المستدرك على الصحيحين سے متعلقہ
تمام کتب
ترقیم الرسالہ
ترقيم الشرکۃ
عربی لفظ
اردو لفظ
28. لا تقوم الساعة إلا على شرار من خلقه
قیامت صرف بدترین لوگوں پر قائم ہوگی
حدیث نمبر: 8565
فأخبرناه أحمد بن سلمان الفقيه، حدثنا أبو داود السجستاني، حدثنا سليمان بن حَرْب، حدثنا حماد بن زيد. وأخبرنا أحمد بن سلمان (1) ، حدثنا أبو داود، حدثنا سهل بن بكار، حدثنا حماد بن سَلَمة؛ جميعًا عن عثمان الشَّحَّام (2) ، عن مُسلم بن أبي بَكْرة قال: سمعت أبا بكرة يقول: قال رسول الله ﷺ:"ألا إنها ستكون فتنٌ، ألا ثم تكون فتنةٌ القاعدُ فيها خير من القائم، والقائم فيها خيرٌ من الماشي، والماشي فيها خير من الساعي إليها، فإذا نَزَلَت أَلَا مَن كان له إبلٌ فليلحق بإبله، ومن كان له غنمٌ فليلحق بغنيه، ومن كانت له أرضٌ فليلحق بأرضه" فقال له رجل: يا رسول الله، أرأيت إن لم يكن له إبل ولا غنم ولا أرضٌ؟ قال:"فليأخُذُ حجرًا فليدقَّ به على حدِّ سيفه، ثم لينج إن استطاع النَّجاةَ" ثم قال:"اللهم هل بلغتُ؟" ثلاثًا، فقال رجل: يا رسول الله، أرأيتَ إِن أُكرِهتُ حتى ينطلق بي إلى أحد الصَّفّين - أو إلى أحد الفِئَتين - فيرميني رجل بسهم أو يضربني بسيف فيقتلني؟ قال:"يُبوء بإثمه وإثمِك فيكون من أصحاب النار" قالها ثلاثًا (1) . أما حديث سعد بن مالك:
[التعليق - من تلخيص الذهبي] ترقيم العلميه 8361 - صحيح
[التعليق - من تلخيص الذهبي] ترقيم العلميه 8361 - صحيح
سیدنا ابوبکرہ رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا: خبردار! عنقریب تم فتنے میں مبتلا ہو جاؤ گے، پھر ایک ایسا فتنہ برپا ہو گا کہ اس میں بیٹھا ہوا، کھڑے ہوئے سے بہتر ہو گا، کھڑا ہوا، پیدل چلنے والے سے بہتر ہو گا، پیدل چلنے والا اس کی طرف بھاگنے والے سے بہتر ہو گا، جب وہ فتنہ برپا ہو، تو جس کے پاس کوئی اونٹ ہو، وہ اپنے اونٹ کے پاس چلا جائے، جس کے پاس بکری ہو، وہ بکری کے پاس چلا جائے، جس کے پاس زمین ہو، وہ اپنی زمین کے ساتھ چپک جائے۔ ایک آدمی نے عرض کی: یا رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم اگر کسی کے پاس اونٹ، بکری اور زمین نہ ہو تو وہ کیا کرے؟ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: وہ ایک پتھر پکڑ کر اپنی تلوار کی دھار تیز کرے اور ہمت ہو تو اس فتنے سے نجات پا لے۔ پھر فرمایا: اے اللہ! میں نے تیرا پیغام پہنچا دیا۔ یہ الفاظ تین مرتبہ فرمائے۔ ایک آدمی نے کہا: یا رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم ، اگر مجھے کسی ایک صف میں شامل ہونے کے لئے مجبور کیا جائے، اور وہاں پر کوئی آدمی مجھے تیر یا تلوار مار کر قتل کر دے تب کیا ہو گا؟ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: تیرا اور اس کا گناہ اسی کے ذمہ ہے اور وہ شخص دوزخی ہو گا۔ یہ بات بھی آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے تین مرتبہ دہرائی۔ سیدنا سعد بن مالک رضی اللہ عنہ سے مروی حدیث [المستدرك على الصحيحين/كتاب الفتن والملاحم/حدیث: 8565]
المستدرك على الصحيحين کی حدیث نمبر 8565 پر
الشیخ عادل مرشد، ڈاکٹر احمد برہوم، ڈاکٹر محمد کامل قرہ بلی، ڈاکٹر سعید اللحام کی
تخريج وتحقيقِ محدثانہ نکات و اصطلاحی مطالعہ
الشیخ عادل مرشد، ڈاکٹر احمد برہوم، ڈاکٹر محمد کامل قرہ بلی، ڈاکٹر سعید اللحام کی
تخريج وتحقيقِ محدثانہ نکات و اصطلاحی مطالعہ
(1) تحرّف في النسخ الخطية إلى: سليمان وأحمد بن سلمان: هذا هو أبو بكر الفقيه الحنبلي المعروف بالنجّاد، وهو خاتمة أصحاب أبي داود سليمان بن الأشعث السجستاني صاحب "السنن"، انظر ترجمة النجاد هذا في "سير أعلام النبلاء" 15/ 502.
📝 نوٹ / توضیح: قلمی نسخوں میں یہ نام تحریف ہو کر "سلیمان" بن گیا ہے، حالانکہ یہ "احمد بن سلمان" ہیں جو ابو بکر الفقیہ الحنبلی ہیں اور "النجاد" کے نام سے معروف ہیں۔ یہ سنن والے ابو داود سلیمان بن اشعث السجستانی کے آخری شاگردوں میں سے ہیں۔ النجاد کے حالات "سیر اعلام النبلاء" 15/ 502 میں دیکھیں۔
(2) تحرّف في النسخ الخطية إلى: عثمان السجل.
📝 نوٹ / توضیح: قلمی نسخوں میں یہ نام تحریف ہو کر "عثمان السجل" بن گیا ہے۔
(1) إسناده قوي من أجل عثمان الشحام وشيخه مسلم بن أبي بكرة.
⚖️ درجۂ حدیث: اس کی سند عثمان الشحام اور ان کے شیخ مسلم بن ابی بکرہ کی وجہ سے قوی ہے۔
وأخرجه مسلم (2887) عن أبي كامل الجحدري، عن حماد بن زيد بإسناده. وأخرجه بنحوه أحمد 34/ (20412) و (20490)، ومسلم (2887)، وأبو داود السجستاني (4256)، وابن حبان (5965) من طرق عن عثمان الشحام، به.
📖 حوالہ / مصدر: اسے مسلم (2887) نے ابو کامل الجحدری سے، انہوں نے حماد بن زید سے ان کی سند کے ساتھ روایت کیا۔ نیز احمد 34/ (20412) اور (20490)، مسلم (2887)، ابو داود (4256) اور ابن حبان (5965) نے عثمان الشحام کے متعدد طرق سے اسی طرح روایت کیا ہے۔