المستدرك على الصحيحين سے متعلقہ
تمام کتب
ترقیم الرسالہ
ترقيم الشرکۃ
عربی لفظ
اردو لفظ
6. ميراث الإخوة من الأب والأم
سگے بھائیوں اور بہنوں کی میراث کا بیان
حدیث نمبر: 8158
حدثنا أبو العباس محمد بن يعقوب، حدثنا بَحْر بن نَصر، حدثنا عبد الله بن وهب، أخبرني ابن أبي الزِّناد، عن أبيه، عن خارجة بن زيد بن ثابت، عن أبيه قال: مِيراثُ الإخوة من الأب والأمِّ أنَّهم لا يَرِثُون معَ الولد الذَّكر، ولا معَ ولدِ الابن ولا معَ الأبِ شيئًا (2) .
هذا حديث صحيح على شرط الشيخين ولم يُخرجاه، وقد اتَّفقا على غير حديثٍ مثل هذا من فَتَوى زيد بن ثابت ﵀.
[التعليق - من تلخيص الذهبي] ترقيم العلميه 7959 - على شرط البخاري ومسلم
هذا حديث صحيح على شرط الشيخين ولم يُخرجاه، وقد اتَّفقا على غير حديثٍ مثل هذا من فَتَوى زيد بن ثابت ﵀.
[التعليق - من تلخيص الذهبي] ترقيم العلميه 7959 - على شرط البخاري ومسلم
سیدنا زید بن ثابت رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں: سگے بہن بھائیوں کی وراثت کا حکم یہ ہے کہ مرنے والے کی اولاد میں اگر کوئی لڑکا موجود ہو یا اس کا باپ موجود ہو تو بھائیوں کو کچھ نہیں ملتا۔ ٭٭ یہ حدیث امام بخاری رحمۃ اللہ علیہ اور امام مسلم رحمۃ اللہ علیہ کے معیار کے مطابق صحیح ہے لیکن شیخین رحمۃ اللہ علیہما نے اس کو نقل نہیں کیا۔ تاہم امام بخاری رحمۃ اللہ علیہ اور امام مسلم رحمۃ اللہ علیہ نے ایک اور حدیث بیان کی ہے جس میں سیدنا زید بن ثابت رضی اللہ عنہ کا یہ فتویٰ موجود ہے۔ [المستدرك على الصحيحين/كتاب الفرائض/حدیث: 8158]
المستدرك على الصحيحين کی حدیث نمبر 8158 پر
الشیخ عادل مرشد، ڈاکٹر احمد برہوم، ڈاکٹر محمد کامل قرہ بلی، ڈاکٹر سعید اللحام کی
تخريج وتحقيقِ محدثانہ نکات و اصطلاحی مطالعہ
الشیخ عادل مرشد، ڈاکٹر احمد برہوم، ڈاکٹر محمد کامل قرہ بلی، ڈاکٹر سعید اللحام کی
تخريج وتحقيقِ محدثانہ نکات و اصطلاحی مطالعہ
(2) إسناده حسن من أجل ابن أبي الزناد: وهو عبد الرحمن.
⚖️ درجۂ حدیث: اس کی سند ابن ابی الزناد (عبدالرحمن) کی وجہ سے "حسن" ہے۔
وأخرجه ضمن خبر الفرائض المطول: سعيد بن منصور في "سننه" (5)، وأخرجه ابن المنذر في "الأوسط" (6847)، والبيهقي في "السنن الكبرى" 6/ 225 و 232، وفي "معرفة السنن" (12531) و (12532) من طريق محمد بن بكار، كلاهما (سعيد ومحمد) عن عبد الرحمن بن أبي الزناد، بهذا الإسناد.
📖 حوالہ / مصدر: اسے فرائض کی طویل حدیث کے ضمن میں سعید بن منصور نے "سنن" (5) میں؛ ابن المنذر نے "الاوسط" (6847) میں؛ اور بیہقی نے "السنن الکبریٰ" (6/ 225، 232) اور "معرفۃ السنن" (12531، 12532) میں محمد بن بکار کے طریق سے روایت کیا۔ یہ دونوں (سعید اور محمد) اسے عبدالرحمن بن ابی الزناد سے اسی سند کے ساتھ روایت کرتے ہیں۔