🏠 👥 🔍 🧩 🅰️ 📌 ↩️

المستدرك على الصحيحين سے متعلقہ
تمام کتب
ترقیم الرسالہ
ترقيم الشرکۃ
عربی لفظ
اردو لفظ
حدیث کتب میں نمبر سے حدیث تلاش کریں:

ترقیم الرساله سے تلاش کل احادیث (9018)
حدیث نمبر لکھیں:
ترقیم الشركة سے تلاش کل احادیث (8909)
حدیث نمبر لکھیں:
حدیث میں عربی لفظ/الفاظ تلاش کریں
عربی لفظ / الفاظ لکھیں:
حدیث میں اردو لفظ/الفاظ تلاش کریں
اردو لفظ / الفاظ لکھیں:
58. قول النبى - صلى الله عليه وآله وسلم - إن فساد أمتي على يدي غلمة سفهاء من قريش
نبی کریم ﷺ کا ارشاد کہ میری امت کا بگاڑ قریش کے چند بیوقوف لونڈوں کے ہاتھوں ہوگا
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 8655
حدثنا علي بن حَمْشَاذَ العَدْل، حدثنا محمد بن غالب، حدثنا موسى بن إسماعيل، حدثنا هشام بن أبي عبد الله، عن قتادة، عن أبي الطُّفيل قال: انطلقتُ أنا وعمرُو بن صُلَيع إلى حذيفة بن اليَمَان وعنده سِماطانِ من الناس، فقلنا: يا حذيفةُ، أدركت ما لم نُدرك، وعَلِمتَ ما لم نعلم، وسمعت ما لم نسمع، فحدِّثنا بشيءٍ لعلَّ الله أن ينفعنا به، فقال: لو حدَّثتُكم بكل ما سمعتُ، ما انتظرتم بي الليل القريب، قال: قلنا: ليس عن هذا نسألك، ولكن حدِّثنا بأمرٍ لعلَّ الله أن ينفعنا به، قال: لو حدَّثتكم أنَّ أمَّ أحدكم تغزو في كتيبةٍ حتى تضرِبَ بالسيف ما صدَّقتموني، قلنا: ليس عن هذا نسألك، ولكن حدثنا بشيءٍ لعلَّ الله أن ينفعنا به، فقال حذيفة: سمعت رسول الله ﷺ يقول:"إنَّ هذا الحيَّ من مُضَرَ لا يزالُ بكلِّ عبدٍ صالح يقتلُه ويُهلكه ويُفنيه، حتى يُدرِكَهم الله بجنودٍ من عنده فتقتلهم، حتى لا يمنعَ ذَنَبَ تَلْعة". قال عمرو بن صُلَيع: واثُكلَ أُمِّه! ألهوت الناسَ إلَّا عن مضر، قال: ألستَ من مُحارِبِ خَصَفةَ؟ قال: بلى، قال: فإذا رأيت قيسًا قد توالتِ الشام، فخُذْ حذرك (1) .
هذا حديث صحيح على شرط الشيخين، ولم يُخرجاه.
[التعليق - من تلخيص الذهبي] ترقيم العلميه 8449 - على شرط البخاري ومسلم
ابوطفیل بیان کرتے ہیں کہ میں اور عمر اور ابن ضلیع، سیدنا حذیفہ بن یمان کے پاس گئے، اس وقت ان کے پاس دو قطاروں میں لوگ موجود تھے، ہم نے کہا: اے حذیفہ! آپ نے وہ زمانہ پایا ہے جو ہم نے نہیں پایا، اور آپ وہ کچھ جانتے ہیں جو ہم نہیں جانتے، اور آپ نے وہ کچھ سنا ہے جو ہم نے نہیں سنا، اس لئے آپ ہمیں کوئی حدیث سنایئے، شاید کہ اللہ تعالیٰ، ہمیں اس سے کوئی فائدہ دے، آپ نے فرمایا: اگر میں تمہیں وہ تمام باتیں سناؤں جو میں نے سنی ہوئی ہیں، تو تم آنے والی رات کا بھی میرے لئے انتظار نہیں کرو گے، ہم نے کہا: ہم نے اس بارے میں آپ سے نہیں پوچھا بلکہ ہم یہ پوچھ رہے ہیں کہ آپ ہمیں کوئی ایسی بات سنا دیجئے، جس کے ذریعے اللہ تعالیٰ ہمیں کوئی نفع دے۔ جب سیدنا حذیفہ رضی اللہ عنہ نے فرمایا کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا: مضر کا یہ قبیلہ مسلسل ایک نیک آدمی کو قتل کرتا رہے گا، اس کو ہلاک کرتا رہے گا، اس کو فنا کرتا رہے گا۔ حتی کہ ان پر اپنا ایک لشکر مسلط فرمائے گا، وہ ان کو قتل کرے گا، حتی کہ یہ قتل بہت کثیر ہو جائے گا، سیدنا عمرو بن ضلیع نے کہا: اس کی ماں نہ رہے، تو نے لوگوں کے ساتھ مضر کے ذریعے مذاق کیا ہے، آپ نے فرمایا: کیا تم غزوہ ذات الرقاع کے مجاہد نہیں ہو؟ انہوں نے کہا: جی ہاں۔ انہوں نے کہا: جب تو قیس کو دیکھے، شام نے اس سے دوستی کر لی ہے۔ تو تم اپنے ہتھیار سنبھال لینا۔ ٭٭ یہ حدیث امام بخاری رحمۃ اللہ علیہ اور امام مسلم رحمۃ اللہ علیہ کے معیار کے مطابق صحیح ہے لیکن شیخین رحمۃ اللہ علیہما نے اس کو نقل نہیں کیا۔ [المستدرك على الصحيحين/كتاب الفتن والملاحم/حدیث: 8655]

المستدرك على الصحيحين کی حدیث نمبر 8655 پر
الشیخ عادل مرشد، ڈاکٹر احمد برہوم، ڈاکٹر محمد کامل قرہ بلی، ڈاکٹر سعید اللحام کی
تخريج وتحقيقِ محدثانہ نکات و اصطلاحی مطالعہ
(1) إسناده صحيح. أبو الطفيل: هو عامر بن واثلة، وهو وعمرو بن صليع معدودان في صغار الصحابة.
⚖️ درجۂ حدیث: اس کی سند "صحیح" ہے۔ 🔍 فنی نکتہ / علّت: ابوالطفیل سے مراد "عامر بن واثلہ" ہیں، اور وہ اور عمرو بن صلیع "صغارِ صحابہ" (چھوٹے صحابہ) میں شمار ہوتے ہیں۔
وأخرجه بنحوه ابن عساكر في "تاريخ دمشق" 26/ 85 - 86 من طريق محمد بن أبي عدي، عن هشام - وهو الدستوائي - بهذا الإسناد.
📖 حوالہ / مصدر: اسے ابن عساکر نے "تاریخ دمشق" (26/ 85-86) میں محمد بن ابی عدی عن ہشام (دستوائی) کے طریق سے اسی سند کے ساتھ روایت کیا ہے۔
وأخرج المرفوع منه أحمد 38 (23316) عن أبي داود الطيالسي، عن هشام، به.
📖 حوالہ / مصدر: اور امام احمد (38/ 23316) نے اس کا مرفوع حصہ ابوداؤد طیالسی عن ہشام کے واسطے سے روایت کیا ہے۔
وأخرجه أحمد أيضًا (23435) من طريق هزيل بن شرحبيل، عن حذيفة.
📖 حوالہ / مصدر: نیز امام احمد (23435) نے اسے ہزیل بن شرحبیل عن حذیفہ کے طریق سے روایت کیا ہے۔
وسيأتي عند المصنف قريبًا برقم (8657) من طريق عمرو بن حنظلة عن حذيفة.
🧾 تفصیلِ روایت: یہ روایت مصنف کے ہاں عنقریب نمبر (8657) پر عمرو بن حنظلہ عن حذیفہ کے طریق سے آئے گی۔
السِّماطان من الناس: الجانبان.
📝 نوٹ / توضیح: "السِّماطان" کا مطلب ہے: لوگوں کے دو گروہ (یا دو بازو/جانب)۔
والمراد بالحي من مضر: قريش. وذَنَب التَّلعة: المراد به أسفل مَسِيل الماء. وهذا - كما قال السندي في حاشيته على "مسند أحمد" - وصفٌ لهم بالذل والضعف وقلّة المنعة، كأنه قال: حتى لا يملكوا أسفل وادٍ، فضلًا عن البلاد والحكم بين العباد.
📝 نوٹ / توضیح: "قبیلہ مضر" سے مراد "قریش" ہیں۔ "ذَنَب التَّلعة" سے مراد برساتی نالے کا نچلا حصہ ہے۔ سندھی نے "مسند احمد" کے حاشیے میں فرمایا: یہ ان کی ذلت، کمزوری اور بے بسی کا وصف بیان کیا گیا ہے، گویا یہ کہا جا رہا ہے کہ وہ وادی کے نچلے حصے کے بھی مالک نہیں رہیں گے، چہ جائیکہ وہ شہروں اور لوگوں پر حکمرانی کریں۔
وقوله: "ألهوت الناس إلّا عن مضر" لم نتبين معناه.
🔍 فنی نکتہ / علّت: راوی کا یہ قول: "ألهوت الناس إلّا عن مضر"، اس کا معنی ہم پر واضح نہیں ہو سکا۔