🏠 👥 🔍 🧩 🅰️ 📌 ↩️

المستدرك على الصحيحين سے متعلقہ
تمام کتب
ترقیم الرسالہ
ترقيم الشرکۃ
عربی لفظ
اردو لفظ
حدیث کتب میں نمبر سے حدیث تلاش کریں:

ترقیم الرساله سے تلاش کل احادیث (9018)
حدیث نمبر لکھیں:
ترقیم الشركة سے تلاش کل احادیث (8909)
حدیث نمبر لکھیں:
حدیث میں عربی لفظ/الفاظ تلاش کریں
عربی لفظ / الفاظ لکھیں:
حدیث میں اردو لفظ/الفاظ تلاش کریں
اردو لفظ / الفاظ لکھیں:

6. مِيرَاثُ الْإِخْوَةِ مِنَ الْأَبِ وَالْأُمِّ
سگے بھائیوں اور بہنوں کی میراث کا بیان
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 8156
حدثنا أبو بكر بن إسحاق الفقيه، أخبرنا محمد بن أيوب، أخبرنا موسى بن إسماعيل، حدثنا الرَّبيع بن بَدْر، عن أبيه، عن جدِّه، عن أبي موسى الأشعري، أن النبي ﷺ قال:"الاثنان فما فوقهما جَمَاعَةٌ" (1) .
سیدنا ابوموسیٰ اشعری رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں کہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا: دو اور دو سے زیادہ پر جماعت کا اطلاق ہوتا ہے۔ [المستدرك على الصحيحين/كِتَابُ الْفَرَائِضِ/حدیث: 8156]

مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 8157
أخبرنا أبو عبد الله محمد بن عبد الله الزاهد الأصبهاني، حدثنا أَسِيد بن عاصم، حدثنا الحسين بن حفص، حدثنا سفيان، عن أبي قيس الأَوْدي، عن هُزَيل بن شُرَحبيل، قال: أتيتُ أبا موسى وسلمان بن رَبِيعة في ابنةٍ، وابنةِ ابنٍ، وأختٍ لأب وأمّ، فقالا: للابنة النِّصفُ، وللأختِ النَّصفُ، وقالا: ائتِ ابنَ مسعود فإنه سيتابعُنا، فأتيتُ ابن مسعود فأخبرتُه بما قالا، فقال ابن مسعود: لقد ضَلَلتُ إذًا وما أنا من المُهتَدِين، ولكني أَقضي بما قَضَى به رسولُ الله ﷺ: للابنة النِّصفُ، ولابنة الابنِ السُّدسُ، وما بقيَ فللأخت (1) .
هذا حديث صحيح على شرط الشيخين.
[التعليق - من تلخيص الذهبي] ترقيم العلميه 7958 - على شرط البخاري ومسلم
ہزیل بن شرحبیل فرماتے ہیں: میں نے سیدنا ابوموسیٰ اور سلمان بن ربیعہ سے وراثت کا ایک مسئلہ پوچھا جس میں ایک بیٹی، ایک پوتی، ایک بہن تھی۔ ان دونوں نے یہ فتویٰ دیا کہ آدھا مال بیٹی کے لیے اور آدھا مال بہن کے لیے ہے۔ یہ فتویٰ دینے کے بعد دونوں نے مجھے یہ فرمایا: کہ تم سیدنا عبداللہ بن مسعود سے بھی یہ مسئلہ پوچھ لینا، امید ہے کہ وہ بھی ہمارے فتویٰ کی تائید کریں گے، میں سیدنا عبداللہ بن مسعود رضی اللہ عنہ کے پاس گیا اور صورت مسئلہ ان کے سامنے بیان کی، انہوں نے فرمایا: اگر میں نے بھی ان کے موافق فتویٰ دے دیا تب تو میں گمراہ ہوں گا اور میں ہدایت والوں میں سے نہیں ہوں گا، میں تو رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے کیے ہوئے فیصلے کے مطابق ہی فتویٰ دونگا۔ بیٹی کو نصف، پوتی کو چھٹا حصہ اور باقی ماندہ بہن کو دیا جائے گا۔ ٭٭ یہ حدیث امام بخاری رحمۃ اللہ علیہ اور امام مسلم رحمۃ اللہ علیہ کے معیار کے مطابق صحیح ہے لیکن شیخین رحمۃ اللہ علیہما نے اس کو نقل نہیں کیا۔ [المستدرك على الصحيحين/كِتَابُ الْفَرَائِضِ/حدیث: 8157]

مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 8158
حدثنا أبو العباس محمد بن يعقوب، حدثنا بَحْر بن نَصر، حدثنا عبد الله بن وهب، أخبرني ابن أبي الزِّناد، عن أبيه، عن خارجة بن زيد بن ثابت، عن أبيه قال: مِيراثُ الإخوة من الأب والأمِّ أنَّهم لا يَرِثُون معَ الولد الذَّكر، ولا معَ ولدِ الابن ولا معَ الأبِ شيئًا (2) .
هذا حديث صحيح على شرط الشيخين ولم يُخرجاه، وقد اتَّفقا على غير حديثٍ مثل هذا من فَتَوى زيد بن ثابت ﵀.
[التعليق - من تلخيص الذهبي] ترقيم العلميه 7959 - على شرط البخاري ومسلم
سیدنا زید بن ثابت رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں: سگے بہن بھائیوں کی وراثت کا حکم یہ ہے کہ مرنے والے کی اولاد میں اگر کوئی لڑکا موجود ہو یا اس کا باپ موجود ہو تو بھائیوں کو کچھ نہیں ملتا۔ ٭٭ یہ حدیث امام بخاری رحمۃ اللہ علیہ اور امام مسلم رحمۃ اللہ علیہ کے معیار کے مطابق صحیح ہے لیکن شیخین رحمۃ اللہ علیہما نے اس کو نقل نہیں کیا۔ تاہم امام بخاری رحمۃ اللہ علیہ اور امام مسلم رحمۃ اللہ علیہ نے ایک اور حدیث بیان کی ہے جس میں سیدنا زید بن ثابت رضی اللہ عنہ کا یہ فتویٰ موجود ہے۔ [المستدرك على الصحيحين/كِتَابُ الْفَرَائِضِ/حدیث: 8158]

مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 8159
أخبرنا أحمد بن كامل القاضي، حدثنا عبد الله بن رَوْح المَدائني، حدثنا شَبَابة بن سَوَّار، حدثنا ابن أبي ذئب، عن شُعْبة مولى ابن عباس، عن ابن عباس: أنه دخل على عثمان بن عفّان فقال: إِنَّ الأَخَوَينِ لا يَرُدَّان الأمَّ عن الثُّلث؛ قال الله ﷿: ﴿فَإِنْ كَانَ لَهُ إِخْوَةٌ فَلِأُمِّهِ السُّدُسُ﴾ [النساء:11] ، فالأخَوانِ بلسانِ قومِك ليسا بإخوة! فقال عثمانُ بن عفّان: لا أستطيعُ أن أردَّ ما كان قَبْلِي ومَضَى في الأمصار، وتوارثَ به الناسُ (1) .
هذا حديث صحيح الإسناد، ولم يُخرجاه.
[التعليق - من تلخيص الذهبي] ترقيم العلميه 7960 - صحيح
سیدنا عبداللہ بن عباس رضی اللہ عنہما کے بارے میں مروی ہے کہ وہ سیدنا عثمان بن عفان رضی اللہ عنہ کے پاس گئے، اور کہا: دو بھائی، ماں کو ثلث سے محروم نہیں کر سکتے، اللہ تعالیٰ نے فرمایا ہے۔ فَإِنْ كَانَ لَهُ إِخْوَةٌ فَلِأُمِّهِ السُّدُسُ (النساء: 11) اگر اس کے بھائی ہوں تو اس کی ماں کے لیے چھٹا حصہ ہے تو کیا دو بھائیوں پر تمہاری زبان میں اخوۃ کا اطلاق نہیں ہوتا؟ سیدنا عثمان بن عفان رضی اللہ عنہ نے فرمایا: میں وہ فیصلہ نہیں بدل سکتا جو مجھ سے پہلے بھی ہوتا رہا اور تمام علاقوں میں لوگ اسی کے موافق وراثت تقسیم کرتے ہیں۔ ٭٭ یہ حدیث صحیح الاسناد ہے لیکن امام بخاری رحمۃ اللہ علیہ اور امام مسلم رحمۃ اللہ علیہ نے اس کو نقل نہیں کیا۔ [المستدرك على الصحيحين/كِتَابُ الْفَرَائِضِ/حدیث: 8159]

مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں