🏠 👥 🔍 🧩 🅰️ 📌 ↩️

المستدرك على الصحيحين سے متعلقہ
تمام کتب
ترقیم الرسالہ
ترقيم الشرکۃ
عربی لفظ
اردو لفظ
حدیث کتب میں نمبر سے حدیث تلاش کریں:

ترقیم الرساله سے تلاش کل احادیث (9018)
حدیث نمبر لکھیں:
ترقیم الشركة سے تلاش کل احادیث (8909)
حدیث نمبر لکھیں:
حدیث میں عربی لفظ/الفاظ تلاش کریں
عربی لفظ / الفاظ لکھیں:
حدیث میں اردو لفظ/الفاظ تلاش کریں
اردو لفظ / الفاظ لکھیں:
62. إخبار عبد الله بن عمرو بإنقاض يزيد البيت
سیدنا عبداللہ بن عمرو رضی اللہ عنہما کی یزید کے ہاتھوں بیت اللہ کی بے حرمتی کی خبر دینا
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 8672
سمعتُ الفقيه الأديب الأوحد أبا بكر محمد بن علي القَفَّال غير مرة يقول: سمعت أبا بكر محمد بن يحيى الصُّولِيَّ النَّحْوي يقول: أولُ من مَدَحَ التُّركَ من شعراء العرب عليُّ بن العباس الرُّومي حيث يقول: إذا ثَبَتوا فسَدٌّ من حديدٍ … تَخالُ عيوننا فيهِ تَحارُ وإن بَرَزُوا فنيرانٌ تلظَّى … على الأعداء يضرِمُها (3) استِعارُ ملوكُ الأرض أعينُهم صغارٌ … إذا بَرَزُوا وأنفُسُهم كبارُ
محمد بن یحیی الصولی النحوی کہتے ہیں: عرب کے شعراء میں سب سے پہلا شخص جس نے ترک کی تعریف کی ہے، وہ علی بن عباس روی ہے اس نے کہا: ٭ جب وہ ثابت ہوتے ہیں تو لوہے کی دیوار کی طرح ہوتے ہیں، ان کی آنکھوں کی سیاہی اور سفیدی بہت گہری معلوم ہوتی ہیں۔ ٭ اور اگر وہ ظاہر ہوں تو دشمنوں پر شعلے بھڑکاتی ہوئی آگ کی طرح ہیں، جس کا دفاع ادھار لیا جاتا ہے۔ ٭ وہ زمین کے بادشاہ ہیں، جب وہ ظاہر ہوتے ہیں، ان کی آنکھیں چھوٹی چھوٹی ہیں، اور وہ خود بڑے بڑے ہیں۔ [المستدرك على الصحيحين/كتاب الفتن والملاحم/حدیث: 8672]

المستدرك على الصحيحين کی حدیث نمبر 8672 پر
الشیخ عادل مرشد، ڈاکٹر احمد برہوم، ڈاکٹر محمد کامل قرہ بلی، ڈاکٹر سعید اللحام کی
تخريج وتحقيقِ محدثانہ نکات و اصطلاحی مطالعہ
(3) تحرَّف في (ز) و (ك) إلى: بصر فيها، وفي (م) و (ب) إلى: يصرفها، وضبطت في (م) بتشديد الراء، ولعلَّ الصواب ما أثبتنا، فالضِّرام اشتعال النار في الحطب وغيره.
📝 نوٹ / توضیح: نسخہ (ز) اور (ك) میں تحریف ہو کر "بصر فيها" اور نسخہ (م) اور (ب) میں "يصرفها" بن گیا، نسخہ (م) میں را پر تشدید لگی ہے۔ غالباً درست وہی ہے جو ہم نے ثابت کیا ہے (یعنی الضرام)، کیونکہ "ضرام" کا مطلب لکڑی وغیرہ میں آگ کا بھڑکنا ہے۔