المستدرك على الصحيحين سے متعلقہ
تمام کتب
ترقیم الرسالہ
ترقيم الشرکۃ
عربی لفظ
اردو لفظ
106. ذكر خروج السفياني من دمشق وهلاكه
دمشق سے سفیانی کے خروج اور اس کی ہلاکت کا تذکرہ
حدیث نمبر: 8799
حدثنا أبو محمد أحمد بن عبد الله المُزَني، حدثنا زكريا بن يحيى السَّاجِي، حدثنا محمد بن إسماعيل بن أبي سَمِينة، حدثنا الوليد بن مُسلِم، حدثنا الأوزاعي، عن يحيى بن أبي كَثير، عن أبي سَلَمة، عن أبي هريرة قال: قال رسول الله ﷺ:"يخرج رجلٌ يقال له: السُّفْياني، في عُمْق دمشقَ، وعامَّةُ من يَتبَعُه من كَلْب، فيَقتُل حتى يَبقُرَ بطونَ النساءِ ويَقتُلَ الصِّبيان، فتَجمَعُ لهم قيسٌ فيقتلُها حتى لا تَمنَعَ ذَنَبَ تَلْعةٍ، ويخرج رجلٌ من أهل بيتي في الحَرَم فيَبلُغُ السُّفيانيَّ، فيبعثُ إليه جُندًا من جنده (1) ، فيَهزِمُهم، فيسير إليه السُّفيانيُّ بمن معه، حتى إذا صار ببَيداءَ من الأرض خُسِفَ بهم، فلا يَنجُو منهم إلَّا المُخبِرُ عنهم" (2) .
هذا حديث صحيح الإسناد على شرط الشيخين، ولم يُخرجاه.
[التعليق - من تلخيص الذهبي] ترقيم العلميه 8586 - على شرط البخاري ومسلم
هذا حديث صحيح الإسناد على شرط الشيخين، ولم يُخرجاه.
[التعليق - من تلخيص الذهبي] ترقيم العلميه 8586 - على شرط البخاري ومسلم
سیدنا ابوہریرہ رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا: سفیانی نامی ایک شخص دمشق کے علاقے سے ظاہر ہو گا، اس کی پیروی کرنے والوں میں اکثریت قبیلہ کلب کی ہو گی، وہ لڑائی کرے گا، عورتوں کے پیٹ پھاڑ کر اس میں سے بچے نکالے گا اور بچوں کو قتل کر دے گا۔ اس کے لئے قیس کا قبیلہ جمع ہو گا، وہ ان کو بھی قتل کرے گا۔ اس کو کوئی روکنے والا نہیں ہو گا اور میرے اہل بیت میں سے ایک آدمی حرہ میں نکلے گا۔ وہ سفیانی تک پہنچے گا، اللہ تعالیٰ اپنا ایک لشکر اس کی مدد کے لئے بھیجے گا، اور وہ ان کو شکست دے دے گا۔ پھر سفیانی اپنے ساتھیوں کے ہمراہ پیش قدمی کرے گا اور جب وہ ہموار زمین تک پہنچے گا تو اس کو زمین میں دھنسا دیا جائے گا۔ ان لوگوں میں سے صرف وہی نجات پائے گا جو ان کے بارے میں خبر دے گا۔ ٭٭ یہ حدیث امام بخاری رحمۃ اللہ علیہ اور امام مسلم رحمۃ اللہ علیہ کے معیار کے مطابق صحیح الاسناد ہے لیکن شیخین رحمۃ اللہ علیہما نے اس کو نقل نہیں کیا۔ [المستدرك على الصحيحين/كتاب الفتن والملاحم/حدیث: 8799]
المستدرك على الصحيحين کی حدیث نمبر 8799 پر
الشیخ عادل مرشد، ڈاکٹر احمد برہوم، ڈاکٹر محمد کامل قرہ بلی، ڈاکٹر سعید اللحام کی
تخريج وتحقيقِ محدثانہ نکات و اصطلاحی مطالعہ
الشیخ عادل مرشد، ڈاکٹر احمد برہوم، ڈاکٹر محمد کامل قرہ بلی، ڈاکٹر سعید اللحام کی
تخريج وتحقيقِ محدثانہ نکات و اصطلاحی مطالعہ
(1) هكذا في "تلخيص الذهبي" وهو واضح، وفي (ز) و (ب): فيبلغ السفياني وهو في إلى جند من جنده، وفي (ك) و (م): فيبعث إلى جند من جنده.
📝 نوٹ / توضیح: "تلخیصِ ذہبی" میں الفاظ اسی طرح ہیں اور یہ واضح ہیں، جبکہ نسخہ (ز) اور (ب) میں عبارت یوں ہے: "فیبلغ السفیانی وھو فی الی جند من جندہ"، اور نسخہ (ک) اور (م) میں ہے: "فیبعث الی جند من جندہ"۔
(2) غريب منكر، رجال إسناده ثقات إلّا أنَّ الوليد بن مسلم كان معروفًا بتدليس التسوية، وهو أن يسقط من الإسناد شيخَ شيخه أو مَن فوقه، وقد فعل هذا بالأوزاعي، ففي ترجمته من "تاريخ دمشق" لابن عساكر 63/ 291 أنَّ الهيثم بن خارجة قال له: قد أفسدتَ حديث الأوزاعي؛ وذكر له أنَّ الأوزاعي يدخل بينه وبين بعض الرواة رجالًا ضعفاء أصحاب مناكير، ثم يأتي الوليد فيسقطهم، فقال له الهيثم: فما يحملُك على هذا؟ قال: أنبِّل الأوزاعيَّ أن يروي عن مثل هؤلاء! قلنا: وقد تفرَّد الوليد بهذا الخبر عن الأوزاعي، فتفرّده به مما يغلّب على ظننا أنه دلّسه، ولم نقف عليه مخرَّجًا عند غير المصنف.
⚖️ درجۂ حدیث: یہ روایت "غریب منکر" ہے۔ 🔍 فنی نکتہ / علّت: اس سند کے تمام راوی ثقہ ہیں سوائے اس کے کہ ولید بن مسلم "تدلیسِ تسویہ" کے لیے مشہور تھے (تدلیسِ تسویہ یہ ہے کہ راوی اپنے شیخ کے شیخ یا اس سے اوپر والے راوی کو گرا دے تاکہ سند اچھی لگے)، اور انہوں نے امام اوزاعی کے ساتھ ایسا کیا ہے۔ ابن عساکر کی "تاریخ دمشق" (63/ 291) میں ولید کے ترجمے میں ہے کہ ہیثم بن خارجہ نے ان سے کہا: "تم نے اوزاعی کی حدیث خراب کر دی ہے" اور انہیں بتایا کہ اوزاعی اپنے اور بعض راویوں کے درمیان ضعیف اور منکر روایات والے راویوں کو داخل کرتے ہیں، پھر ولید آ کر ان (کمزور واسطوں) کو گرا دیتے ہیں۔ ہیثم نے پوچھا: تمہیں ایسا کرنے پر کیا چیز ابھارتی ہے؟ تو ولید نے کہا: "میں اوزاعی کی شان اس سے بلند کرتا ہوں کہ وہ ایسے (ضعیف) لوگوں سے روایت کریں!"۔ 📌 اہم نکتہ: ہم (محققین) کہتے ہیں کہ یہاں ولید اس خبر کو اوزاعی سے روایت کرنے میں متفرد (اکیلے) ہیں، اور ان کا تفرد اس گمان کو غالب کرتا ہے کہ انہوں نے یہاں تدلیس کی ہے، اور مصنف (امام احمد) کے علاوہ ہمیں یہ روایت کہیں اور تخریج شدہ نہیں ملی۔
وقد سلف عنده برقمي (8653) و (8740) إشارة إلى السفياني هذا من حديثي ابن مسعود وعلي بن أبي طالب، وهما خبران واهيان كما سبق بيانه.
📖 حوالہ / مصدر: مصنف کے ہاں اس سے قبل حدیث نمبر (8653) اور (8740) میں ابن مسعود اور علی بن ابی طالب رضی اللہ عنہما کی روایات میں اس "سفیانی" کا اشارہ گزر چکا ہے، اور وہ دونوں خبریں "انتہائی کمزور" (واہی) ہیں جیسا کہ بیان ہو چکا۔
وانظر في قصة الخسف بجيش يغزو البيت ما سلف برقم (8528) من حديث أبي هريرة من وجه آخر عنه.
📖 حوالہ / مصدر: بیت اللہ پر حملہ کرنے والے لشکر کے دھنسائے جانے (خسف) کا قصہ حدیث نمبر (8528) میں ملاحظہ کریں جو ابو ہریرہ رضی اللہ عنہ سے ایک اور طریق سے مروی ہے۔