🏠 👥 🔍 🧩 🅰️ 📌 ↩️

المستدرك على الصحيحين سے متعلقہ
تمام کتب
ترقیم الرسالہ
ترقيم الشرکۃ
عربی لفظ
اردو لفظ
حدیث کتب میں نمبر سے حدیث تلاش کریں:

ترقیم الرساله سے تلاش کل احادیث (9018)
حدیث نمبر لکھیں:
ترقیم الشركة سے تلاش کل احادیث (8909)
حدیث نمبر لکھیں:
حدیث میں عربی لفظ/الفاظ تلاش کریں
عربی لفظ / الفاظ لکھیں:
حدیث میں اردو لفظ/الفاظ تلاش کریں
اردو لفظ / الفاظ لکھیں:
89. إذا بخس الميزان حبس القطر
جب ناپ تول میں کمی کی جائے گی تو بارش روک لی جائے گی
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 8745
أخبرني أبو زكريا العَنبَري، حدثنا إبراهيم بن أبي طالب، حدثنا محمد بن المثنَّى، حدثنا عبد الرحمن بن مَهْدي، حدثنا سفيان، عن أبيه، عن أبي يعلى الثَّوْري، عن سعد بن حُذَيفة قال: رُفِعَ إلى حُذيفةَ عيوبُ سعيد بن العاص، فقال: ما أدري أيَّ الأمرين أردتُم: تناولَ سلطان قومٍ ليس لكم، أو أردتم ردَّ هذه الفتنة، فإنها مُرسَلةٌ من الله، تَرتَعي في الأرض حتى تَطأَ خِطامَها، ليس أحدٌ رادَّها ولا أحدٌ مانعَها، وليس أحدٌ متروكًا (1) يقول: اللهُ اللهُ، إلَّا قُتِل، ثم يبعثُ الله قومًا قَزَعًا كَفَزَع الخريف (2) . قال: القَزَعُ: القِطعة من السَّحاب الرَّقيق، كأنَّها ظِلٌّ إذا مرَّت تحت السَّحاب الكثير.
هذا حديث صحيح الإسناد، ولم يُخرجاه.
[التعليق - من تلخيص الذهبي] ترقيم العلميه 8535 - صحيح
سعد بن حذیفہ فرماتے ہیں: سیدنا حذیفہ کے پاس سعید بن العاص کے عیوب بیان کئے گئے، آپ نے فرمایا میں نہیں جانتا کہ دو کاموں میں سے تمہارا ارادہ کیا ہے؟ تم ایسی قوم کی بادشاہت چاہتے ہو جو سلطنت تمہاری ہے ہی نہیں۔ یا تم اس فتنہ کو ختم کرنا چاہتے ہو، یہ فتنہ اللہ تعالیٰ کی جانب سے بھیجا جائے گا، یہ زمین کی تمام فصلیں کھا جائے گا، حتی کہ اس کی لگام پاؤں کے نیچے روندی جائے گی۔ کوئی اس کو روکنے والا ہو گا نہ اس کو کوئی برا کہنے والا ہو گا، اور، جو بھی اللہ کا نام لے گا اس کو قتل کر دیا جائے گا، پھر اللہ تعالیٰ ایک ایسی قوم پیدا کرے گا۔ جو ساون کے بادلوں کی مانند یکجا ہو گی۔ آپ نے فرمایا: قزع سے مراد باریک بادلوں کا ایک ٹکڑا ہے، جب وہ بڑے بادل کے نیچے سے گزرتا ہے تو ایک سائبان کی طرح محسوس ہوتا ہے۔ ٭٭ یہ حدیث صحیح الاسناد ہے لیکن امام بخاری رحمۃ اللہ علیہ اور امام مسلم رحمۃ اللہ علیہ نے اس کو نقل نہیں کیا۔ [المستدرك على الصحيحين/كتاب الفتن والملاحم/حدیث: 8745]

المستدرك على الصحيحين کی حدیث نمبر 8745 پر
الشیخ عادل مرشد، ڈاکٹر احمد برہوم، ڈاکٹر محمد کامل قرہ بلی، ڈاکٹر سعید اللحام کی
تخريج وتحقيقِ محدثانہ نکات و اصطلاحی مطالعہ
(1) في النسخ الخطية: متروك، والجادّة ما أثبتنا.
📝 نوٹ / توضیح: قلمی نسخوں میں (لفظ "منذر" کی جگہ) "متروک" لکھا ہے، جبکہ درست اور سیدھی بات وہ ہے جو ہم نے (متن میں) ثابت کی ہے۔
(2) إسناده حسن من أجل سعد بن حذيفة، فقد روى عنه ثلاثة، وذكره ابن حبان في "الثقات".
⚖️ درجۂ حدیث: سعد بن حذیفہ کی وجہ سے اس کی سند "حسن" ہے، ان سے تین راویوں نے روایت لی ہے اور ابن حبان نے انہیں "الثقات" میں ذکر کیا ہے۔
أبو يعلى الثوري: هو المنذر بن يعلى، وسفيان: هو ابن سعيد بن مسروق الثوري.
🔍 راویوں کی تحقیق: ابو یعلیٰ الثوری سے مراد منذر بن یعلیٰ ہیں، اور سفیان سے مراد (امام) سفیان بن سعید بن مسروق الثوری ہیں۔
وأخرجه ابن أبي شيبة في "مصنفه" 15/ 90 من طريق الحسن بن عمرو الفقيمي، عن منذر الثوري، به.
📖 حوالہ / مصدر: اسے ابن ابی شیبہ نے اپنی "مصنف" (15/90) میں حسن بن عمرو الفقیمی عن منذر الثوری کے طریق سے اسی طرح روایت کیا ہے۔
وأخرجه ابن شبّة في "تاريخ المدينة" 4/ 1246 - 1247 من طريق زبيد بن الحارث اليامي، عن منذر الثوري - وعن رجل عن منذر - عن حذيفة. فأسقط من الإسناد سعدَ بن حذيفة بن اليمان.
📖 حوالہ / مصدر: اسے ابن شبہ نے "تاریخ المدینہ" (4/1246-1247) میں زبید بن حارث الیامی عن منذر الثوری—اور (دوسرے طریق میں) ایک آدمی عن منذر—عن حذیفہ سے روایت کیا ہے۔ انہوں نے سند سے سعد بن حذیفہ بن یمان کو گرا دیا (ذکر نہیں کیا)۔