🏠 👥 🔍 🧩 🅰️ 📌 ↩️

المستدرك على الصحيحين سے متعلقہ
تمام کتب
ترقیم الرسالہ
ترقيم الشرکۃ
عربی لفظ
اردو لفظ
حدیث کتب میں نمبر سے حدیث تلاش کریں:

ترقیم الرساله سے تلاش کل احادیث (9018)
حدیث نمبر لکھیں:
ترقیم الشركة سے تلاش کل احادیث (8909)
حدیث نمبر لکھیں:
حدیث میں عربی لفظ/الفاظ تلاش کریں
عربی لفظ / الفاظ لکھیں:
حدیث میں اردو لفظ/الفاظ تلاش کریں
اردو لفظ / الفاظ لکھیں:
91. ذكر طبقات شتى لبني آدم
بنی آدم کے مختلف طبقات اور درجات کا تذکرہ
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 8753
حدثنا أبو محمد أحمد بن عبد الله المُزَني، حدثنا محمد بن عبد الله الحَضْرمي، حدثنا واصل بن عبد الأعلى، حدثنا محمد بن فُضيل، حدثنا أبو مالك الأشجَعي، عن رِبْعيّ بن حِرَاش، عن حُذيفة قال: يَندرِسُ الإسلامُ كما يندرسُ الثوبُ الخَلَقُ حتى يصيرَ الناسُ ما يدرون ما صلاةٌ ولا صيامٌ ولا نُسُك، غير أنَّ الرجل والعجوز يقولون: قد أدرَكْنا الناسَ وهم يقولون: لا إله إلَّا الله، فنحن نقول: لا إله إلّا الله، فقال له صِلَةُ بن زُفَر: وما يُغْني عنهم لا إله إلَّا الله يا حذيفةُ، وهم لا يدرون صلاةً ولا صيامًا ولا نُسكًا؟ قال حذيفة يا صِلةٌ، ما تُغني عنهم لا إله إلّا الله؟! يَنجُون بلا إله إلَّا الله من النار (2) .
هذا حديث صحيح على شرط مسلم، ولم يُخرجاه.
سیدنا حذیفہ رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں: اسلام کی تعلیمات مٹتی رہیں گی جیسا کہ پرانا کپڑا بوسیدہ ہو جاتا ہے، حتی کہ لوگوں کی حالت یہ ہو گی کہ کسی کو نماز، روزے اور قربانی کا کچھ پتہ نہیں ہو گا، کوئی بوڑھا مرد یا کوئی بوڑھی عورت ان کو بتایا کرے گی کہ ہم نے ایسے لوگوں کو دیکھا ہے جو لا الہ الا اللہ پڑھا کرتے تھے، سیدنا صلہ بن زفر نے فرمایا: اے حذیفہ! جب ان کو نماز، روزہ اور قربانی تک کا کچھ پتا نہیں ہو گا تو لا الہ الا اللہ ان کو کیا فائدہ دے گا؟ سیدنا حذیفہ نے فرمایا: اے صلہ وہ لوگ لا الہ الا اللہ کی بناء پر دوزخ سے نجات پائیں گے۔ ٭٭ یہ حدیث امام مسلم رحمۃ اللہ علیہ کے معیار کے مطابق صحیح ہے لیکن شیخین نے اس کو نقل نہیں کیا۔ [المستدرك على الصحيحين/كتاب الفتن والملاحم/حدیث: 8753]

المستدرك على الصحيحين کی حدیث نمبر 8753 پر
الشیخ عادل مرشد، ڈاکٹر احمد برہوم، ڈاکٹر محمد کامل قرہ بلی، ڈاکٹر سعید اللحام کی
تخريج وتحقيقِ محدثانہ نکات و اصطلاحی مطالعہ
(2) إسناده صحيح. وهو في "الدعاء" لمحمد بن فضيل برقم (15). وانظر ما سلف برقم (8668).
⚖️ درجۂ حدیث: اس کی سند صحیح ہے۔ 📖 حوالہ / مصدر: یہ محمد بن فضیل کی کتاب "الدعاء" میں رقم (15) پر موجود ہے۔ گزشتہ حدیث نمبر (8668) بھی ملاحظہ کریں۔