المستدرك على الصحيحين سے متعلقہ
تمام کتب
ترقیم الرسالہ
ترقيم الشرکۃ
عربی لفظ
اردو لفظ
68. إذا بلغت بنو أمية أربعين ، اتخذوا عباد الله خولا
جب بنو امیہ کی تعداد چالیس تک پہنچ جائے گی تو وہ اللہ کے بندوں کو اپنا غلام بنا لیں گے
حدیث نمبر: 8686
قال أبو بكر بن أبي مريم: وحدثني عمّارُ بن أبي عمّار، أنه سمع أبا هريرة يقول: سمعت رسول الله ﷺ يقول:"هلاك هذه الأُمَّة على يَدَي أُغيلمةٍ من قُريش" (1) .
هذا حديث صحيح على شرط الشيخين، ولم يُخرجاه. لهذا الحديث توابعُ وشواهدُ عن رسول الله ﷺ، وصحابته الطاهرين والأئمَّة من التابعين لم يَسعنى إلَّا ذِكرُها، فذكرتُ بعض ما حَضَرني منها. فمنها:
هذا حديث صحيح على شرط الشيخين، ولم يُخرجاه. لهذا الحديث توابعُ وشواهدُ عن رسول الله ﷺ، وصحابته الطاهرين والأئمَّة من التابعين لم يَسعنى إلَّا ذِكرُها، فذكرتُ بعض ما حَضَرني منها. فمنها:
8686 - عمار بن ابی عمار بیان کرتے ہیں کہ انہوں نے حضرت ابو ہریرہ (رضی اللہ عنہ) کو یہ فرماتے ہوئے سنا کہ: میں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کو فرماتے سنا: "اس امت کی ہلاکت قریش کے چند چھوکروں (نا تجربہ کار نوجوانوں) کے ہاتھوں ہوگی"۔ یہ حدیث شیخین (امام بخاری و مسلم) کی شرائط پر صحیح ہے، لیکن انہوں نے اسے اپنی کتب میں نقل نہیں کیا۔ اس حدیث کے دیگر متابعات اور شواہد رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم ، آپ کے پاکباز صحابہ اور ائمہ تابعین سے مروی ہیں جن کا ذکر کرنا میرے لیے ضروری تھا، چنانچہ ان میں سے جو مجھے اس وقت یاد آئے وہ میں نے ذکر کر دیے ہیں۔ ان میں سے ایک یہ ہے: [المستدرك على الصحيحين/كتاب الفتن والملاحم/حدیث: 8686]
المستدرك على الصحيحين کی حدیث نمبر 8686 پر
الشیخ عادل مرشد، ڈاکٹر احمد برہوم، ڈاکٹر محمد کامل قرہ بلی، ڈاکٹر سعید اللحام کی
تخريج وتحقيقِ محدثانہ نکات و اصطلاحی مطالعہ
الشیخ عادل مرشد، ڈاکٹر احمد برہوم، ڈاکٹر محمد کامل قرہ بلی، ڈاکٹر سعید اللحام کی
تخريج وتحقيقِ محدثانہ نکات و اصطلاحی مطالعہ
(1) حديث صحيح، وهذا إسناد ضعيف لضعف أبي بكر بن أبي مريم، وقد توبع.
⚖️ درجۂ حدیث: (اصل) حدیث صحیح ہے، لیکن یہ موجودہ سند "ابوبکر بن ابی مریم" کے ضعف کی وجہ سے ضعیف ہے، تاہم ان کی متابعت کی گئی ہے۔
فقد أخرجه نعيم بن حماد في "الفتن" (315) عن عبد الصمد بن عبد الوارث، عن حماد بن سلمة، عن عمار بن أبي عمار، به - إلّا أنه وقع عنده موقوفًا على أبي هريرة.
🧩 متابعات و شواہد: چنانچہ اسے نعیم بن حماد نے "الفتن" (315) میں عبد الصمد بن عبد الوارث سے، انہوں نے حماد بن سلمہ سے، انہوں نے عمار بن ابی عمار سے اسی سند کے ساتھ روایت کیا ہے - مگر ان کے ہاں یہ حضرت ابوہریرہؓ پر موقوف ہے۔
والحديث محفوظ من أوجه عن أبي هريرة مرفوعًا، انظر ما سلف برقم (8565).
📌 اہم نکتہ: یہ حدیث حضرت ابوہریرہؓ سے دیگر کئی سندوں (طرق) سے مرفوعاً "محفوظ" ہے۔ پچھلی روایت نمبر (8565) ملاحظہ کریں۔