🏠 👥 🔍 🧩 🅰️ 📌 ↩️

المستدرك على الصحيحين سے متعلقہ
تمام کتب
ترقیم الرسالہ
ترقيم الشرکۃ
عربی لفظ
اردو لفظ
حدیث کتب میں نمبر سے حدیث تلاش کریں:

ترقیم الرساله سے تلاش کل احادیث (9018)
حدیث نمبر لکھیں:
ترقیم الشركة سے تلاش کل احادیث (8909)
حدیث نمبر لکھیں:
حدیث میں عربی لفظ/الفاظ تلاش کریں
عربی لفظ / الفاظ لکھیں:
حدیث میں اردو لفظ/الفاظ تلاش کریں
اردو لفظ / الفاظ لکھیں:
57. أول ما تفقدون من دينكم الخشوع
تمہارے دین سے سب سے پہلے رخصت ہونے والی چیز 'خشوع' (عاجزی) ہوگی
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 8653
أخبرني محمد بن المؤمَّل بن الحسن، حدثنا الفضل بن محمد بن المسيَّب، حدثنا نُعيم بن حمّاد، حدثنا يحيى بن سعيد، حدثنا الوليد بن عيّاش أخو أبي بكر بن عيّاش، عن إبراهيم، عن عَلقمة قال: قال ابن مسعود: قال لنا رسول الله ﷺ:"أحذِّرُكم سبع فتنٍ تكون بعدي: فتنةً تُقبِلُ من المدينة، وفتنةً بمكَّة، وفتنةً تُقبل من اليمن، وفتنةً تُقبل من الشام، وفتنةً تُقبل من المشرق، وفتنةً تُقبل من المغرب، وفتنةً من بطن الشام؛ وهي السُّفْياني". قال: فقال ابن مسعود: منكم مَن يُدرِك أولها، ومن هذه الأمَّة من يُدرِك آخرَها. قال الوليد بن عيَّاش: فكانت فتنةُ المدينة من قبل طلحة والزُّبير، وفتنةُ مكة فتنةُ عبد الله بن الزبير، وفتنةُ الشام من قِبَل بني أُميَّة، وفتنةُ المشرقِ من قِبَل هؤلاء (1) .
هذا حديث صحيح الإسناد، ولم يُخرجاه.
[التعليق - من تلخيص الذهبي] ترقيم العلميه 8447 - هذا من أبوابد نعيم بن مهدي
سیدنا عبداللہ بن مسعود رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا: میں اپنے بعد آنے والے سات فتنوں سے پرحذر کرتا ہوں، ایک فتنہ مدینہ کی جانب سے آئے گا، ایک فتنہ مکہ میں آئے گا، ایک فتنہ یمن کی جانب سے اٹھے گا، ایک فتنہ شام کی طرف سے اٹھے گا، ایک فتنہ مشرق کی طرف سے اور ایک فتنہ مغرب کی طرف سے اٹھے گا، ایک سفیانی فتنہ بطن شام سے اٹھے گا، سیدنا عبداللہ بن مسعود رضی اللہ عنہ نے فرمایا: تم میں سے کوئی شخص ان میں سے پہلے فتنے کو پائے گا، اور اسی امت کا ایک فرد ہو گا جو ان میں سے آخری فتنے کو پائے گا، ولید بن عیاش کہتے ہیں: مدینہ کا فتنہ طلحہ اور زبیر کی جانب سے تھا، مکہ کا فتنہ عبداللہ بن زبیر کا فتنہ تھا، شام کا فتنہ بنو امیہ کی طرف سے تھا، مشرق کا فتنہ ان لوگوں کی طرف سے تھا۔ ٭٭ یہ حدیث صحیح الاسناد ہے لیکن امام بخاری رحمۃ اللہ علیہ اور امام مسلم رحمۃ اللہ علیہ نے اس کو نقل نہیں کیا۔ [المستدرك على الصحيحين/كتاب الفتن والملاحم/حدیث: 8653]

المستدرك على الصحيحين کی حدیث نمبر 8653 پر
الشیخ عادل مرشد، ڈاکٹر احمد برہوم، ڈاکٹر محمد کامل قرہ بلی، ڈاکٹر سعید اللحام کی
تخريج وتحقيقِ محدثانہ نکات و اصطلاحی مطالعہ
(1) حديث واهٍ، وهو من أوابد نُعيم كما قال الذهبي في "التلخيص". يحيى بن سعيد: هو العطار، وهو ضعيف، وشيخه الوليد بن عياش لم نقف له على ترجمة فنتبيَّن حاله، إبراهيم: هو ابن يزيد النخعي، وعلقمة: هو ابن قيس النخعي.
⚖️ درجۂ حدیث: یہ حدیث "واہی" (انتہائی کمزور) ہے، اور یہ نعیم کی "اوابد" (عجیب و غریب روایات) میں سے ہے جیسا کہ ذہبی نے "التلخیص" میں فرمایا۔ 🔍 فنی نکتہ / علّت: یحییٰ بن سعید سے مراد "عطار" ہیں جو کہ ضعیف ہیں، اور ان کے شیخ "ولید بن عیاش" کا ہمیں کوئی ترجمہ نہیں ملا تاکہ ان کا حال معلوم ہو سکے۔ ابراہیم سے مراد "ابراہیم بن یزید نخعی" اور علقمہ سے مراد "ابن قیس نخعی" ہیں۔
وإسناد المصنف فيه وهمٌ ممَّن دون نعيم بن حماد، فالحديث في كتابه "الفتن" (87) عن يحيى بن سعيد العطار قال: حدثنا حجاج، رجلٌ منّا، عن الوليد بن عياش قال: قال عبد الله بن مسعود … فذكره. فبان بذلك علّته، فحجّاج هذا لا يعرف كالوليد بن عياش، وبين الوليد وابن مسعود إعضال، فالسند ساقط.
🔍 فنی نکتہ / علّت: مصنف کی سند میں نعیم بن حماد سے نیچے والے راویوں کی طرف سے "وہم" ہوا ہے۔ کیونکہ یہ حدیث نعیم کی اپنی کتاب "الفتن" (87) میں یحییٰ بن سعید عطار سے یوں مروی ہے: "ہم سے حجاج (ہمارے ایک آدمی) نے بیان کیا، انہوں نے ولید بن عیاش سے..."۔ اس سے علت واضح ہو گئی، کیونکہ یہ حجاج بھی ولید بن عیاش کی طرح مجہول (غیر معروف) ہے، اور ولید اور ابن مسعود کے درمیان "اعضال" (سخت انقطاع) ہے، لہذا یہ سند "ساقط" ہے۔