المستدرك على الصحيحين سے متعلقہ
تمام کتب
ترقیم الرسالہ
ترقيم الشرکۃ
عربی لفظ
اردو لفظ
69. ذكر أبغض الأحياء إلى رسول الله
رسول اللہ ﷺ کے نزدیک ناپسندیدہ ترین قبیلوں کا تذکرہ
حدیث نمبر: 8691
ما حدَّثَناه أبو أحمد علي بن محمد الأزرقي بمَرُو، حدثنا أبو جعفر محمد بن إسماعيل بن سالم الصائغ بمكّة، حدثنا أحمد بن محمد بن الوليد الأزرقي، مؤذِّنُ المسجد الحرام، حدثنا مسلم بن خالد الزَّنْجي، عن العلاء بن عبد الرحمن، عن أبيه، عن أبي هريرة، أنَّ رسول الله ﷺ قال:"إني أُرِيتُ في منامي كأَنَّ بني الحَكَم بن أبي العاص يَنزُون على مِنبري كما تَنْزُو القِرَدةُ". قال: فما رئي النبي ﷺ مستجمعًا ضاحكًا حتى تُوفِّي (3) .
هذا حديث صحيح على شرط الشيخين، ولم يُخرجاه. ومنها:
[التعليق - من تلخيص الذهبي] ترقيم العلميه 8481 - على شرط مسلم
هذا حديث صحيح على شرط الشيخين، ولم يُخرجاه. ومنها:
[التعليق - من تلخيص الذهبي] ترقيم العلميه 8481 - على شرط مسلم
سیدنا ابوہریرہ رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا: مجھے خواب میں دکھایا گیا ہے جیسے حکم بن ابی العاص کی اولادیں، میرے منبر پر بندروں کی طرح پھدک رہی ہے۔ آپ فرماتے ہیں: وفات تک رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کو کھل کر ہنستے ہوئے نہیں دیکھا گیا۔ ٭٭ یہ حدیث امام بخاری رحمۃ اللہ علیہ اور امام مسلم رحمۃ اللہ علیہ کے معیار کے مطابق صحیح ہے لیکن شیخین رحمۃ اللہ علیہما نے اس کو نقل نہیں کیا۔ [المستدرك على الصحيحين/كتاب الفتن والملاحم/حدیث: 8691]
المستدرك على الصحيحين کی حدیث نمبر 8691 پر
الشیخ عادل مرشد، ڈاکٹر احمد برہوم، ڈاکٹر محمد کامل قرہ بلی، ڈاکٹر سعید اللحام کی
تخريج وتحقيقِ محدثانہ نکات و اصطلاحی مطالعہ
الشیخ عادل مرشد، ڈاکٹر احمد برہوم، ڈاکٹر محمد کامل قرہ بلی، ڈاکٹر سعید اللحام کی
تخريج وتحقيقِ محدثانہ نکات و اصطلاحی مطالعہ
(3) إسناده حسن في المتابعات والشواهد من أجل مسلم بن خالد الزَّنجي، وقد توبع، وباقي رجاله لا بأس بهم.
⚖️ درجۂ حدیث: اس کی سند متابعات اور شواہد میں "حسن" ہے، جس کی وجہ "مسلم بن خالد زنجی" ہیں (جو کہ صدوق ہیں لیکن اوہام رکھتے ہیں)، تاہم ان کی متابعت کی گئی ہے اور باقی راویوں میں کوئی حرج نہیں ہے۔
وأخرجه أبو يعلى (6461) عن مصعب بن عبد الله الزُّبيري، عن عبد العزيز بن أبي حازم، عن العلاء، بهذا الإسناد ومصعب وعبد العزيز لا بأس بهما. ينزون: أي: يتواثبون.
📖 حوالہ / مصدر: اسے ابو یعلیٰ (6461) نے مصعب بن عبد اللہ زبیری سے، انہوں نے عبد العزیز بن ابی حازم سے، انہوں نے علاء سے اسی سند کے ساتھ روایت کیا ہے؛ اور مصعب و عبد العزیز دونوں میں کوئی حرج نہیں۔ 📝 نوٹ / توضیح: "ينزون" کا معنی ہے: وہ اچھلیں گے / کودیں گے۔
وقوله: "مستجمعًا ضاحكًا" أي مقبلًا على الضحك، والمستجمع: المجدّ في الشيء القاصد له.
📝 نوٹ / توضیح: ان کا قول "مستجمعًا ضاحكًا" کا مطلب ہے: ہنسنے کی طرف مائل ہونا۔ اور "مستجمع" اس شخص کو کہتے ہیں جو کسی کام میں سنجیدہ ہو اور اس کا قصد کرنے والا ہو۔