المستدرك على الصحيحين سے متعلقہ
تمام کتب
ترقیم الرسالہ
ترقيم الشرکۃ
عربی لفظ
اردو لفظ
82. حِلْيَةُ الدَّجَّالِ بِلِسَانِ النَّبِيِّ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ - 3519 - هَلَاكُ يَأْجُوجَ وَمَأْجُوجَ
نبی کریم ﷺ کی زبانِ مبارک سے دجال کا حلیہ اور صفات
حدیث نمبر: 8717
حدثني أبو بكر محمد أحمد بن بالَوَيهِ، حدثنا محمد بن شاذانَ الجَوهَري، حدثنا سعيد بن سليمان الواسطي، حدثنا خَلَف بن خَليفة الأشجعي، حدثنا أبو مالك الأشجعي، عن أبي حازم الأشجعي، عن رِبْعيِّ بن حِرَاش، عن حُذيفة بن اليَمَان قال: قال رسول الله ﷺ:"أنا أعلمُ بما مع الدَّجّال منه، معه نهرانِ أحدُهما نارٌ تَأجَّجُ في عينِ مَن رآه، والآخَرُ ماءٌ أبيضُ، فإن أدرَكَه منكم [أحدٌ] فليُغمِضْ وليَشْرَبْ من الذي يراه نارًا، فإنه ماءٌ بارد، وإياكم والآخَرَ فإنه الفِتنةُ، واعلموا أنه مكتوبٌ بين عينيهِ كافرٌ، يقرؤُه من يكتبُ ومن لا يكتب، وإنَّ إحدى عَينيهِ ممسوحةٌ عليها ظَفَرةٌ، إنه إنه يَطلُعُ من آخر أَمَدِه على بَطْن الأُردنِّ على ثَنِيَّة أَفِيقَ، وكلُّ أحدٍ يؤمنُ بالله واليوم الآخر ببَطْن الأُردنّ، وإنه يَقتُل من المسلمين ثُلثًا، ويَهزِمُ ثلثًا، ويُبقِي ثلثًا (1) ، وَيَجُنُّ عليهم الليلُ فيقول بعضُ المؤمنين لبعض: ما تَنتظِرون أن تَلحَقوا بإخوانكم في مَرْضاةِ ربِّكم؟ مَن كان عنده فَضْلُ طعامٍ فليَعُدْ به على أخيه، وصَلُّوا حين ينفجرُ الفجرُ، وعجِّلوا الصلاةَ، ثم أَقبِلوا على عدوِّكم. فلما قاموا يصلُّون نَزَلَ عيسى ابن مريمَ صلوات الله عليه أَمامَهم، فصلَّى بهم، فلما انصرف قال هكذا: أَفرِجُوا بيني وبينَ عدوِّ الله - قال أبو حازم (2) : قال أبو هريرة: فيذوبُ كما تذوبُ الإِهالةُ في الشمس، وقال عبد الله بن عمرو: كما يذوبُ المِلحُ في الماء - وسَلَّطَ الله عليهم المسلمين فيَقتُلونهم، حتى إنَّ الشجرةَ والحجرَ ليُنادي: يا عبدَ الله، يا عبدَ الرحمن، يا مسلمُ، هذا يهوديٌّ فاقتُلْه، فيُفنِيهم الله، ويَظْهَرُ المسلمون فيَكِسرون الصَّليب، ويقتلون الخِنزير، ويَضَعُون الجِزْية. فبينما هم كذلك، أَخرَجَ اللهُ أهلَ يأجوجَ ومأجوجَ، فيشربُ أوَّلُهم البُحَيرةَ، ويجيءُ آخرهم وقد انتَشَفُوه فما يَدَعُون فيه قَطْرةً، فيقولون: ظَهَرْنا على أعدائنا، قد كان هاهنا أثرُ ماءٍ، فيجئُ نبيُّ الله ﷺ وأصحابُه وراءَه حتى يدخلوا مدينةً من مدائن فلسطين يقال لها: لُدٌّ، فيقولون: ظَهَرْنا على مَن في الأرض، فتعالَوْا نُقاتِلُ مَن في السماء، فيَدْعُو الله نبيُّه ﷺ عند ذلك، فيَبعَثُ اللهُ عليهم قَرْحةً في حُلوقهم، فلا يبقى منهم بشرٌ، فتُؤْذي رِيحُهم المسلمين، فيَدعُو عيسى صلوات الله عليه عليهم، 4/ 492 فيُرسِلُ الله عليهم ريحًا فتَقذِفُهم في البحر أَجمعين" (1) .
هذا حديث صحيح على شرط مسلم، ولم يُخرجاه.
[التعليق - من تلخيص الذهبي] ترقيم العلميه 8507 - سكت عنه الذهبي في التلخيص
هذا حديث صحيح على شرط مسلم، ولم يُخرجاه.
[التعليق - من تلخيص الذهبي] ترقيم العلميه 8507 - سكت عنه الذهبي في التلخيص
سیدنا حذیفہ بن یمان رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا: دجال کے حالات کو سب سے زیادہ میں جانتا ہوں، اس کے ساتھ دو نہریں ہوں گی، ان میں سے ایک کے اندر دیکھنے والوں کو آگ دکھائی دے گی، اور دوسری میں سفید پانی دکھائی دے گا، جو شخص اس کو پائے تو اس کو چاہئے کہ وہ اس آگ والی نہر میں غوطہ لگائے اور اسی سے پیئے کیونکہ حقیقت میں وہ ٹھنڈا پانی ہو گا، اور دوسری نہر سے بچ کر رہنا، کیونکہ وہ فتنہ ہے۔ اور جان لو کہ اس کی دونوں آنکھوں کے درمیان ” کافر “ لکھا ہوا ہو گا، ہر پڑھا لکھا اور ان پڑھ اس کو پڑھ لے گا، آنکھ کی بیماری کی وجہ سے اس کی ایک آنکھ ضائع ہو چکی ہو گی، اس کے احوال میں آخری واقعہ یہ ہو گا کہ وہ سرزمین اردن پر آئے گا، اپنے گھر پر صبح کرے گا، اردن میں ہر شخص اللہ تعالیٰ پر اور آخرت پر ایمان رکھنے والا ہو گا، وہ مسلمانوں کی ایک تہائی جماعت کو قتل کر دے گا، ایک تہائی بھاگ جائیں گے، اور ایک تہائی باقی بچیں گے۔ جب رات ہو گی تو مومنین ایک دوسرے سے کہیں گے، ہمیں اپنے رب کی رضا کے لئے اپنے مسلمان بھائیوں کی امداد کرنی چاہئے، جس کے پاس کوئی کھانے پینے کی کوئی چیز ہو، وہ اپنے مسلمان بھائی تک پہنچائے، اور جیسے ہی صبح صادق کا وقت شروع ہو، نماز فجر ادا کر کے اپنے دشمن پر حملہ آور ہو جائیں، جب یہ نماز کے لئے کھڑے ہوں گے تو سیدنا عیسیٰ علیہ السلام نازل ہوں گے، آپ لوگوں کو نماز پڑھائیں گے، جب نماز سے فارغ ہو جائیں گے، ہاتھ سے اشارہ کر کے کہیں گے: میرے اور اللہ کے دشمن کے درمیان راستہ چھوڑ دو، ابوحازم کہتے ہیں: سیدنا ابوہریرہ رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں: (سیدنا عیسیٰ علیہ السلام کو دیکھ کر) وہ یوں پگھلنا شروع ہو جائے گا جیسے دھوپ میں چربی پگھلتی ہے، اور سیدنا عبداللہ بن عمرو نے اس موقع پر فرمایا: وہ ایسے پگھلنا شروع ہو جائے گا جیسے پانی میں نمک پگھلتا ہے، اللہ تعالیٰ ان پر مسلمانوں کو مسلط کر دے گا، وہ ان لوگوں کو قتل کریں گے، جتنی کہ درخت اور پھر آواز دے دے کر کہیں گے: اے عبداللہ، اے عبدالرحمن، اے مسلمان، یہ دیکھو، یہاں پر یہودی چھپا ہوا ہے، اس کو قتل کرو، اس طرح اللہ تعالیٰ یہودیوں کا صفایا کر دے گا اور مسلمانوں کو غلبہ دے گا، مسلمان صلیب توڑ دیں گے اور خنزیر کو قتل کریں گے، اور جزیہ ختم ہو جائے گا۔ لوگ اسی طرح زندگی بسر کر رہے ہوں گے کہ اللہ تعالیٰ یاجوج و ماجوج کو نکالے گا، ان کا پہلا لشکر سمندر کا پانی پی جائے گا، جب آخری فرد وہاں پہنچے گا تو پانی ختم ہو چکا ہو گا، وہ اس میں ایک قطرہ تک نہیں چھوڑیں گے، وہ کہیں گے: یہاں پر کبھی پانی کا اثر ہوتا تھا۔ پھر اللہ کا نبی اور اس کے صحابی اس کا تعاقب کریں گے، فلسطین کے ایک شہر میں داخل ہوں گے، اس کا نام ” لد “ ہے۔ یہ کہیں گے: ہم زمین والوں پر غالب آ گئے ہیں، اب چلو ہم آسمان والوں سے بھی لڑتے ہیں، یہ لوگ اس وقت اللہ کے نبی (سیدنا عیسیٰ علیہ السلام) اللہ تعالیٰ سے دعا مانگیں گے، (نبی کی دعا کی برکت سے) اللہ تعالیٰ ان کے حلق میں کیڑے پیدا کر دے گا، جس کی وجہ سے ان کا کوئی ایک فرد بھی زندہ نہیں بچے گا، پھر ان کی بدبو مسلمانوں کو تکلیف دے رہی ہو گی، سیدنا عیسیٰ علیہ السلام دعا مانگیں گے، اللہ تعالیٰ تیز ہوا بھیجے گا، وہ ان سب کو اٹھا کر سمندر میں پھینک دے گی۔ ٭٭ یہ حدیث امام مسلم رحمۃ اللہ علیہ کے معیار کے مطابق صحیح ہے لیکن شیخین رحمۃ اللہ علیہما نے اس کو نقل نہیں کیا۔ [المستدرك على الصحيحين/كِتَابُ الْفِتَنِ وَالْمَلَاحِمِ/حدیث: 8717]
حدیث نمبر: 8718
حدثنا أبو العباس محمد بن يعقوب، إملاءً في الجامع قبلَ بناء الدار للشيخ الإمام، في شعبان سنةَ ثلاثين وثلاث مئة، حدثنا أبو محمد الرَّبيعُ بن سليمان بن كامل المُرادي سنةَ ستٍّ وستين، حدثنا بِشْر بن بكر التِّنِّيسي، حدثنا عبد الرحمن بن يزيد بن جابر، أخبرني يحيى بن جابر الحِمْصي، حدثنا عبد الرحمن بن جُبير بن نُفير الحَضْرمي، حدثني أَبي، أنه سمع النَّوّاس بن سِمْعان الكِلَابي يقول: ذكرَ رسولُ الله ﷺ الدَّجّالَ ذاتَ غَدَاةٍ، فخفَّض فيه ورفَّع، حتى ظننَّاه في طائفة النَّخل، فلما رُحْنا إلى رسول الله ﷺ، عَرَفَ ذلك فينا وقال:"ما شَأْنُكم؟" فقلنا: يا رسول الله، ذكرتَ الدجالَ الغداةَ فخفَّضتَ ورفَّعتَ، حتى ظننَّاه في طائفة من النخل، قال:"إنْ يَخرُجْ، فأنا حَجيجُه دونَكم، وإن يَخرُجْ ولستُ فيكم، فامْرُؤٌ حَجيجُ نفسِه، واللهُ خَليفتي على كلِّ مسلم. إنه شابٌّ قَطَطٌ، لحيتُه قائمة، كأنه شَبيهٌ بعبد العُزَّى بن قَطَن، فمن رآه منكم فليقرأْ فواتحَ سورةِ أصحابِ الكهف" ثم قال:"أُراه يخرجُ ما بينَ الشام والعراق، فعاثَ يمينًا وعاثَ شِمالًا، يا عبادَ الله اثبُتوا" قلنا: يا رسول الله، وما لَبْثُه في الأرض؟ قال:"أربعين يومًا، يومٌ كسَنةٍ، ويومٌ كشهرٍ، ويومٌ كجُمُعةٍ، وسائرُ أيامِه كأيامكم" قال: قلنا: يا رسول الله، فذلك الذي كسَنةٍ، يَكْفينا فيه صلاةُ يوم؟ قال:"لا، اقدُرُوا له قَدْرَه"، قلنا: يا رسول الله، فما إسراعُه في الأرض؟ قال:"كالغَيثِ استَدبَرَتُه الريحُ". قال:"فيأتي على القوم فيَدْعُوهم، فيُؤمِنون به ويَستجيبون له، فيأمرُ السماءَ فتُمطِرُ، ويأمرُ الأرضَ فتُنبِت، وتَرُوحُ عليهم سارِحَتُهم أطولَ ما كانت ذُرًا (1) ، وأَسبَغَه ضُروعًا، وأمَدَّه خواصرَ، ثم يأتي القومَ فيَدْعوهم فيَرُدُّون عليه قولَه، فينصرِفُ (2) عنهم فتَتبَعُه أموالُهم ويُصبِحون مُمحِلين ما بأيديهم شيءٌ، ثم يمرُّ بالخَرِبةِ فيقول لها: أَخرجي كنوزَك، فينطلقُ وتَتبعُه كنوزُها كيَعاسِيبِ النَّحل، ثم يدعو رجلًا مسلمًا شابًّا فيضربُه بالسيف فيَقطَعُه جَزْلتَينِ، قَطْعَ رَمْيةِ الغَرَض، ثم يدعوه فيُقبِلُ يتهلَّلُ وجهُه يضحكُ". قال:"فبَيْنا هو كذلك، إذْ بَعَثَ اللهُ تعالى عيسى ابنَ مريم، فيَنزِلُ عند المَنارةِ البيضاءِ شرقيَّ دمشقَ في مَهرودَتَينِ واضعًا كَفَّيهِ على أجنحةِ مَلَكَين، إذا طأْطَأ رأسَه قَطَرَ، وإذا رفعه تَحدَّرَ منه جُمَانٌ كاللُّؤلؤ، ولا يَحِلُّ لكافرٍ يَجِدُ ريحَ نَفَسِه إلَّا مات، يَنتَهي حيث يَنتَهي طَرْفُه، فيَطلُبُه حتى يُدرِكَه عند بابِ لُدٍّ، فيقتلُه اللهُ، ثم يأتي عيسى ابن مريم ﵇ نبيُّ الله قومًا قد عَصَمَهم الله منه، فيَمسَحُ عن وجوهِهم (1) ، ويحدِّثُهم عن درجاتهم في الجنة. فبينما هم كذلك إذْ أوحى الله إليه: يا عيسى، إني قد أخرجتُ عبادًا لي لا يدَ (2) لأحدٍ بقتالِهم، حَوِّزْ عبادي إلى الطُّور. ويَبعَثُ الله يأجوجَ ومأجوجَ وهم من كلِّ حَدَبٍ يَنسِلُون، ويمرُّ أوائلُهم على بُحَيرةِ الطَّبَريَّة، فيشربون ما فيها، ثم يمرُّ آخرُهم فيقولون: لقد كان في هذا ماءٌ مرةً، فيُحصَرُ نبيُّ الله عيسى وأصحابُه حتى يكونَ رأسُ الثَّور لأحدهم يومئذٍ خيرًا من مئةِ دينار لأحدكم اليومَ، فيَرغَبُ نبيُّ الله ﷺ وأصحابُه إلى الله ﷿، فيُرسِلُ الله عليهم النَّغَفَ في رقابهم، فيصبحون فَرْسَى كموتِ نفسٍ واحدة، فيَهبِطُ نبيُّ الله ﷺ وأصحابُه لا يَجِدُون موضعَ شبرٍ إلَّا وقد ملأَه اللهُ زَهَمَهم ونَتْنَهم ودماءَهم، ويرغبُ نبيُّ الله عيسى وأصحابه إلى الله، فيُرسِلُ الله طيرًا كأعناقِ البُخْت، فتَحمِلُهم وتَطرَحُهم حيث شاء الله، ثم يرسلُ الله مطرًا لا يَكُنُّ منه بيتُ مَدَرٍ ولا وَبَرٍ، فيَغسِلُ الأرضَ حتى يتركَها كالزَّلَقَة، ثم قال للأرض: أَنبِتي ثمرَك، ورُدِّي بَركتَك، فيومئذٍ تأكل العِصابةُ من الرُّمّانة ويستظلُّون بقِحْفِها، ويُبارَكُ في الرِّسْل، حتى إنَّ اللِّقْحةَ من الإبل لَتَكفي الفِئامَ من الناس، واللِّقْحةَ من البقر تكفي القبيلةَ، واللِّقْحةَ من الغنم تكفي الفَخِذَ، فبينما هم كذلك، إذْ بعثَ الله ريحًا طيِّبةً تأخذُ تحت آباطِهم، وتَقبِضُ روحَ كلِّ مسلم، ويبقى سائرُ الناس يَتهارَجُون كما تَهارَجُ الحُمُرُ، فعليهم تقوم الساعةُ" (1) .
هذا حديث صحيح على شرط الشيخين، ولم يُخرجاه!
[التعليق - من تلخيص الذهبي] ترقيم العلميه 8508 - على شرط البخاري ومسلم
هذا حديث صحيح على شرط الشيخين، ولم يُخرجاه!
[التعليق - من تلخيص الذهبي] ترقيم العلميه 8508 - على شرط البخاري ومسلم
سیدنا نواس بن سمعان کلابی فرماتے ہیں: ایک دن رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے دجال کا ذکر کیا، اس دوران آپ صلی اللہ علیہ وسلم کچھ زمین کی جانب جھکے اور پھر اوپر اٹھے، یوں لگتا تھا جیسے آپ کھجوروں کے کسی باغ میں ہوں، جب ہم شام کے وقت رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی بارگاہ میں حاضر ہوئے تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے ہماری جانب دیکھا اور پوچھا: تم کہاں تھے؟ ہم نے کہا: یا رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم آپ نے صبح دجال کا ذکر کیا تھا، پھر آپ جھک گئے اور پھر آپ اوپر کی طرف اٹھے، ہم سمجھے کہ آپ کھجوروں کے کسی باغ میں ہیں۔ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: اگر میری موجودگی میں دجال ظاہر ہو گیا تو تمہاری طرف سے اس کا مقابلہ میں کروں گا اور اگر اس کے ظاہر ہونے کے وقت میں موجود نہ ہوا، تو تم خود اس کا مقابلہ کرنا، اور میری غیر موجودگی میں اللہ تعالیٰ ہی ہر مسلمان کا نگہبان ہو گا، وہ (دجال) گھنگریالے بالوں والا نوجوان ہو گا، عزی بن قطن کے ساتھ مشابہت رکھتا ہو گا۔ جو اس کو دیکھے وہ سورت کہف کی ابتدائی آیات پڑھے، پھر فرمایا: میرا خیال ہے کہ وہ شام اور عراق کے درمیان کسی علاقے میں ظاہر ہو گا۔ اپنے دائیں بائیں فساد پھیلائے گا۔ اے اللہ کے بندو، ثابت قدم رہو۔ ہم نے کہا: یا رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم وہ کتنا عرصہ زمین میں رہے گا؟ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: چالیس دن۔ ایک دن ایک سال کے برابر ہو گا، اور ایک دن ایک مہینے کے برابر ہو گا، ایک دن ایک ہفتے کے برابر ہو گا، اور ہفتے کے دن تمہارے دنوں کے برابر ہوں گے۔ ہم نے کہا: یا رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم جو ایک دن پورے ایک سال کے برابر ہو گا، اس (سال کے برابر) دن میں صرف ایک دن کی نمازیں کافی ہوں گی؟ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: نہیں، عام دن کے برابر وقت کا تعین کر کے مناسب وقتوں پر نمازیں ادا کی جائیں، (اور ایک دن میں پورے سال کے برابر نمازیں پڑھی جائیں) ہم نے عرض کی: یا رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم زمین میں کون سی نشانیاں جلدی رونما ہوں گی؟ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: پھر بارش آئے گی، اس کے بعد تیز ہوا چلے گی، وہ شخص ایک قوم کے پاس آئے گا، ان کو اپنے اوپر ایمان لانے کی دعوت دے گا، وہ اس پر ایمان لے آئیں گے، وہ آسمان کو بارش برسانے کا حکم دے گا تو آسمان بارش برسائے گا، وہ زمین کو حکم دے گا، زمین سبرہ اگائے گی، ان کے مویشی چر کر واپس آئیں گے تو ان کی کوہانیں لمبی ہو چکی ہوں گی، ان کے تھن دودھ سے بھر چکے ہوں گے اور ان کے پیٹ موٹے ہو چکے ہوں گے، پھر وہ ایک قوم کے پاس آئے گا، ان کو اپنے اوپر ایمان لانے کی دعوت دے گا، لیکن وہ لوگ اس پر ایمان نہیں لائیں گے، وہ ان کو چھوڑ کر واپس چلا جائے گا، ان لوگوں کے مال ان کے پیچھے چلیں گے، جب وہ لوگ صبح کریں گے تو ان کے ہاتھ میں کچھ بھی نہیں ہو گا (کیونکہ ان کے مال تو دجال کے ساتھ جا چکے ہوں گے)، پھر وہ بنجر زمین سے گزرے گا، اس سے کہے گا: اپنے خزانے نکال دے، وہ وہاں سے آگے روانہ ہو گا تو زمین کے خزانے اس کے پیچھے چلیں گے جیسا کہ شہد کی مکھیاں اکٹھی ہو کر آتی ہیں۔ پھر وہ ایک مسلمان نوجوان کو بلائے گا، تلوار سے اس کے دو ٹکڑے کر دے گا، جیسے تیر اپنے شکار کے دو ٹکڑے کر دے۔ پھر وہ اس کو بلائے گا تو وہ (مقتول) نوجوان ہنستا مسکراتا ہوا اٹھ کر آ جائے گا، وہ اپنے جادو اسی طرح جگا رہا ہو گا کہ اللہ تعالیٰ سیدنا عیسیٰ بن مریم علیہ السلام کو بھیجے گا، آپ جامع مسجد دمشق کے سفید مشرقی منارے پر نازل ہوں گے جو کہ زرد رنگ کے دو کپڑے پہنے ہوئے، دو فرشتوں کے کندھوں پر اپنے ہاتھ رکھے ہوئے نازل ہوں گے، جب آپ سر جھکائیں گے تو سر سے قطرے ٹپکیں گے، جب سر اوپر اٹھائیں گے تو وہ قطرے موتیوں کی طرح چمکیں گے، جو بھی کافر ان کی خوشبو سونگھے گا، مر جائے گا، یہ خوشبو حد نگاہ تک پھیل جائے گی، آپ دجال کا پیچھا کریں گئے اور ” لد “ کے دروازے پر اس کو پکڑ لیں گے، اللہ تعالیٰ اس کو قتل فرما دے گا۔ پھر سیدنا عیسیٰ علیہ السلام اس قوم کے پاس تشریف لائیں گے جس کو اللہ تعالیٰ نے دجال سے بچا دیا ہو گا، آپ ان کے چہروں پر ہاتھ پھیریں گے، جنت میں ان کے درجات ان کو بتائیں گے، وہ ابھی اسی کیفیت میں ہوں گے کہ اللہ تعالیٰ سیدنا عیسیٰ علیہ السلام کی جانب وحی فرمائیں گے کہ اے عیسیٰ! میں نے اپنے بندوں کو نکالا ہے، ان میں سے کسی سے بھی ان کے قتال کی وجہ سے بدلہ نہیں لینا۔ میرے بندوں کو کوہ طور پر جمع کر لیں، پھر اللہ تعالیٰ یاجوج اور ماجوج کو بھیجے گا، یہ ہر گھاٹی سے اتریں گے، ان کا پہلا دستہ بحیرہ طبریہ سے گزرے گا تو اس کا سارا پانی پی جائیں گے، اور جب آخری دستہ گزرے گا تو وہ کہے گا: یہاں پر کسی زمانے میں پانی ہوتا تھا۔ وہ سیدنا عیسیٰ علیہ السلام کا اور ان کے ساتھیوں کا محاصرہ کر لیں گے، حتی کہ اس وقت بیل کا سر آج کے سو دیناروں سے بھی افضل ہو گا۔ سیدنا عیسیٰ علیہ السلام اور ان کے ساتھی اللہ تبارک و تعالیٰ کی بارگاہ میں دعائیں مانگیں گے، اللہ تعالیٰ یاجوج اور ماجوج کی گردنوں میں ایک کیڑا پیدا فرما دے گا، اگلے دن یہ سب لوگ مر چکے ہوں گے، تب اللہ تعالیٰ کے نبی سیدنا عیسیٰ علیہ السلام اور ان کے ساتھی نیچے اتریں گے، ایک بالشت بھر جگہ بھی ان کے لاشوں، ان کے خون اور بدبو سے خالی نہیں ہو گی۔ سیدنا عیسیٰ علیہ السلام اور ان کے ساتھی پھر اللہ تعالیٰ سے دعا مانگیں گے تو اللہ بختی اونٹوں کی گردنوں جیسے پرندے بھیجے گا، وہ ان کو اٹھا کر جہاں چاہیں گے پھینک دیں گے۔ پھر اللہ تعالیٰ برسات نازل فرمائے گا، وہ ہر کچے اور پکے مکان کو دھو دے گی، اور ساری زمین دھل کر آئینے کی طرح ہو جائے گی، پھر زمین کو حکم ہو گا کہ اپنے پھلوں کو اگا، اور اپنی برکتیں دوبارہ دے، اس وقت ایک انار کو پوری پوری جماعت کھائے گی، اور اس کے چھلکے کے سائے میں بیٹھیں گے، اور پیداوار میں اتنی برکت ہو گی کہ ایک اونٹنی کا دودھ لوگوں کی ایک جماعت کو کافی ہو گا۔ اور گائے کا ایک وقت کا دودھ پورے قبیلے کے لئے کافی ہو گا۔ اور بکری کا ایک وقت کا دودھ پورے خاندان کے لئے کافی ہو گا۔ حالات اسی طرح چل رہے ہوں گے کہ اللہ تعالیٰ ایک خوشبودار ہوا بھیجے گا، جو کہ ان کی بغلوں کے نیچے سے گزرے گی اور ہر مسلمان کی روح قبض کر لے گی اور ایسے لوگ باقی بچیں گے جو جانوروں کی طرح سرعام زنا کریں گے۔ ان لوگوں پر قیامت قائم ہو گی۔ ٭٭ یہ حدیث امام بخاری رحمۃ اللہ علیہ اور امام مسلم رحمۃ اللہ علیہ کے معیار کے مطابق صحیح ہے لیکن شیخین صلی اللہ علیہ وسلم نے اس کو نقل نہیں کیا۔ [المستدرك على الصحيحين/كِتَابُ الْفِتَنِ وَالْمَلَاحِمِ/حدیث: 8718]
حدیث نمبر: 8719
أخبرني محمد بن المؤمَّل بن الحسن، حدثنا الفضل بن محمد بن المسيَّب، حدثنا نُعيم بن حمّاد، حدثنا الوليد بن مسلم، عن الأوزاعي، عن الزُّهْري، عن سعيد بن المسيّب، عن أبي هريرة قال: وُلِدَ لأخي أُمِّ سَلَمة غلامٌ فسمَّوه الوليد، فذُكِرَ ذلك لرسول الله ﷺ فقال:"سمَّيتُموه بأَسامي فراعنتِكم، ليكونَنَّ في هذه الأُمَّة رجل يقال له: الوليدُ، هو شرٌّ على هذه الأُمَّة من فِرعونَ على قومِه" (1) . قال الزُّهْري: إن استُخلِفَ الوليدُ بن يزيد فهو هو، وإلَّا فالوليدُ بن عبد الملك.
هذا حديث صحيح على شرط الشيخين، ولم يُخرجاه. هذا الوليد بن يزيد بلا شكٍّ ولا مِرْية:
[التعليق - من تلخيص الذهبي] ترقيم العلميه 8509 - على شرط البخاري ومسلم
هذا حديث صحيح على شرط الشيخين، ولم يُخرجاه. هذا الوليد بن يزيد بلا شكٍّ ولا مِرْية:
[التعليق - من تلخيص الذهبي] ترقيم العلميه 8509 - على شرط البخاري ومسلم
سیدنا ابوہریرہ رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں: میرے بھائی کے گھر ام سلمہ کے ہاں بچہ پیدا ہوا، انہوں نے اس کا نام ” ولید “ رکھا، رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی بارگاہ میں اس کا تذکرہ ہوا تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: تم اپنے فرعونوں کے نام پر نام رکھا ہے۔ میری امت میں ایک ولید نامی شخص ہو گا، وہ میری امت پر اتنی سختی کرے گا، اتنی سختی تو فرعون نے بھی اپنی قوم پر نہیں کی ہو گی۔ زہری کہتے ہیں: اگر ولید بن یزید کو خلیفہ بنایا گیا تو اس سے مراد وہی ولید ہو گا اور اگر وہ خلیفہ نہ بنا تو اس سے مراد عبدالملک کا بیٹا ” ولید “ ہے۔ ٭٭ یہ حدیث امام بخاری رحمۃ اللہ علیہ اور مسلم رحمۃ اللہ علیہ کے معیار کے مطابق صحیح ہے لیکن شیخین رحمۃ اللہ علیہما نے اس کو نقل نہیں کیا۔ امام حاکم کہتے ہیں: بے شک و شبہ وہ ” ولید بن یزید “ ہی ہے۔ [المستدرك على الصحيحين/كِتَابُ الْفِتَنِ وَالْمَلَاحِمِ/حدیث: 8719]