المستدرك على الصحيحين سے متعلقہ
تمام کتب
ترقیم الرسالہ
ترقيم الشرکۃ
عربی لفظ
اردو لفظ
23. بعضكم على بعض شهود بالثناء الحسن والسيئ
تم ایک دوسرے کی اچھی یا بری تعریف کے گواہ ہو
حدیث نمبر: 8550
حدثنا أبو الفضل الحسن بن يعقوب بن يوسف العدل، حدثنا الحسين بن محمد بن زياد، حدثنا هارون بن معروف، حدثنا عبد الله بن وهب، أخبرني عبد الله بن عَيَّاش القِتْباني، عن أبيه، عن عيسى بن هلال الصَّدَفي، عن عبد الله بن عمرو، أنَّ رسول الله ﷺ قال:"سيكون في آخر هذه الأمة رجالٌ يَركَبون على المَياثِرِ حتى يأتوا أبوابَ مساجدِهم، نساؤُهم كاسياتٌ عارياتٌ، على رؤوسهنَّ كأسنمة البُخْتِ العِجَاف، العنُوهنَّ فإنهنَّ ملعونات، لو كانت وراءَكم أُمّةٌ من الأمم لخَدَمْنَهم (2) كما خَدَمَكم نساء الأُمم قبلكم". فقلت لأبي: وما الميائر؟ قال: سُروجًا عِظامًا (3) .
هذا حديث صحيح على شرط الشيخين، ولم يخرجاه.
هذا حديث صحيح على شرط الشيخين، ولم يخرجاه.
سیدنا عبداللہ بن عمرو رضی اللہ عنہما فرماتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا: اس امت کے آخری زمانے میں کچھ لوگ ایسے ہوں گے جو بڑی بڑی زین (والے گھوڑوں) پر سوار ہو کر، مسجدوں کے دروازوں پر آئیں گے، ان کی عورتیں کپڑے پہننے کے باوجود ننگی ہوں گی۔ ان کے سر بختی اونٹوں کی کوہانوں کی مثل اٹھے ہوئے ہوں گے، ان پر لعنت کرو، کیونکہ وہ ملعونہ عورتیں ہوں گی، اگر تمہارے بعد کوئی امت ہوئی تو وہ ان کی ایسے ہی خدمت کریں گے جیسے تم سے پہلی امتوں کی عورتیں تمہاری خدمت کرتی ہیں۔ میں نے پوچھا: یا رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم ”میاثر “ کیا چیز ہے؟ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: بڑی بڑی زینیں۔ ٭٭ یہ حدیث امام بخاری رحمۃ اللہ علیہ اور امام مسلم رحمۃ اللہ علیہ کے معیار کے مطابق صحیح ہے لیکن شیخین رحمۃ اللہ علیہما نے اس کو نقل نہیں کیا۔ [المستدرك على الصحيحين/كتاب الفتن والملاحم/حدیث: 8550]
المستدرك على الصحيحين کی حدیث نمبر 8550 پر
الشیخ عادل مرشد، ڈاکٹر احمد برہوم، ڈاکٹر محمد کامل قرہ بلی، ڈاکٹر سعید اللحام کی
تخريج وتحقيقِ محدثانہ نکات و اصطلاحی مطالعہ
الشیخ عادل مرشد، ڈاکٹر احمد برہوم، ڈاکٹر محمد کامل قرہ بلی، ڈاکٹر سعید اللحام کی
تخريج وتحقيقِ محدثانہ نکات و اصطلاحی مطالعہ
(2) في النسخ الخطية: لخدمهم، بلا نون ثانية، ولا يستقيم الكلام إلا بإثباتها.
📝 نوٹ / توضیح: قلمی نسخوں میں یہ "لخدمہم" (بغیر دوسرے نون کے) ہے، حالانکہ عبارت (معنوی طور پر) نون کے اثبات کے بغیر درست نہیں ہوتی۔
(3) إسناده ضعيف لتفرُّد عبد الله بن عياش القتباني به، فإنه ليس بالمتين كما قال أبو حاتم الرازي، ثم أتبعه بقوله: صدوق يكتب حديثه وهو قريب من ابن لهيعة؛ يعني أنه يعتبر به في المتابعات والشواهد، وضعَّفه أبو داود والنسائي، وقال ابن يونس: منكر الحديث، وذكره ابن حبان في "ثقاته"، وروى له مسلم حديثًا واحدًا متابعةً. وقد أشار الذهبي في "تلخيصه" إلى تضعيفه متعقبًا تصحيح الحاكم له.
⚖️ درجۂ حدیث: اس کی سند ضعیف ہے کیونکہ "عبد اللہ بن عیاش القتبانی" اس میں منفرد ہیں۔ 🔍 فنی نکتہ / علّت: یہ راوی قوی نہیں ہے جیسا کہ ابو حاتم رازی نے فرمایا، پھر انہوں نے کہا: "صدوق ہے، اس کی حدیث لکھی جائے اور یہ ابن لہیعہ کے قریب ہے" (یعنی متابعات و شواہد میں کام آئے گا)۔ لیکن ابوداؤد اور نسائی نے اسے ضعیف کہا، اور ابن یونس نے "منکر الحدیث" کہا۔ ابن حبان نے اسے "ثقات" میں ذکر کیا، اور مسلم نے اس سے صرف ایک حدیث متابعت میں روایت کی ہے۔ ذہبی نے "تلخیص" میں حاکم کی تصحیح کا تعاقب کرتے ہوئے اس کے ضعیف ہونے کی طرف اشارہ کیا ہے۔
وأخرج حديث المصنف أحمد 11 / (7083)، وابن حبان (5753) من طريق عبد الله بن يزيد المقرئ، عن عبد الله بن عياش، بهذا الإسناد وقرنا بعيسى بن هلالٍ أبا عبد الرحمن الحُبُلي.
📖 حوالہ / مصدر: اسے احمد (11 / 7083) اور ابن حبان (5753) نے عبد اللہ بن یزید المقری کے طریق سے، عبد اللہ بن عیاش سے اسی سند کے ساتھ روایت کیا ہے، اور انہوں نے سند میں عیسیٰ بن ہلال کے ساتھ "ابو عبد الرحمن الحبلی" کو بھی ملایا ہے۔