🏠 👥 🔍 🧩 🅰️ 📌 ↩️

المستدرك على الصحيحين سے متعلقہ
تمام کتب
ترقیم الرسالہ
ترقيم الشرکۃ
عربی لفظ
اردو لفظ
حدیث کتب میں نمبر سے حدیث تلاش کریں:

ترقیم الرساله سے تلاش کل احادیث (9018)
حدیث نمبر لکھیں:
ترقیم الشركة سے تلاش کل احادیث (8909)
حدیث نمبر لکھیں:
حدیث میں عربی لفظ/الفاظ تلاش کریں
عربی لفظ / الفاظ لکھیں:
حدیث میں اردو لفظ/الفاظ تلاش کریں
اردو لفظ / الفاظ لکھیں:
27. نهى النبى - صلى الله عليه وآله وسلم - عن قتل الضفدع
نبی کریم ﷺ نے مینڈک کو مارنے سے منع فرمایا ہے
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 8465
أخبرنا أبو عبد الله الصَّفّار، حَدَّثَنَا أحمد بن مِهْران، حَدَّثَنَا أبو نُعيم، حَدَّثَنَا يونس بن أبي إسحاق، عن مجاهد، عن أبي هريرة قال: نَهَى رسول الله ﷺ عن الدواءِ الخبيث (2) .
هذا حديث صحيح على شرط الشيخين، ولم يُخرجاه. الدواءُ الخبيث هو الخمرُ بعَينِه بلا شكٍّ فيه. وقد اتَّفق الشيخانِ ﵄ على حديث الثَّوْري وشُعبة عن منصور عن أبي وائل عن عبد الله: إنَّ الله تعالى لم يَجْعَلْ شفاءَكم فيما حرَّم عليكم (3) . وأخرج مسلم وحدَه (4) حديثَ شُعبة، عن سِمَاك بن حَرْب، عن علقمة بن وائل، عن أبيه، عن النَّبِيّ ﷺ:"إنها ليست بدواءٍ، ولكنها داءٌ".
[التعليق - من تلخيص الذهبي] ترقيم العلميه 8260 - على شرط البخاري ومسلم
سیدنا ابوہریرہ رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے حرام دوا سے منع فرمایا۔ ٭٭ یہ حدیث امام بخاری رحمۃ اللہ علیہ اور امام مسلم رحمۃ اللہ علیہ کے معیار کے مطابق صحیح ہے لیکن انہوں نے اس کو نقل نہیں کیا۔ حرام دوا سے مراد شراب ہے، جس میں کوئی شک نہ ہو۔ امام بخاری رحمۃ اللہ علیہ اور امام مسلم رحمۃ اللہ علیہ نے ثوری اور شعبہ کی منصور کے واسطے سے ابووائل کے حوالے سے سیدنا عبداللہ رضی اللہ عنہ روایت کیا ہے کہ اللہ تعالیٰ نے جو چیز تم پر حرام کی ہے اس میں تمہارے لیے شفا نہیں رکھی۔ اور امام مسلم رحمۃ اللہ علیہ نے شعبہ کے واسطے سے سماک بن حرب کے ذریعے علقمہ بن وائل کے حوالے سے ان کے والد سے روایت کیا ہے کہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: حرام چیز دوا نہیں ہے بلکہ وہ تو خود بیماری ہوتی ہے۔ [المستدرك على الصحيحين/كتاب الطب/حدیث: 8465]

المستدرك على الصحيحين کی حدیث نمبر 8465 پر
الشیخ عادل مرشد، ڈاکٹر احمد برہوم، ڈاکٹر محمد کامل قرہ بلی، ڈاکٹر سعید اللحام کی
تخريج وتحقيقِ محدثانہ نکات و اصطلاحی مطالعہ
(2) إسناده حسن من أجل يونس بن أبي إسحاق. أبو نعيم: هو الفضل بن دُكين.
⚖️ درجۂ حدیث: یونس بن ابی اسحاق کی وجہ سے اس کی سند "حسن" ہے۔ ابو نعیم سے مراد فضل بن دکین ہیں۔
وأخرجه أحمد 13/ (8048) و 16 / (10194)، وأبو داود (3870)، وابن ماجه (3459)، والترمذي (2045) من طرق عن يونس بن أبي إسحاق، بهذا الإسناد.
🧩 متابعات و شواہد: اسے احمد 13/ (8048) و 16/ (10194)، ابو داؤد (3870)، ابن ماجہ (3459)، اور ترمذی (2045) نے یونس بن ابی اسحاق کے مختلف طرق سے اسی سند کے ساتھ روایت کیا ہے۔
وانظر ما سلف برقم (7699) و (7700).
📝 نوٹ / توضیح: اور وہ تفصیلات دیکھیں جو نمبر (7699) اور (7700) پر گزر چکی ہیں۔
(3) عزوُه إلى الشيخين ذهولٌ من الحاكم ﵀، فإنه ليس عندهما مسندًا، وإنما علَّقه البخاري وحده في "صحيحه" بلا إسنادٍ بين يدي الحديث (5614).
📌 اہم نکتہ: حاکم رحمہ اللہ کا اسے شیخین (بخاری و مسلم) کی طرف منسوب کرنا ان کا "ذہول" (بھول) ہے، کیونکہ یہ ان دونوں کے ہاں "مسنداً" (متصل سند کے ساتھ) موجود نہیں ہے، بلکہ اسے صرف بخاری نے اپنی "صحیح" میں حدیث نمبر (5614) سے پہلے بغیر سند کے "معلقاً" ذکر کیا ہے۔
وأما حديث الثوري فقد خرَّجه عبد الرزاق في "مصنفه" (17097) والطبراني في "الكبير" (9714) و (9716)، وأما حديث شعبة فلم نقف عليه. وقد سلف عند المصنّف برقم (7699) من حديث الأعمش عن شقيق بن سلمة أبي وائل عن عبد الله بن مسعود. فانظر تمام تخريجه هناك.
🧾 تفصیلِ روایت: جہاں تک ثوری کی حدیث کا تعلق ہے تو اسے عبدالرزاق نے "المصنف" (17097) اور طبرانی نے "الکبیر" (9714) و (9716) میں نکالا ہے، اور جہاں تک شعبہ کی حدیث کا تعلق ہے تو وہ ہمیں نہیں ملی۔ یہ حدیث مصنف کے ہاں نمبر (7699) پر اعمش عن شقیق بن سلمہ ابی وائل عن عبداللہ بن مسعود کے طریق سے گزر چکی ہے، لہٰذا اس کی مکمل تخریج وہاں دیکھ لیں۔
(4) في "صحيحه" برقم (1984). وانظر تمام تخريجه في "مسند أحمد" 31/ (18862).
📝 نوٹ / توضیح: یہ (مسلم کی) "صحیح" میں نمبر (1984) پر ہے۔ اس کی مکمل تخریج "مسند احمد" 31/ (18862) میں دیکھیں۔