المستدرك على الصحيحين سے متعلقہ
تمام کتب
ترقیم الرسالہ
ترقيم الشرکۃ
عربی لفظ
اردو لفظ
5. ذكر المصالحة بين الروم والمسلمين ثم المحاربة بينهم
رومیوں اور مسلمانوں کے درمیان صلح اور پھر ان کے مابین جنگ کا تذکرہ
حدیث نمبر: 8503
حَدَّثَنَا أبو أحمد بكر بن محمد الصَّيرَفي بمَرْو، حَدَّثَنَا أبو الأحوَص محمد بن الهَيثم القاضي، حَدَّثَنَا محمد بن كَثير المِصِّيصي، حَدَّثَنَا الأوزاعي، عن حسّان بن عَطيّة، عن ذي مِخمَر - رجل من أصحاب النَّبِيّ ﷺ -، وهو ابن أخي النَّجَاشيّ - أنه سمع رسول الله ﷺ يقول:"لتُصالِحون الرُّومَ صُلحًا آمنًا حتَّى تَغْزُونَ أنتم وهم عدوًّا من ورائهم، فتُنصَرون وتَغنَمون، وتنصرفون حتَّى تنزلوا بمَرْجٍ ذي تُلُول، فيقولُ قائل من الروم: غَلَبَ الصَّليبُ، ويقول قائل من المسلمين: بل اللهُ غَلَبَ، فيَتداوَلانِها بينهم، فيَثُورُ المسلمُ إلى صليبِهم وهم منهم غيرُ بعيد فيَدُقُّه، ويَثُورُ الرومُ إلى كاسرِ صليبِهم فيقتلونَه، ويَثُورُ المسلمون إلى أسلحتِهم فيُقتَلون، فيُكرِمُ اللهُ ﷿ تلك العِصابةَ من المسلمين بالشهادة، فيقول الرُّومُ لصاحب الروم: كَفَيْناكَ جَدَّ العرب، فيَغدِرُون، فيجتمعون للمَلحَمةِ، فيأتونكم تحتَ ثمانينَ غايةً، تحتَ كلِّ غايةٍ اثنا عَشَرَ ألفًا" (1) .
هذا حديث صحيح الإسناد، ولم يُخرجاه.
[التعليق - من تلخيص الذهبي] ترقيم العلميه 8298 - صحيح
هذا حديث صحيح الإسناد، ولم يُخرجاه.
[التعليق - من تلخيص الذهبي] ترقيم العلميه 8298 - صحيح
نجاشی کے بھتیجے روایت کرتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا: تم لوگ روم سے امن کی صلح کرو گے، اور تم ان کے ساتھ مل کر دشمن سے جنگ لڑو گے، تم فتحیاب ہو جاؤ گے، مال غنیمت جمع کرو گے، اور واپس لوٹو گے، راستے میں ٹیلوں والے ایک مقام پر پڑاؤ ڈالو گے، اس دوران ایک رومی شخص بآواز بلند کہے گا: صلیب غالب آ گئی، اس کے جواب میں ایک مسلمان کہے گا: (صلیب غالب نہیں آئی) بلکہ اللہ تعالیٰ کی ذات غالب آئی ہے، ان کے درمیان تکرار شروع ہو جائے گی، مسلمان صلیب کے بالکل قریب ہوں گے، وہ ان کی صلیب پر حملہ کر کے اس کو توڑ دیں گے، رومی لوگ اس صلیب کے توڑنے والے پر حملہ کریں گے اور اس کو قتل کر دیں گے، مسلمان اپنے اسلحہ کو سنبھال لیں گے، ان کی جنگ چھڑ جائے گی، اس جنگ میں اللہ تعالیٰ مسلمانوں کی اس جماعت کو شہادت عطا فرمائے گا۔ رومی لوگ روم کے بادشاہ سے کہیں گے: تیرے لئے جدالعرب (قیذار بن اسماعیل) کافی ہے پھر یہ لوگ غداری کریں گے، جنگ کے لئے جمع ہو جائیں گے، اور یہ لوگ 80 جھنڈوں کے سائے میں تم پر حملہ آور ہوں گے، ہر جھنڈے کے نیچے، بارہ ہزار کا لشکر جرار ہو گا۔ ٭٭ یہ حدیث صحیح الاسناد ہے لیکن امام بخاری رحمۃ اللہ علیہ اور امام مسلم رحمۃ اللہ علیہ نے اس کو نقل نہیں کیا۔ [المستدرك على الصحيحين/كتاب الفتن والملاحم/حدیث: 8503]
المستدرك على الصحيحين کی حدیث نمبر 8503 پر
الشیخ عادل مرشد، ڈاکٹر احمد برہوم، ڈاکٹر محمد کامل قرہ بلی، ڈاکٹر سعید اللحام کی
تخريج وتحقيقِ محدثانہ نکات و اصطلاحی مطالعہ
الشیخ عادل مرشد، ڈاکٹر احمد برہوم، ڈاکٹر محمد کامل قرہ بلی، ڈاکٹر سعید اللحام کی
تخريج وتحقيقِ محدثانہ نکات و اصطلاحی مطالعہ
(1) حديث صحيح، وهذ إسناد معضل بين حسان بن عطية وذي مِخمَر - ويقال: مِخبَر - بينهما فيه اثنان كما في الرواية اللاحقة، والإعضال فيه فيما يغلب على ظننا من محمد بن كثير المصيصي، فإنه كان يقع له في حديثه أخطاء وأوهام. وانظر ما بعده.
⚖️ درجۂ حدیث: یہ حدیث (متن کے اعتبار سے) صحیح ہے، لیکن یہ سند حسان بن عطیہ اور ذی مخمر (جسے ذی مخبر بھی کہا جاتا ہے) کے درمیان "معضل" ہے، ان دونوں کے درمیان دو راوی چھوٹ گئے ہیں جیسا کہ بعد والی روایت میں آ رہا ہے۔ 🔍 فنی نکتہ / علّت: ہمارے غالب گمان کے مطابق اس میں یہ اعضال (انقطاع) راوی "محمد بن کثیر المصیصی" کی طرف سے ہے، کیونکہ ان کی حدیث میں غلطیاں اور اوہام واقع ہو جایا کرتے تھے۔ اگلی روایت دیکھیں۔