المستدرك على الصحيحين سے متعلقہ
تمام کتب
ترقیم الرسالہ
ترقيم الشرکۃ
عربی لفظ
اردو لفظ
82. حلية الدجال بلسان النبى - صلى الله عليه وآله وسلم - 3519 - هلاك يأجوج ومأجوج
نبی کریم ﷺ کی زبانِ مبارک سے دجال کا حلیہ اور صفات
حدیث نمبر: 8717
حدثني أبو بكر محمد أحمد بن بالَوَيهِ، حدثنا محمد بن شاذانَ الجَوهَري، حدثنا سعيد بن سليمان الواسطي، حدثنا خَلَف بن خَليفة الأشجعي، حدثنا أبو مالك الأشجعي، عن أبي حازم الأشجعي، عن رِبْعيِّ بن حِرَاش، عن حُذيفة بن اليَمَان قال: قال رسول الله ﷺ:"أنا أعلمُ بما مع الدَّجّال منه، معه نهرانِ أحدُهما نارٌ تَأجَّجُ في عينِ مَن رآه، والآخَرُ ماءٌ أبيضُ، فإن أدرَكَه منكم [أحدٌ] فليُغمِضْ وليَشْرَبْ من الذي يراه نارًا، فإنه ماءٌ بارد، وإياكم والآخَرَ فإنه الفِتنةُ، واعلموا أنه مكتوبٌ بين عينيهِ كافرٌ، يقرؤُه من يكتبُ ومن لا يكتب، وإنَّ إحدى عَينيهِ ممسوحةٌ عليها ظَفَرةٌ، إنه إنه يَطلُعُ من آخر أَمَدِه على بَطْن الأُردنِّ على ثَنِيَّة أَفِيقَ، وكلُّ أحدٍ يؤمنُ بالله واليوم الآخر ببَطْن الأُردنّ، وإنه يَقتُل من المسلمين ثُلثًا، ويَهزِمُ ثلثًا، ويُبقِي ثلثًا (1) ، وَيَجُنُّ عليهم الليلُ فيقول بعضُ المؤمنين لبعض: ما تَنتظِرون أن تَلحَقوا بإخوانكم في مَرْضاةِ ربِّكم؟ مَن كان عنده فَضْلُ طعامٍ فليَعُدْ به على أخيه، وصَلُّوا حين ينفجرُ الفجرُ، وعجِّلوا الصلاةَ، ثم أَقبِلوا على عدوِّكم. فلما قاموا يصلُّون نَزَلَ عيسى ابن مريمَ صلوات الله عليه أَمامَهم، فصلَّى بهم، فلما انصرف قال هكذا: أَفرِجُوا بيني وبينَ عدوِّ الله - قال أبو حازم (2) : قال أبو هريرة: فيذوبُ كما تذوبُ الإِهالةُ في الشمس، وقال عبد الله بن عمرو: كما يذوبُ المِلحُ في الماء - وسَلَّطَ الله عليهم المسلمين فيَقتُلونهم، حتى إنَّ الشجرةَ والحجرَ ليُنادي: يا عبدَ الله، يا عبدَ الرحمن، يا مسلمُ، هذا يهوديٌّ فاقتُلْه، فيُفنِيهم الله، ويَظْهَرُ المسلمون فيَكِسرون الصَّليب، ويقتلون الخِنزير، ويَضَعُون الجِزْية. فبينما هم كذلك، أَخرَجَ اللهُ أهلَ يأجوجَ ومأجوجَ، فيشربُ أوَّلُهم البُحَيرةَ، ويجيءُ آخرهم وقد انتَشَفُوه فما يَدَعُون فيه قَطْرةً، فيقولون: ظَهَرْنا على أعدائنا، قد كان هاهنا أثرُ ماءٍ، فيجئُ نبيُّ الله ﷺ وأصحابُه وراءَه حتى يدخلوا مدينةً من مدائن فلسطين يقال لها: لُدٌّ، فيقولون: ظَهَرْنا على مَن في الأرض، فتعالَوْا نُقاتِلُ مَن في السماء، فيَدْعُو الله نبيُّه ﷺ عند ذلك، فيَبعَثُ اللهُ عليهم قَرْحةً في حُلوقهم، فلا يبقى منهم بشرٌ، فتُؤْذي رِيحُهم المسلمين، فيَدعُو عيسى صلوات الله عليه عليهم، 4/ 492 فيُرسِلُ الله عليهم ريحًا فتَقذِفُهم في البحر أَجمعين" (1) .
هذا حديث صحيح على شرط مسلم، ولم يُخرجاه.
[التعليق - من تلخيص الذهبي] ترقيم العلميه 8507 - سكت عنه الذهبي في التلخيص
هذا حديث صحيح على شرط مسلم، ولم يُخرجاه.
[التعليق - من تلخيص الذهبي] ترقيم العلميه 8507 - سكت عنه الذهبي في التلخيص
سیدنا حذیفہ بن یمان رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا: دجال کے حالات کو سب سے زیادہ میں جانتا ہوں، اس کے ساتھ دو نہریں ہوں گی، ان میں سے ایک کے اندر دیکھنے والوں کو آگ دکھائی دے گی، اور دوسری میں سفید پانی دکھائی دے گا، جو شخص اس کو پائے تو اس کو چاہئے کہ وہ اس آگ والی نہر میں غوطہ لگائے اور اسی سے پیئے کیونکہ حقیقت میں وہ ٹھنڈا پانی ہو گا، اور دوسری نہر سے بچ کر رہنا، کیونکہ وہ فتنہ ہے۔ اور جان لو کہ اس کی دونوں آنکھوں کے درمیان ” کافر “ لکھا ہوا ہو گا، ہر پڑھا لکھا اور ان پڑھ اس کو پڑھ لے گا، آنکھ کی بیماری کی وجہ سے اس کی ایک آنکھ ضائع ہو چکی ہو گی، اس کے احوال میں آخری واقعہ یہ ہو گا کہ وہ سرزمین اردن پر آئے گا، اپنے گھر پر صبح کرے گا، اردن میں ہر شخص اللہ تعالیٰ پر اور آخرت پر ایمان رکھنے والا ہو گا، وہ مسلمانوں کی ایک تہائی جماعت کو قتل کر دے گا، ایک تہائی بھاگ جائیں گے، اور ایک تہائی باقی بچیں گے۔ جب رات ہو گی تو مومنین ایک دوسرے سے کہیں گے، ہمیں اپنے رب کی رضا کے لئے اپنے مسلمان بھائیوں کی امداد کرنی چاہئے، جس کے پاس کوئی کھانے پینے کی کوئی چیز ہو، وہ اپنے مسلمان بھائی تک پہنچائے، اور جیسے ہی صبح صادق کا وقت شروع ہو، نماز فجر ادا کر کے اپنے دشمن پر حملہ آور ہو جائیں، جب یہ نماز کے لئے کھڑے ہوں گے تو سیدنا عیسیٰ علیہ السلام نازل ہوں گے، آپ لوگوں کو نماز پڑھائیں گے، جب نماز سے فارغ ہو جائیں گے، ہاتھ سے اشارہ کر کے کہیں گے: میرے اور اللہ کے دشمن کے درمیان راستہ چھوڑ دو، ابوحازم کہتے ہیں: سیدنا ابوہریرہ رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں: (سیدنا عیسیٰ علیہ السلام کو دیکھ کر) وہ یوں پگھلنا شروع ہو جائے گا جیسے دھوپ میں چربی پگھلتی ہے، اور سیدنا عبداللہ بن عمرو نے اس موقع پر فرمایا: وہ ایسے پگھلنا شروع ہو جائے گا جیسے پانی میں نمک پگھلتا ہے، اللہ تعالیٰ ان پر مسلمانوں کو مسلط کر دے گا، وہ ان لوگوں کو قتل کریں گے، جتنی کہ درخت اور پھر آواز دے دے کر کہیں گے: اے عبداللہ، اے عبدالرحمن، اے مسلمان، یہ دیکھو، یہاں پر یہودی چھپا ہوا ہے، اس کو قتل کرو، اس طرح اللہ تعالیٰ یہودیوں کا صفایا کر دے گا اور مسلمانوں کو غلبہ دے گا، مسلمان صلیب توڑ دیں گے اور خنزیر کو قتل کریں گے، اور جزیہ ختم ہو جائے گا۔ لوگ اسی طرح زندگی بسر کر رہے ہوں گے کہ اللہ تعالیٰ یاجوج و ماجوج کو نکالے گا، ان کا پہلا لشکر سمندر کا پانی پی جائے گا، جب آخری فرد وہاں پہنچے گا تو پانی ختم ہو چکا ہو گا، وہ اس میں ایک قطرہ تک نہیں چھوڑیں گے، وہ کہیں گے: یہاں پر کبھی پانی کا اثر ہوتا تھا۔ پھر اللہ کا نبی اور اس کے صحابی اس کا تعاقب کریں گے، فلسطین کے ایک شہر میں داخل ہوں گے، اس کا نام ” لد “ ہے۔ یہ کہیں گے: ہم زمین والوں پر غالب آ گئے ہیں، اب چلو ہم آسمان والوں سے بھی لڑتے ہیں، یہ لوگ اس وقت اللہ کے نبی (سیدنا عیسیٰ علیہ السلام) اللہ تعالیٰ سے دعا مانگیں گے، (نبی کی دعا کی برکت سے) اللہ تعالیٰ ان کے حلق میں کیڑے پیدا کر دے گا، جس کی وجہ سے ان کا کوئی ایک فرد بھی زندہ نہیں بچے گا، پھر ان کی بدبو مسلمانوں کو تکلیف دے رہی ہو گی، سیدنا عیسیٰ علیہ السلام دعا مانگیں گے، اللہ تعالیٰ تیز ہوا بھیجے گا، وہ ان سب کو اٹھا کر سمندر میں پھینک دے گی۔ ٭٭ یہ حدیث امام مسلم رحمۃ اللہ علیہ کے معیار کے مطابق صحیح ہے لیکن شیخین رحمۃ اللہ علیہما نے اس کو نقل نہیں کیا۔ [المستدرك على الصحيحين/كتاب الفتن والملاحم/حدیث: 8717]
المستدرك على الصحيحين کی حدیث نمبر 8717 پر
الشیخ عادل مرشد، ڈاکٹر احمد برہوم، ڈاکٹر محمد کامل قرہ بلی، ڈاکٹر سعید اللحام کی
تخريج وتحقيقِ محدثانہ نکات و اصطلاحی مطالعہ
الشیخ عادل مرشد، ڈاکٹر احمد برہوم، ڈاکٹر محمد کامل قرہ بلی، ڈاکٹر سعید اللحام کی
تخريج وتحقيقِ محدثانہ نکات و اصطلاحی مطالعہ
(1) في "تلخيص الذهبي": ويبقى ثلث، وهو أوجه، وكانت كذلك في (ب) ثم أُلحق بها ألف فصارت: ثلثًا.
🔍 فنی نکتہ / علّت: ذہبی کی "تلخیص" میں "ویبقی ثلث" (اور ایک تہائی باقی رہے گا) ہے، اور یہی زیادہ موزوں (اوجه) ہے۔ نسخہ (ب) میں بھی ایسا ہی تھا پھر اس کے ساتھ "الف" لگا دیا گیا تو وہ "ثلثاً" بن گیا۔
(2) تحرَّف في النسخ الخطية إلى: أبو حارمة، والتصويب من "تلخيص الذهبي".
🔍 فنی نکتہ / علّت: قلمی نسخوں میں یہ لفظ تحریف ہو کر "ابو حارمہ" بن گیا ہے، درستگی ذہبی کی "تلخیص" سے کی گئی ہے۔
(1) إسناده حسن من أجل خلف بن خليفة، لكن قال الحافظ ابن كثير في "البداية والنهاية" 19/ 216: فيه سياق غريب وأشياء منكرة، والله أعلم.
⚖️ درجۂ حدیث: اس کی سند "خلف بن خلیفہ" کی وجہ سے "حسن" ہے، لیکن حافظ ابن کثیر نے "البدایۃ والنہایۃ" (19/ 216) میں فرمایا: "اس میں غریب سیاق اور منکر چیزیں ہیں، واللہ اعلم۔"
أبو مالك الأشجعي: هو سعد بن طارق، وأبو حازم الأشجعي: هو سلمان.
🔍 فنی نکتہ / علّت: راویوں کا تعین: "ابو مالک اشجعی" سے مراد سعد بن طارق ہیں، اور "ابو حازم اشجعی" سے مراد سلمان ہیں۔
وأخرجه ابن منده في "الإيمان" (1033) من طريق أحمد بن مهدي، عن سعيد بن سليمان الواسطي، بهذا الإسناد. إلّا أنه أسقط منه أبا حازم، ورواية أبي مالك الأشجعي عن ربعي بن حراش معروفة مشهورة.
📖 حوالہ / مصدر: اسے ابن مندہ نے "الایمان" (1033) میں احمد بن مہدی کے طریق سے، وہ سعید بن سلیمان واسطی سے اسی سند کے ساتھ روایت کرتے ہیں۔ 🔍 فنی نکتہ / علّت: سوائے اس کے کہ انہوں نے اس سے "ابو حازم" کو گرا دیا (ذکر نہیں کیا)، اور (ویسے بھی) ابو مالک اشجعی کی ربعی بن حراش سے روایت معروف و مشہور ہے۔
وأخرج أوله إلى قوله: "عليها ظفرة": أحمد 38/ (23279)، ومسلم (2934) (105) من طريق يزيد بن هارون، عن أبي مالك الأشجعي، عن ربعي، عن حذيفة. ولم يذكر فيه أبا حازم.
📖 حوالہ / مصدر: اس کا ابتدائی حصہ "عليها ظفرة" کے قول تک: احمد (38/ 23279) اور مسلم (2934) (105) نے یزید بن ہارون کے طریق سے، وہ ابو مالک اشجعی سے، وہ ربعی سے اور وہ حذیفہؓ سے روایت کیا ہے۔ اس میں انہوں نے ابو حازم کا ذکر نہیں کیا۔
وأخرج منه قصة النهرين النار والماء البارد: أحمد (23338)، وأبو داود (4315) من طريق منصور بن المعتمر، وأحمد (23353)، والبخاري (3450)، ومسلم (2934) (106) و (107) من طريق عبد الملك بن عمير، ومسلم (2934) (108)، وابن حبان (6799) من طريق نعيم بن أبي هند ثلاثتهم عن ربعي بن حراش، به.
🧾 تفصیلِ روایت: اور اس میں سے دو نہروں (آگ اور ٹھنڈے پانی) کا قصہ: احمد (23338) اور ابو داود (4315) نے منصور بن معتمر کے طریق سے؛ احمد (23353)، بخاری (3450) اور مسلم (2934) (106 اور 107) نے عبد الملک بن عمیر کے طریق سے؛ اور مسلم (2934) (108) اور ابن حبان (6799) نے نعیم بن ابی ہند کے طریق سے روایت کیا ہے۔ یہ تینوں (منصور، عبد الملک، نعیم) ربعی بن حراش سے اسی سند کے ساتھ روایت کرتے ہیں۔