عربی لفظ
اردو لفظ
حدیث کتب میں نمبر سے حدیث تلاش کریں:

ترقیم الرساله سے تلاش کل احادیث (9018)
حدیث نمبر لکھیں:
ترقیم الشركة سے تلاش کل احادیث (8909)
حدیث نمبر لکھیں:
حدیث میں عربی لفظ/الفاظ تلاش کریں
عربی لفظ / الفاظ لکھیں:
حدیث میں اردو لفظ/الفاظ تلاش کریں
اردو لفظ / الفاظ لکھیں:
15. ازهد فى الدنيا يحبك الله
دنیا سے بے رغبتی اختیار کرو، اللہ تم سے محبت کرے گا
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 8071
حدثنا أبو بكر محمد بن جعفر الأَدَمي القارئ ببغداد، حدثنا أبو جعفر أحمد بن عُبيد بن ناصح، حدثنا خالد بن عمرو القُرشي، حدثنا سفيان الثَّوري، عن أبي حازم، عن سَهْل بن سعد: أن النبيَّ ﷺ وَعَظَ رجلًا فقال:"ارْهَدْ في الدنيا يُحبّك الله ﷿، وازهَدْ فيما في أيدي الناسِ يُحبَّك الناسُ" (2) .
هذا حديث صحيح الإسناد، ولم يُخرجاه.
[التعليق - من تلخيص الذهبي] ترقيم العلميه 7873 - خالد بن عمرو القرشي وضاع
سیدنا سہل بن سعد رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں کہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم ایک آدمی کو نصیحت فرما رہے تھے، آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: دنیا میں بے رغبتی اختیار کر، اللہ تعالیٰ تجھ سے محبت کرے گا۔ اور ان چیزوں سے بے رغبتی اختیار کر جو لوگوں کے پاس ہے، لوگ بھی تجھ سے محبت کریں گے۔ ٭٭ یہ حدیث صحیح الاسناد ہے لیکن امام بخاری رحمۃ اللہ علیہ اور امام مسلم رحمۃ اللہ علیہ نے اس کو نقل نہیں کیا۔ [المستدرك على الصحيحين/كتاب الرقاق/حدیث: 8071]

المستدرك على الصحيحين کی حدیث نمبر 8071 پر
الشیخ عادل مرشد، ڈاکٹر احمد برہوم، ڈاکٹر محمد کامل قرہ بلی، ڈاکٹر سعید اللحام کی
تخريج وتحقيقِ محدثانہ نکات و اصطلاحی مطالعہ
(2) إسناده تالف، خالد بن عمرو القرشي متهم بالكذب وبه أعلَّه الذهبي في "التلخيص" فقال: خالد وضَّاع. قلنا: وأحمد بن عبيد بن ناصح ليِّن الحديث، لكنه توبع.
⚖️ درجۂ حدیث: اس کی سند تباہ کن (تالف) ہے۔ 🔍 فنی نکتہ / علّت: خالد بن عمرو القرشی پر جھوٹ کا الزام (متہم بالکذب) ہے، اسی وجہ سے ذہبی نے ’التلخیص‘ میں اسے معلول قرار دیا اور کہا: "خالد گھڑنے والا (وضاع) ہے۔" ہم کہتے ہیں: (سند کا دوسرا راوی) احمد بن عبید بن ناصح حدیث میں نرم (لّین) ہے، لیکن اس کی متابعت موجود ہے۔
وأخرجه ابن ماجه (4102) من طريق شهاب بن عباد عن خالد بن عمرو القرشي، بهذا الإسناد.
📖 حوالہ / مصدر: اسے ابن ماجہ (4102) نے شہاب بن عباد کے طریق سے خالد بن عمرو القرشی سے اسی سند کے ساتھ تخریج کیا ہے۔