🏠 👥 🔍 🧩 🅰️ 📌 ↩️

المستدرك على الصحيحين سے متعلقہ
تمام کتب
ترقیم الرسالہ
ترقيم الشرکۃ
عربی لفظ
اردو لفظ
حدیث کتب میں نمبر سے حدیث تلاش کریں:

ترقیم الرساله سے تلاش کل احادیث (9018)
حدیث نمبر لکھیں:
ترقیم الشركة سے تلاش کل احادیث (8909)
حدیث نمبر لکھیں:
حدیث میں عربی لفظ/الفاظ تلاش کریں
عربی لفظ / الفاظ لکھیں:
حدیث میں اردو لفظ/الفاظ تلاش کریں
اردو لفظ / الفاظ لکھیں:

5. ذِكْرُ الْمُصَالَحَةِ بَيْنَ الرُّومِ وَالْمُسْلِمِينَ ثُمَّ الْمُحَارَبَةِ بَيْنَهُمْ
رومیوں اور مسلمانوں کے درمیان صلح اور پھر ان کے مابین جنگ کا تذکرہ
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 8502
فحدثنا أبو العباس محمد بن يعقوب، أخبرنا العباس بن الوليد بن مَزيَد البَيروتي، حَدَّثَنَا محمد بن شعيب بن شابُور، حَدَّثَنَا عبد الرحمن بن يزيد بن جابر، عن مكحول، عن عبد الله بن مُحَيرِيز: أنَّ معاذ بن جبل كان يقول: عُمْرانُ بيت المَقدِس خرابُ يَثرِبَ، وخرابُ يثربَ حُضورُ المَلحمَة، وحضورُ المَلحَمةِ فتحُ القُسْطَنطينيَّة، وفتحُ القُسطنطينيّة خروجُ الدَّجال. قال: ثم ضربَ معاذٌ على مَنكِب عمر بن الخطّاب فقال: والله إنَّ ذلك لحقٌّ كما أنك جالسٌ (2) . هذا الحديث وإن كان موقوفًا، فإنَّ إسناده صحيح على شرط الرِّجال، وهو اللائق بالمسنَد الذي تقدَّمَه (1) .
[التعليق - من تلخيص الذهبي] ترقيم العلميه 8297 - صحيح موقوف
سیدنا معاذ بن جبل رضی اللہ عنہ فرمایا کرتے تھے کہ بیت المقدس کی تعمیر، یثرب کی بربادی ہے، اور یثرب کی بربادی، جنگوں کے وقت ہے، اور جنگوں کا رونما ہونا قسطنطنیہ کی فتح کے وقت ہو گا اور قسطنطنیہ کی فتح دجال کے ظہور کے وقت ہے۔ پھر سیدنا معاذ رضی اللہ عنہ نے سیدنا عمر بن خطاب رضی اللہ عنہ کا کندھا تھپکایا اور فرمایا: اللہ کی قسم! جیسے تم میرے سامنے واقعتاً بیٹھے ہوئے ہو، اسی طرح ان امور کے رونما ہونے میں بھی کوئی شک نہیں ہے۔ ٭٭ یہ حدیث اگرچہ موقوف ہے، لیکن اس کی اسناد رجال کی شرائط کے مطابق صحیح ہے۔ اور یہ اس مسند حدیث کے موافق ہے جس کا ذکر ابھی گزرا ہے۔ [المستدرك على الصحيحين/كِتَابُ الْفِتَنِ وَالْمَلَاحِمِ/حدیث: 8502]

مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 8503
حَدَّثَنَا أبو أحمد بكر بن محمد الصَّيرَفي بمَرْو، حَدَّثَنَا أبو الأحوَص محمد بن الهَيثم القاضي، حَدَّثَنَا محمد بن كَثير المِصِّيصي، حَدَّثَنَا الأوزاعي، عن حسّان بن عَطيّة، عن ذي مِخمَر - رجل من أصحاب النَّبِيّ ﷺ -، وهو ابن أخي النَّجَاشيّ - أنه سمع رسول الله ﷺ يقول:"لتُصالِحون الرُّومَ صُلحًا آمنًا حتَّى تَغْزُونَ أنتم وهم عدوًّا من ورائهم، فتُنصَرون وتَغنَمون، وتنصرفون حتَّى تنزلوا بمَرْجٍ ذي تُلُول، فيقولُ قائل من الروم: غَلَبَ الصَّليبُ، ويقول قائل من المسلمين: بل اللهُ غَلَبَ، فيَتداوَلانِها بينهم، فيَثُورُ المسلمُ إلى صليبِهم وهم منهم غيرُ بعيد فيَدُقُّه، ويَثُورُ الرومُ إلى كاسرِ صليبِهم فيقتلونَه، ويَثُورُ المسلمون إلى أسلحتِهم فيُقتَلون، فيُكرِمُ اللهُ ﷿ تلك العِصابةَ من المسلمين بالشهادة، فيقول الرُّومُ لصاحب الروم: كَفَيْناكَ جَدَّ العرب، فيَغدِرُون، فيجتمعون للمَلحَمةِ، فيأتونكم تحتَ ثمانينَ غايةً، تحتَ كلِّ غايةٍ اثنا عَشَرَ ألفًا" (1) .
هذا حديث صحيح الإسناد، ولم يُخرجاه.
[التعليق - من تلخيص الذهبي] ترقيم العلميه 8298 - صحيح
نجاشی کے بھتیجے روایت کرتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا: تم لوگ روم سے امن کی صلح کرو گے، اور تم ان کے ساتھ مل کر دشمن سے جنگ لڑو گے، تم فتحیاب ہو جاؤ گے، مال غنیمت جمع کرو گے، اور واپس لوٹو گے، راستے میں ٹیلوں والے ایک مقام پر پڑاؤ ڈالو گے، اس دوران ایک رومی شخص بآواز بلند کہے گا: صلیب غالب آ گئی، اس کے جواب میں ایک مسلمان کہے گا: (صلیب غالب نہیں آئی) بلکہ اللہ تعالیٰ کی ذات غالب آئی ہے، ان کے درمیان تکرار شروع ہو جائے گی، مسلمان صلیب کے بالکل قریب ہوں گے، وہ ان کی صلیب پر حملہ کر کے اس کو توڑ دیں گے، رومی لوگ اس صلیب کے توڑنے والے پر حملہ کریں گے اور اس کو قتل کر دیں گے، مسلمان اپنے اسلحہ کو سنبھال لیں گے، ان کی جنگ چھڑ جائے گی، اس جنگ میں اللہ تعالیٰ مسلمانوں کی اس جماعت کو شہادت عطا فرمائے گا۔ رومی لوگ روم کے بادشاہ سے کہیں گے: تیرے لئے جدالعرب (قیذار بن اسماعیل) کافی ہے پھر یہ لوگ غداری کریں گے، جنگ کے لئے جمع ہو جائیں گے، اور یہ لوگ 80 جھنڈوں کے سائے میں تم پر حملہ آور ہوں گے، ہر جھنڈے کے نیچے، بارہ ہزار کا لشکر جرار ہو گا۔ ٭٭ یہ حدیث صحیح الاسناد ہے لیکن امام بخاری رحمۃ اللہ علیہ اور امام مسلم رحمۃ اللہ علیہ نے اس کو نقل نہیں کیا۔ [المستدرك على الصحيحين/كِتَابُ الْفِتَنِ وَالْمَلَاحِمِ/حدیث: 8503]

مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 8504
وقد حدَّثَناه أبو العباس محمد بن يعقوب، حَدَّثَنَا بَحْر بن نَصْر بن سابق الخَوْلاني، حَدَّثَنَا بِشْر بن بكر، حَدَّثَنَا الأوزاعي، حدثني حسَّان بن عطية قال: قام مكحول وابن أبي زكريا إلى خالد بن مَعْدان وقمتُ معهما، قال: فحدَّثَنا (2) خالد عن جُبير بن نُفير قال: انطَلِقْ بنا إلى ذي مِخمَر صاحبِ رسول الله ﷺ، فقال: سمعتُ رسولَ الله ﷺ يقول:"ستصالحُكم الرُّومُ صُلحًا آمنًا، ثم تَغزُون أنتم وهم عدوًّا (3) فتُنصَرون وتَسلَمون وتَفتَحون، ثم تنصرفون بمَرْجٍ، فيَرفَعُ لهم رجلٌ من النَّصرانية الصَّليبَ، فيَعْضَبُ رجلٌ من المسلمين فيقومُ إليهم فيَدُقُّ الصَّليب، فعند ذلك تَعْضَبُ الرومُ فيَجتمِعون للمَلحَمة" (4) .
هذا حديث صحيح الإسناد، وهو أَولى من الأول.
[التعليق - من تلخيص الذهبي] ترقيم العلميه 8299 - صحيح
حسان بن عطیہ فرماتے ہیں: مکحول اور ابن ابی زکریا، خالد بن معدان کے پاس گئے، میں بھی ان کے ساتھ تھا، انہوں نے بتایا کہ خالد نے جبیر بن نفیر کا یہ بیان نقل کیا ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے صحابی ذی مخمر فرماتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا: تم عنقریب روم سے امن کے لئے صلح کر لو گے، پھر تم مل کر دشمن سے جنگ کرو گے، تمہاری مدد کی جائے گی، تم فتحیاب ہو جاؤ گے، پھر تم مرج میں پڑاؤ ڈالو گے، ایک نصرانی شخص صلیب بلند کرے گا، اس کو دیکھ کر ایک مسلمان غصے میں بھڑک اٹھے گا، اور اس کی صلیب پکڑ کر توڑ دے گا، صلیب ٹوٹنے پر روم غصے میں آ جائیں گے، پھر یہ سب تمہارے خلاف جنگ کے لئے جمع ہو جائیں گے۔ ٭٭ یہ حدیث صحیح الاسناد ہے لیکن امام بخاری رحمۃ اللہ علیہ اور امام مسلم رحمۃ اللہ علیہ نے اس کو نقل نہیں کیا۔ اور یہ اسناد، پہلی اسناد سے بہتر ہے۔ [المستدرك على الصحيحين/كِتَابُ الْفِتَنِ وَالْمَلَاحِمِ/حدیث: 8504]

مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 8505
أخبرني عبد الله بن محمد الدَّورَقي، حَدَّثَنَا محمد بن إسحاق الإمام، حَدَّثَنَا عَبْدة بن عبد الله الخُزاعيُّ، حدثني الوليد بن المغيرة، حدثني عبد الله بن بِشْر الغَنَوي، حدثني أَبي قال: سمعتُ رسول الله ﷺ يقول:"لَتَفتَحُنَّ القُسطنطِينيَّةَ، ولنِعمَ الأميرُ أميرُها، ولنِعمَ الجيشُ ذلك الجيشُ". قال عبد الله: فدعاني مَسلَمةُ بن عبدِ الملك فسألني عن هذا الحديث، فحدَّثتُه، فغَزا القُسطنطِينيةَ (1) .
هذا حديث صحيح الإسناد، ولم يُخرجاه.
[التعليق - من تلخيص الذهبي] ترقيم العلميه 8300 - صحيح
عبداللہ بن بشر الغنوی اپنے والد کا یہ بیان نقل کرتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا: تم قسطنطنیہ کو فتح کر لو گے، اس کا امیر کیا ہی اچھا امیر ہو گا اور وہ لشکر کیا ہی اچھا لشکر ہو گا۔ عبیداللہ کہتے ہیں: مسلمہ بن عبدالملک نے مجھے بلوایا اور اس حدیث کے بارے میں مجھ سے پوچھا، تو میں نے ان کو یہ حدیث سنائی، تب اس نے قسطنطنیہ پر حملہ کیا۔ ٭٭ یہ حدیث صحیح الاسناد ہے لیکن امام بخاری رحمۃ اللہ علیہ اور امام مسلم رحمۃ اللہ علیہ نے اس کو نقل نہیں کیا۔ [المستدرك على الصحيحين/كِتَابُ الْفِتَنِ وَالْمَلَاحِمِ/حدیث: 8505]

مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں