🏠 👥 🔍 🧩 🅰️ 📌 ↩️

المستدرك على الصحيحين سے متعلقہ
تمام کتب
ترقیم الرسالہ
ترقيم الشرکۃ
عربی لفظ
اردو لفظ
حدیث کتب میں نمبر سے حدیث تلاش کریں:

ترقیم الرساله سے تلاش کل احادیث (9018)
حدیث نمبر لکھیں:
ترقیم الشركة سے تلاش کل احادیث (8909)
حدیث نمبر لکھیں:
حدیث میں عربی لفظ/الفاظ تلاش کریں
عربی لفظ / الفاظ لکھیں:
حدیث میں اردو لفظ/الفاظ تلاش کریں
اردو لفظ / الفاظ لکھیں:
39. حكاية امرأة سرقت قطيفة فقطعت يدها
ایک عورت کا قصہ جس نے چادر چوری کی تو اس کا ہاتھ کاٹ دیا گیا
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 8343
ما حدَّثَناه أبو بكر بن إسحاق، أخبرنا إسماعيل بن قُتَيبة، حدَّثنا يحيى بن يحيى، أخبرنا جَرير، عن منصور، عن عطاء ومجاهد، عن أيمن - قال: وكان أيمنُ رجلًا يُذكَر منه خيرٌ - قال: لا تُقطَع يدُ السارق في أقلَّ من ثمن المِجَنِّ، وكان ثمنُ المِجَنِّ يومئذٍ دينارًا (1) . فأيمنُ ابن أمِّ أيمن الصحابيُّ أخو أسامة لأمِّه أجلُّ وأنبلُ أن يُنسَب إلى الجهالة، فيقال: كان رجلًا يُذكر منه خيرٌ، إنما يقال مثلُ هذه اللفظة لمجهولٍ لا يُعرَف بالصُّحبة، على أنَّ جَريرًا قد أوقَفَه على أيمنَ هذا، ولم يُسنِده.
[التعليق - من تلخيص الذهبي] ترقيم العلميه 8144 - سكت عنه الذهبي في التلخيص
مجاہد نے ایمن سے روایت کیا ہے (اور ایمن ایسا آدمی ہے جس کے بارے میں محدثین اچھی رائے رکھتے ہیں) آپ فرماتے ہیں: ایک ڈھال کی قیمت سے کم کی چوری میں بھی چور کے ہاتھ کاٹے جائیں گے، ان دنوں ایک ڈھال کی قیمت ایک دینار تھی۔ ام ایمن کے بیٹے جو ایمن ہیں، یہ صحابی رسول ہیں، سیدنا اسامہ کے ماں شریکی بھائی ہیں، آپ اسامہ سے عمر میں بھی بڑے ہیں اور شرافت و نجابت میں بھی بڑے ہیں، ان کو جہالت کی طرف منسوب کرنا مناسب نہیں ہے۔ ان کے بارے میں کہا جاتا ہے کہ یہ ایسا آدمی ہے جس کے بارے میں اچھی گفتگو ہوتی ہے، اور اس طرح کے الفاظ ایسے مجہول کے لئے بولے جاتے ہیں جو صحت کے ساتھ معروف نہ ہو، علاوہ ازیں جریر نے اس حدیث کو ایمن پر موقوف کیا ہے اور اس کو مسند نہیں کیا۔ [المستدرك على الصحيحين/كتاب الحدود/حدیث: 8343]

المستدرك على الصحيحين کی حدیث نمبر 8343 پر
الشیخ عادل مرشد، ڈاکٹر احمد برہوم، ڈاکٹر محمد کامل قرہ بلی، ڈاکٹر سعید اللحام کی
تخريج وتحقيقِ محدثانہ نکات و اصطلاحی مطالعہ
(1) وأخرجه النسائي (7395) عن قتيبة بن سعيد، عن جرير بن عبد الحميد، بهذا الإسناد.
🧩 متابعات و شواہد: اور اسے نسائی (7395) نے قتیبہ بن سعید سے، انہوں نے جریر بن عبد الحمید سے، اسی سند کے ساتھ تخریج کیا ہے۔