المستدرك على الصحيحين سے متعلقہ
تمام کتب
ترقیم الرسالہ
ترقيم الشرکۃ
عربی لفظ
اردو لفظ
90. ذكر رفع القرآن عن قلوب المسلمين
مسلمانوں کے دلوں سے قرآن (کے حروف) اٹھا لیے جانے کا تذکرہ
حدیث نمبر: 8747
أخبرني محمد بن المؤمَّل، حدثنا الفضل بن محمد، حدثنا نُعيم بن حمّاد، حدثنا أبو يوسف المَقدِسي، عن عبد الملك بن أبي سليمان، عن عمرو بن شُعيب، عن أبيه، عن جدِّه قال: قال رسول الله ﷺ:"في ذي القَعْدةِ تَجاذَبُ القبائلُ، وعامَئذٍ يُنهَبُ الحاجُّ فتكونَ مَلحَمةٌ بمِنًى يَكثُر فيها القتلى، وتَسيلُ فيها الدماء، حتى تسيلَ دماؤُهم على عَقَبة الجَمْرة، وحتى يهربَ صاحبُهم فيُؤتَى بين الرُّكْن والمَقام، فيُبايَعُ وهو كارِهٌ، يقال له: إن أَبَيتَ ضربْنا عُنقَك، يبايعُه مثلُ عِدَّة أهل بدرٍ، يرضى عنهم ساكنُ السماء وساكنُ الأرض" (1) .
[التعليق - من تلخيص الذهبي] ترقيم العلميه 8537 - سنده ساقط
[التعليق - من تلخيص الذهبي] ترقيم العلميه 8537 - سنده ساقط
سیدنا عمرو بن شعیب اپنے والد سے، وہ ان کے دادا سے روایت کرتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا: ذی القعدہ میں قبائل کی آپس میں جنگ ہو گی، حاجیوں کو برا بھلا کہا جائے گا، پھر منیٰ میں جنگ ہو گی، اس میں بہت قتل عام ہو گا، سخت خونریزی ہو گی، حتی کہ جمرہ عقبہ پر خون بہے گا، ان کا سپہ سالار بھاگ جائے گا، یہ رکن اور مقام ابراہیم کے درمیان آئے گا، اس سے بیعت لی جائے گی لیکن یہ اس کو ناپسند کرے گا۔ اس کو کہا جائے گا: اگر تو نے انکار کیا تو ہم تیری گردن مار دیں گے، بدری صحابہ کی تعداد کے برابر لوگ اس کی بیعت کریں گے، آسمان والے اور زمین والے اس پر راضی ہوں گے۔ [المستدرك على الصحيحين/كتاب الفتن والملاحم/حدیث: 8747]
المستدرك على الصحيحين کی حدیث نمبر 8747 پر
الشیخ عادل مرشد، ڈاکٹر احمد برہوم، ڈاکٹر محمد کامل قرہ بلی، ڈاکٹر سعید اللحام کی
تخريج وتحقيقِ محدثانہ نکات و اصطلاحی مطالعہ
الشیخ عادل مرشد، ڈاکٹر احمد برہوم، ڈاکٹر محمد کامل قرہ بلی، ڈاکٹر سعید اللحام کی
تخريج وتحقيقِ محدثانہ نکات و اصطلاحی مطالعہ
(1) إسناده ضعيف، أبو يوسف المقدسي شيخ نعيم بن حماد لا يُعرَف مَن ذا، وعبد الملك بن أبي سليمان - وهو العَرزمي - صدوق يخطئ.
⚖️ درجۂ حدیث: اس کی سند ضعیف ہے۔ 🔍 فنی نکتہ: نعیم بن حماد کے شیخ "ابو یوسف المقدسی" کے بارے میں معلوم نہیں کہ وہ کون ہیں (مجہول ہیں)۔ اور عبد الملک بن ابی سلیمان—جو کہ العرزمی ہیں—وہ سچے (صدوق) ہیں لیکن غلطی کر جاتے ہیں۔
والحديث في "الفتن" لنعيم برقم (986).
📖 حوالہ / مصدر: یہ حدیث نعیم کی "الفتن" میں رقم (986) پر موجود ہے۔