المستدرك على الصحيحين سے متعلقہ
تمام کتب
ترقیم الرسالہ
ترقيم الشرکۃ
عربی لفظ
اردو لفظ
41. حكم حريسة الجبل
پہاڑ پر چرنے والے جانور (کی چوری) کا حکم
حدیث نمبر: 8350
حدَّثنا أبو العباس محمد بن يعقوب، أخبرنا محمد بن عبد الله بن عبد الحَكَم، أخبرنا ابن وهب، أخبرني عمرو بن الحارث وهشام بن سعد، عن عمرو بن شعيب، عن أبيه، عن عبد الله بن (1) عَمرو بن العاص: أن رجلًا من مُزَينة أَتى النبيَّ ﷺ فقال: يا رسول الله، كيف ترى في حَرِيسةِ الجَبَل؟ قال:"هي ومِثلُها (2) والنَّكَالُ، ليس في شيء من الماشية قطعٌ إلَّا ما آواهُ المُرَاحُ فبلغَ ثَمَنَ المِجَنِّ ففيه قطعُ اليد، وما لم يَبلُغ ثمنَ المِجَنِّ ففيه غَرامةُ مِثْلَيهِ وجَلَداتُ نَكالٍ" قال: يا رسول الله، كيف ترى في الثَّمر المُعلَّق؟ قال:"هو ومِثلُه معه والنَّكَالُ، وليس في شيءٍ من الثَّمر المُعلَّق قطعٌ إِلَّا ما آواه الجَرِينُ، فما أُخِذَ من الجَرِين فبلغَ ثَمَنَ المِجَنِّ ففيه القطعُ، وما لم يَبلُغْ ثمنَ المِجَنِّ ففيه غَرَامةُ مِثلَيهِ (1) وجَلَداتُ نَكالٍ" (2) . هذه سُنّة تفرَّد بها عمرو بن شعيب بن محمد عن جده عبد الله بن عمرو بن العاص، وقد رويتُ في هذا الكتاب عن إمامنا إسحاق بن إبراهيم الحنظلي أنه قال: إذا كان الراوي عن عمرو بن شعيب ثقةً فهو كأيوب عن نافع عن ابن عمر (3) .
سیدنا عبداللہ بن عمرو بن العاص رضی اللہ عنہ فرماتے ہی: مزینہ کا ایک آدمی نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کی بارگاہ میں آیا، اور عرض کی: یا رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم پہاڑوں پر اگائے گئے درختوں کی چوری کے بارے میں آپ کیا حکم دیتے ہیں؟ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: چوری کے برابر تاوان دینا ہو گا اور عبرت کے لئے کچھ سزا بھی۔ اور پہاڑوں پر چرنے والے جانوروں کی چوری کے بارے میں آپ کیا فرماتے ہیں؟ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ان جانوروں کی چوری پر ہاتھ نہیں کاٹا جائے گا، البتہ اگر وہ جانور گلے میں ہوں جہاں ان کی حفاظت کی جاتی ہے، وہاں سے چوری کیا گیا تو اگر اس کی قیمت ڈھال کے برابر پہنچتی ہے تو ہاتھ کاٹا جائے گا اور اگر اس کی قیمت ڈھال تک نہ پہنچتی ہو تو اس میں اس کا دگنا جرمانہ ہے اور عبرت کے طور پر کچھ کوڑے بھی مارے جائیں گے۔ اس نے کہا: یا رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم لٹکے ہوئے پھل کو چوری کر لیا گیا اس کے بارے میں آپ کی کیا رائے ہے؟ حضور صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: وہ اور اس جیسے دوسرے پھل جو لٹکے ہوئے ہوں، ان کی چوری میں ہاتھ نہیں کاٹے جائیں گے البتہ وہ کہ جس کو کسی مقام پر حفاظت کے لئے رکھا گیا ہو اور اس کی قیمت ڈھال تک پہنچتی ہو تب ہاتھ کاٹے جائیں گے۔ اور جس کی قیمت ڈھال تک نہ پہنچے، اس میں اس کے برابر جرمانہ ہے اور چند کوڑے بطور عبرت مارے جائیں گے۔ ٭٭ اس سنت میں عمرو بن شعیب، اپنے دادا عبداللہ بن عمرو بن العاص رضی اللہ عنہ سے روایت کرنے میں منفرد ہیں، اور جب یہ روایت عمرو بن شعیب سے ہو تو اس سند کی طاقت اس سند کے برابر ہوتی ہے جو ایوب کے ذریعے بواسطہ نافع، سیدنا عبداللہ بن عمر رضی اللہ عنہما تک پہنچے۔ [المستدرك على الصحيحين/كتاب الحدود/حدیث: 8350]
المستدرك على الصحيحين کی حدیث نمبر 8350 پر
الشیخ عادل مرشد، ڈاکٹر احمد برہوم، ڈاکٹر محمد کامل قرہ بلی، ڈاکٹر سعید اللحام کی
تخريج وتحقيقِ محدثانہ نکات و اصطلاحی مطالعہ
الشیخ عادل مرشد، ڈاکٹر احمد برہوم، ڈاکٹر محمد کامل قرہ بلی، ڈاکٹر سعید اللحام کی
تخريج وتحقيقِ محدثانہ نکات و اصطلاحی مطالعہ
وأخرجه مطولًا ومختصرًا أحمد 11/ (6683) و (6746) و (6891) و (6936)، وأبو داود (1710 - 1713) و (4390)، وابن ماجه (2596)، والترمذي (1289)، والنسائي (7403) و (7404) من طرق عن عمرو بن شعيب به وقال الترمذي: حديث حسن. قلنا: وفي ألفاظ بعض رواته عن عمرو بن شعيب وهمٌ.
🧩 متابعات و شواہد: اسے طویل اور مختصر طور پر احمد 11/ (6683)، (6746)، (6891) و (6936)، ابو داؤد (1710 تا 1713) و (4390)، ابن ماجہ (2596)، ترمذی (1289) اور نسائی (7403) و (7404) نے عمرو بن شعیب سے مختلف طرق کے ذریعے تخریج کیا ہے۔ امام ترمذی نے فرمایا: یہ حدیث حسن ہے۔ 📝 نوٹ / توضیح: ہم کہتے ہیں: عمرو بن شعیب سے روایت کرنے والے بعض راویوں کے الفاظ میں "وہم" (غلطی) ہے۔
قوله: "حَريسة الجبل" قال الإمام البغوي في "شرح السنة" 8/ 319: أراد بحريسة الجبل: البقر أو الشاة أو الإبل المأخوذة من المرعى، يقال: احترس الرجل: إذا أخذَ الشاةَ من المرعى … وأراد "بضرب النكال" التعزير. وانظر "المغني" لابن قدامة 12/ 438 - 439.
📝 نوٹ / توضیح: مصنف کا قول: "حَريسة الجبل"؛ امام بغوی "شرح السنۃ" 8/ 319 میں فرماتے ہیں: حریسۃ الجبل سے مراد وہ گائے، بکری یا اونٹ ہیں جو چراگاہ سے (محفوظ جگہ پر لانے سے پہلے) لے لیے جائیں، کہا جاتا ہے: "احترس الرجل" جب وہ چراگاہ سے بکری پکڑ لے۔ اور "ضرب النکال" سے مراد "تعزیر" (عبرت ناک سزا) ہے۔ مزید دیکھیے ابن قدامہ کی "المغنی" 12/ 438 - 439۔
(3) سبق عند المصنف أن أسند هذا الكلام لإسحاق بن راهويه بإثر الحديث (259). وأسنده عنه أيضًا ابن عدي في "الكامل" 5/ 114، وانظر ما قاله الحاكم عقب الحديث (2405).
📌 اہم نکتہ: مصنف کے ہاں پہلے گزر چکا ہے کہ انہوں نے حدیث (259) کے بعد اس کلام کی سند اسحاق بن راہویہ کی طرف منسوب کی تھی۔ اور ابن عدی نے بھی "الکامل" 5/ 114 میں اسے انہی سے مسنداً ذکر کیا ہے۔ اور دیکھیے جو حاکم نے حدیث (2405) کے بعد فرمایا ہے۔
(1) من قوله: "عمرو بن الحارث" إلى هنا سقط من (ز) و (ب).
🔍 فنی نکتہ / علّت: قول "عمرو بن حارث" سے لے کر یہاں تک کی عبارت نسخہ (ز) اور (ب) سے ساقط (غائب) ہے۔
(2) الواو سقطت من النسخ الخطية، وزدناها من روايتي النسائي والبيهقي 4/ 152 و 8/ 278.
🔍 فنی نکتہ / علّت: قلمی نسخوں سے حرف "واؤ" گر گیا تھا، جسے ہم نے نسائی اور بیہقی 4/ 152 و 8/ 278 کی روایات سے (دیکھ کر) بڑھا دیا ہے۔
(1) تحرَّف في النسخ الخطية إلى: مثله، وأثبتناه على الصواب من روايتي النسائي والبيهقي.
🔍 فنی نکتہ / علّت: قلمی نسخوں میں یہ لفظ تحریف ہو کر "مثلہ" بن گیا تھا، ہم نے نسائی اور بیہقی کی روایات کی روشنی میں اسے درست کر کے (متن میں) ثابت کیا ہے۔
(2) إسناده حسن.
⚖️ درجۂ حدیث: اس کی سند حسن ہے۔
وأخرجه النسائي (7405) عن الحارث بن مسكين، عن عبد الله بن وهب، بهذا الإسناد.
🧩 متابعات و شواہد: اور اسے نسائی (7405) نے حارث بن مسکین سے، انہوں نے عبد اللہ بن وہب سے، اسی سند کے ساتھ تخریج کیا ہے۔