المستدرك على الصحيحين سے متعلقہ
تمام کتب
ترقیم الرسالہ
ترقيم الشرکۃ
عربی لفظ
اردو لفظ
93. لن تنفكوا بخير ما استغنى أهل بدوكم عن أهل حضركم .
تم اس وقت تک خیر پر رہو گے جب تک تمہارے دیہاتی تمہارے شہریوں سے بے نیاز رہیں گے
حدیث نمبر: 8759
حدثنا أبو العباس محمد بن يعقوب، حدثنا بَحْر بن نصر، حدثنا بشر بن بكر، حدثنا أبو المَهْدي سعيد بن سِنان، عن أبي الزاهريَّة، عن أبي شَجَرة كَثير بن مُرَّة، عن عبد الله بن عمرو، عن النبي ﷺ أنه كان يقول:"لن تَنفَكُّوا (4) بخيرٍ ما استَغنَى أهلُ بَدْوِكم عن أهل حَضَرِكم" قال:"ولَتَسُوقنَّهم السِّنينُ والسِّناتُ حتى يكونوا معكم في الدِّيار، ولا تُمنَعوا منهم لكثرة من يسيرُ (1) عليكم منهم" قال:"يقولون: طالما جُعْنا وشبعتُم، وطالما شَقِينا وتنعَّمتُم، فواسُونا اليومَ. ولتَستصعِبَنَّ بكم الأرضُ حتى يَعْبِطَ أهلُ حضرِكم [أهلَ بدوِكم] (2) من استصعاب الأرض". قال:"ولتَمِيلَنَّ بكم الأرضُ مَيلةً يَهْلِكُ منها مَن هلك، ويبقى من بقي، حتى تُعتَقَ الرِّقابُ، ثم تَهدأُ بكم الأرضُ بعد ذلك حتى يَندَمَ المُعتِقون" قال:"ثم تميلُ بكم الأرضُ من بعد ذلك مَيلةً أخرى، فيَهلِكُ فيها مَن هلك، ويبقى من بقي يقولون: ربَّنا نُعتِقُ، ربَّنا نُعتِقُ، فيكذِّبُهم اللهُ: كَذَبتُم كَذَبتُم، أنا أُعتِق. وليُبتلَيَنَّ أُخرَياتُ هذه الأُمَّة بالرَّجْف فإن تابوا تابَ الله عليهم" قال:"وإن عادوا أعادَ الله عليهم بالرَّجْف والقَذْف والخَسْف والمَسْخ والصواعق، فإذا قيل: هَلَكَ الناسُ هَلَكَ الناسُ، هَلَكَ الناسُ، فقد هَلَكوا، ولن يعذِّبَ اللهُ تعالى أمّةً حتى تَعْدِرَ" قالوا: وما غَدْرُها؟ قال:"يعترفون بالذُّنوب ولا يتوبون. ولَتطمئِنَّ القلوبُ بما فيها من بِرِّها وفجورِها كما تطمئنُّ الشجرةُ بما فيها، حتى لا يستطيعَ محسنٌ أن يزدادَ إحسانًا، ولا يستطيعَ مسيءٌ استِعتابًا، وذلك بأنَّ الله ﷿ قال: ﴿كَلَّا بَلْ رَانَ عَلَى قُلُوبِهِمْ مَا كَانُوا يَكْسِبُونَ﴾ [المطففين: 14] " (3) .
هذا حديث صحيح الإسناد، ولم يُخرجاه.
[التعليق - من تلخيص الذهبي] ترقيم العلميه 8548 - سعيد متهم ساقط
هذا حديث صحيح الإسناد، ولم يُخرجاه.
[التعليق - من تلخيص الذهبي] ترقيم العلميه 8548 - سعيد متهم ساقط
سیدنا عبداللہ بن عمرو رضی اللہ عنہما فرماتے ہیں كہ نبی اكرم صلی اللہ علیہ وسلم فرمایا كرتے تھے: تم بھلائی سے دور نہیں ہو گے جب تک تمہارے دیہاتی لوگ تمہارے شہریوں کے محتاج نہیں ہیں، آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: چند سال گزرنے كی بات ہے وہ لوگ تمہارے ساتھ شہروں میں آباد ہوں گے، اور تم ان كو منع نہ كرنا، وہ كہیں گے: ایک عرصہ گزر گیا ہے كہ ہم بھوكے اور تم لوگ سیر ہو کر کھاتے ہو، ایک عرصے سے ہم پریشان ہیں اور تم لوگ نعمتوں میں ہو، آج تم ہماری مدد کرو اور ہم تم پر زمین میں رہنا مشکل کر دیں گے۔ حتی کہ زمین کی تنگی کی وجہ سے شہری لوگ دیہاتیوں پر رشک کریں گے اور تم سے زمین بھر جائے گی، ہلاک ہونے والے ہلاک ہو جائیں گے اور بچنے والے بچ جائیں گے، حتی کہ غلام آزاد کئے جائیں گے، پھر تم پر زمین کشادہ کر دی جائے گی، حتی کہ غلاموں کو آزاد کرنے والے نادم ہو جائیں گے، آپ فرماتے ہیں: پھر دوسری مرتبہ زلزلہ آئے گا، اس میں بھی کئی لوگ ہلاک ہو جائیں گے اور کئی لوگ بچ جائیں گے، پھر غلام آزاد کئے جائیں گے، پھر زمین کشادہ ہو جائے گی، وہ لوگ کہیں گے: اے ہمارے رب ہم نے غلام آزاد کئے ہیں، اے ہمارے رب ہم نے غلام آزاد کئے ہیں، اللہ تعالیٰ ان کو جھٹلائے گا اور فرمائے گا: تم جھوٹ بول رہے ہو، تم جھوٹ بول رہے ہو، میں نے آزاد کیا ہے، آپ فرماتے ہیں: اس امت کے آخری زمانے کے لوگوں کو زلزلے سے آزمایا جائے گا، اگر یہ لوگ توبہ کر لیں گے تو اللہ ان کی توبہ کو قبول فرمائے گا، لیکن اگر یہ دوبارہ اسی گناہ میں مبتلا ہوں گے تو اللہ تعالیٰ دوبارہ ان پر زلزلہ بھیجے گا، ان پر پتھر برسیں گے، زمین پھٹے گی، زمین میں لوگ دھنسیں گے اور چہرے بدلیں گے اور کڑک نازل فرمائے گا، جب یہ آوازیں آنے لگ جائیں کہ لوگ ہلاک ہو گئے، لوگ ہلاک ہو گئے، تو جان لو کہ وہ واقعی ہلاک ہو گئے، اور اللہ اس امت کو اس وقت تک عذاب نہیں دے گا جب تک یہ غداری نہیں کریں گے۔ صحابہ کرام رضی اللہ عنہم نے پوچھا: ان کی غداری کیا ہو گی؟ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: یہ اپنے گناہوں کا اعتراف تو کریں گے لیکن ان سے توبہ نہیں کریں گے، اور ان کے دلوں میں جو نیکی یا برائی ہو گی، اس پر وہ مطمئن ہوں گے، جیسا کہ درخت اپنے پھلوں پر مطمئن ہوتا ہے، حتی کہ احسان کرنے والے میں مزید احسان کرنے کی ہمت نہیں ہو گی اور گناہ کرنے والا گناہوں سے نہیں تھکے گا، اور یہ اس لئے کہ اللہ تعالیٰ نے فرمایا: كَلَّا بَلْ رَانَ عَلَى قُلُوبِهِمْ مَا كَانُوا يَكْسِبُونَ [المطففين: 14] ” کوئی نہیں بلکہ ان کے دلوں پر زنگ چڑھا دیا ہے ان کی کمائیوں نے “ ٭٭ یہ حدیث صحیح الاسناد ہے لیکن امام بخاری رحمۃ اللہ علیہ اور امام مسلم رحمۃ اللہ علیہ نے اس کو نقل نہیں کیا۔ [المستدرك على الصحيحين/كتاب الفتن والملاحم/حدیث: 8759]
المستدرك على الصحيحين کی حدیث نمبر 8759 پر
الشیخ عادل مرشد، ڈاکٹر احمد برہوم، ڈاکٹر محمد کامل قرہ بلی، ڈاکٹر سعید اللحام کی
تخريج وتحقيقِ محدثانہ نکات و اصطلاحی مطالعہ
الشیخ عادل مرشد، ڈاکٹر احمد برہوم، ڈاکٹر محمد کامل قرہ بلی، ڈاکٹر سعید اللحام کی
تخريج وتحقيقِ محدثانہ نکات و اصطلاحی مطالعہ
(4) في النسخ الخطية لن تبلغوا، والمثبت من "تلخيص الذهبي"، وهو الصواب.
📝 تحقیقِ متن: قلمی نسخوں میں "لن تبلغوا" ہے، جبکہ "تلخیص الذہبی" سے "لم تبلغوا" (یا سیاق کے مطابق درست لفظ) ثابت کیا گیا ہے اور وہی درست ہے۔
(1) في النسخ الخطية: يستن، غير (م) فيمكن أن تقرأ فيها: يسير، وهي كذلك في "تلخيص الذهبي"، وهو الصواب.
📝 تحقیقِ متن: قلمی نسخوں میں "یستن" ہے، سوائے نسخہ (م) کے جس میں "یسیر" پڑھا جا سکتا ہے، اور "تلخیص الذہبی" میں بھی اسی طرح ہے، اور یہی درست ہے۔
(2) زيادة من "التلخيص" ليست في نسخنا الخطية.
📝 تحقیقِ متن: یہ اضافہ "التلخیص" سے لیا گیا ہے جو ہمارے قلمی نسخوں میں موجود نہیں ہے۔
(3) إسناده واهٍ، أبو مهدي سعيد بن سنان الشامي متروك، ورماه الدارقطني وغيره بالوضع، وقال الذهبي في "تلخيصه": متهم ساقط. أبو الزاهرية: هو حُدير بن كريب.
⚖️ درجۂ حدیث: یہ سند واہی (بہت کمزور) ہے۔ 🔍 فنی نکتہ: ابو مہدی سعید بن سنان شامی متروک راوی ہے، دارقطنی وغیرہ نے اس پر وضع (حدیث گھڑنے) کا الزام لگایا ہے، اور ذہبی نے "التلخیص" میں اسے "متہم ساقط" کہا ہے۔ نیز ابو الزاہریہ کا نام حدیر بن کریب ہے۔
وأخرجه نعيم بن حماد في "الفتن" (685) و (1708) عن الحكم بن نافع، عن سعيد بن سنان، بهذا الإسناد. ووقع في المطبوع في الموضع الأول سقط من الإسناد، ووقع عنده اسم صحابيه ابن عُمر!
📖 حوالہ: اسے نعیم بن حماد نے "الفتن" (685 اور 1708) میں حکم بن نافع سے، انہوں نے سعید بن سنان سے اسی سند کے ساتھ تخریج کیا ہے۔ 📝 نوٹ: مطبوعہ نسخے میں پہلی جگہ سند میں سقط (کمی) واقع ہوئی ہے اور وہاں صحابی کا نام ابن عمر لکھا گیا ہے (جو غلط ہے)۔