المستدرك على الصحيحين سے متعلقہ
تمام کتب
ترقیم الرسالہ
ترقيم الشرکۃ
عربی لفظ
اردو لفظ
68. إذا بلغت بنو أمية أربعين ، اتخذوا عباد الله خولا
جب بنو امیہ کی تعداد چالیس تک پہنچ جائے گی تو وہ اللہ کے بندوں کو اپنا غلام بنا لیں گے
حدیث نمبر: 8687
ما حدَّثَناه أبو عبد الله محمد بن علي بن عبد الحميد الصَّنعاني بمكة حَرَسَها الله، حدثنا إسحاق بن إبراهيم بن عَبَّاد، أخبرنا عبد الرزاق. وحدثنا أبو زكريا يحيى بن محمد العَنبَري، حدثنا محمد بن عبد السلام، حدثنا إسحاق بن إبراهيم الحَنظَلي ومحمد بن رافع القُشَيري وسَلَمة بن شبيب المُستَمْلي قالوا: حدثنا عبد الرزاق بن همام الإمامُ الهُمَام (1) قال: حدثني أبي، عن مِيناء مولى عبد الرحمن بن عوف، عن عبد الرحمن بن عوف قال: كان لا يولدُ لأحدٍ مولودٌ إِلَّا أتي به النبي ﷺ فدعا له، فأُدخل عليه مروانُ بن الحَكَم فقال:"هو الوَزَغُ ابن الوَزَغ، الملعونُ ابن الملعون" (2) .
هذا حديث صحيح الإسناد، ولم يُخرجاه. ومنها:
هذا حديث صحيح الإسناد، ولم يُخرجاه. ومنها:
سیدنا عبدالرحمن بن عوف رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں: جس کسی کے ہاں بھی بچہ پیدا ہوتا، وہ اس کو نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کی بارگاہ میں لاتا، نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم اس کے لئے دعا فرماتے، اسی طرح مروان بن حکم کو بھی رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی بارگاہ میں پیش کیا گیا، آپ نے اس کے بارے میں فرمایا: یہ وزغ بن وزغ (بزدل باپ کا بزدل بیٹا) ہے، ملعون ابن ملعون (لعنتی باپ کا لعنتی بیٹا) ہے۔ ٭٭ یہ حدیث صحیح الاسناد ہے لیکن امام بخاری رحمۃ اللہ علیہ اور امام مسلم رحمۃ اللہ علیہ نے اس کو نقل نہیں کیا۔ [المستدرك على الصحيحين/كتاب الفتن والملاحم/حدیث: 8687]
المستدرك على الصحيحين کی حدیث نمبر 8687 پر
الشیخ عادل مرشد، ڈاکٹر احمد برہوم، ڈاکٹر محمد کامل قرہ بلی، ڈاکٹر سعید اللحام کی
تخريج وتحقيقِ محدثانہ نکات و اصطلاحی مطالعہ
الشیخ عادل مرشد، ڈاکٹر احمد برہوم، ڈاکٹر محمد کامل قرہ بلی، ڈاکٹر سعید اللحام کی
تخريج وتحقيقِ محدثانہ نکات و اصطلاحی مطالعہ
(1) هكذا في (م)، وكأنها في بقية النسخ: المتمام، أو المئمام.
🔍 فنی نکتہ / علّت: نسخہ (م) میں یوں ہی لکھا ہے، اور ایسا لگتا ہے کہ باقی نسخوں میں یہ لفظ "المتمام" یا "المئمام" ہے۔
(2) إسناده واهٍ، ميناء متروك واتهمه أبو حاتم الرازي بالكذب، وبه أعلّه الذهبي في "تلخيصه".
⚖️ درجۂ حدیث: اس کی سند واہی (انتہائی کمزور) ہے۔ 🔍 فنی نکتہ / علّت: راوی "میناء" متروک ہے اور ابو حاتم رازی نے اس پر جھوٹ کا الزام لگایا ہے، اور ذہبی نے اپنی "تلخیص" میں اسی وجہ سے اسے معلول قرار دیا ہے۔
وأخرجه نعيم بن حماد في "الفتن" (317) عن عبد الرزاق، عن أبيه، عن ميناء مرسلًا، لم يذكر فيه عبد الرحمن بن عوف.
📖 حوالہ / مصدر: اسے نعیم بن حماد نے "الفتن" (317) میں عبدالرزاق سے، انہوں نے اپنے والد سے اور انہوں نے میناء سے مرسلاً روایت کیا ہے، جس میں عبد الرحمن بن عوف کا ذکر نہیں ہے۔