🏠 👥 🔍 🧩 🅰️ 📌 ↩️

المستدرك على الصحيحين سے متعلقہ
تمام کتب
ترقیم الرسالہ
ترقيم الشرکۃ
عربی لفظ
اردو لفظ
حدیث کتب میں نمبر سے حدیث تلاش کریں:

ترقیم الرساله سے تلاش کل احادیث (9018)
حدیث نمبر لکھیں:
ترقیم الشركة سے تلاش کل احادیث (8909)
حدیث نمبر لکھیں:
حدیث میں عربی لفظ/الفاظ تلاش کریں
عربی لفظ / الفاظ لکھیں:
حدیث میں اردو لفظ/الفاظ تلاش کریں
اردو لفظ / الفاظ لکھیں:
107. ذكر شيطان الردهة
شيطان الردهہ (ایک فتنے یا بد روح) کا تذکرہ
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 8800
حدثنا أبو عبد الله محمد بن يعقوب، حدثنا يحيى بن محمد بن يحيى، حدثنا مسدَّد، حدثنا المعتمِر بن سليمان قال: سمعت حُميدًا، حدثنا الحسن، حدثني حِطَّانُ بن عبد الله الرَّقَاشي: أنهم أَقبلوا مع أبي موسى من غزاةٍ، فلما نزلوا مَنزلًا قال: كنا نتحدَّث أنَّ بين يدي الساعةِ هَرْجًا، قالوا: وما الهَرْجُ أيها الأمير؟ قال: القتلُ، قلنا: أكثرَ مما نَقتلُ؟! إنا نقتلُ في السَّنة إن شاء الله أكثرَ من مئة ألف، قال: ليس قتلَكم المشركين، ولكنْ قتلُ بعضِكم بعضًا، قال: قلنا: ومعنا عقولُنا يومئذٍ؟! قال أبو موسى: تُنزَعُ عقولُ أكثر ذلك الزمان، ويَخلُفُ هَباءٌ من الناس، يَحسَبُ أكثرُهم أنهم على شيءٍ، والله ما أَجِدُ لي ولكم إنْ هي أدرَكَتْني وإياكم فيما نَقرأُ من كتاب ربِّنا وفيما عَهِدَ إلينا نبُّينا، إلّا أن نَخرُجَ منها كما دَخَلْنا فيها (3) .
هذا حديث صحيح على شرط الشيخين، ولم يُخرجاه.
[التعليق - من تلخيص الذهبي] ترقيم العلميه 8587 - على شرط البخاري ومسلم
حطان بن عبداللہ رقاشی بیان کرتے ہیں کہ وہ لوگ ابوموسیٰ کے ہمراہ ایک غزوہ میں شریک تھے، جب ان لوگوں نے ایک مقام پر پڑاؤ ڈالا، تو ہم آپس میں یہ باتیں کرنے لگ گئے کہ قیامت سے پہلے ہرج ہو گا۔ لوگوں نے کہا: اے امیرالمومنین، ہرج کیا ہے؟ آپ نے فرمایا: قتل۔ ہم نے کہا: ہمارا زیادہ سے زیادہ قتل یہ ہے کہ ہم سال میں ایک لاکھ سے زیادہ لوگوں کو قتل کر سکتے ہیں۔ آپ نے فرمایا: تم مشرکوں کو قتل نہیں کرو گے، بلکہ تم ایک دوسرے کو قتل کرو گے۔ ہم نے کہا: اس دن ہماری عقل ہمارے پاس ہو گی؟ سیدنا ابوموسیٰ نے فرمایا: اس زمانے میں اکثر لوگوں کی عقلیں چھین لی جائیں گی، اور بے وقوف قسم کے لوگ باقی بچیں گے، ان میں سے اکثر لوگ خود کو حق پر سمجھیں گے حالانکہ وہ حق پر نہیں ہوں گے۔ اللہ کی قسم! اگر وہ تمہیں اور مجھے پائے تو قرآن کریم اور رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے جو ہم نے عہد کیا ہے اس کے مطابق میرا اور تمہارا چھٹکا صرف اسی صورت میں ممکن ہے کہ ہم جس طرح اس میں داخل ہوں گے، اسی طرح اس سے باہر نکلیں گے (نہ کوئی فائدہ ہو گا نہ نقصان)۔ ٭٭ یہ حدیث امام بخاری رحمۃ اللہ علیہ اور امام مسلم رحمۃ اللہ علیہ کے معیار کے مطابق صحیح ہے لیکن شیخین رحمۃ اللہ علیہما نے اس کو نقل نہیں کیا۔ [المستدرك على الصحيحين/كتاب الفتن والملاحم/حدیث: 8800]

المستدرك على الصحيحين کی حدیث نمبر 8800 پر
الشیخ عادل مرشد، ڈاکٹر احمد برہوم، ڈاکٹر محمد کامل قرہ بلی، ڈاکٹر سعید اللحام کی
تخريج وتحقيقِ محدثانہ نکات و اصطلاحی مطالعہ
وقد سلف عند المصنف مرفوعًا أيضًا برقم (8598) من طريق أبان عن الحسن عن أبي موسى، وإسناده منقطع.
📖 حوالہ / مصدر: یہ مصنف کے ہاں اس سے قبل حدیث نمبر (8598) میں ابان عن الحسن عن ابی موسیٰ کے طریق سے بھی "مرفوعاً" گزر چکی ہے۔ 🔍 فنی نکتہ / علّت: اس (پچھلی روایت) کی سند "منقطع" ہے۔
وقَدْرُ العدد المذكور ممن يُقتَل من المشركين في السنة فيه نكارة إن كان من قول الصحابة لرسول الله ﷺ، فإنه ليس في سيارته ﷺ ولا في مغازيه كلها ما يقارب هذا العدد، وقد جاء في أكثر روايات هذا الحديث مبهمًا، وهو أصح إلّا أن يكون هذا القول من أصحاب أبي موسى الأشعري له، فعندئذٍ يحتمل وذلك لكثرة الفتوح والمغازي في ذلك الزمان، وعليه يكون أول هذا الحديث فقط مرفوعًا وباقيه موقوفًا، والله تعالى أعلم.
🔍 فنی نکتہ / علّت: مشرکین کے قتل کی جو تعداد سال بھر میں ذکر کی گئی ہے، اگر یہ صحابہ کا قول رسول اللہ ﷺ کی طرف منسوب ہو تو اس میں "نکارت" ہے، کیونکہ آپ ﷺ کی سیرت اور تمام غزوات میں اس تعداد کے قریب بھی کوئی عدد نہیں ملتا۔ اس حدیث کی اکثر روایات میں یہ مقام "مبہم" ہے اور وہی اصح ہے۔ الا یہ کہ یہ قول ابو موسیٰ اشعری کے ساتھیوں کا ان سے (یعنی ابو موسیٰ سے) ہو، تب اس کا احتمال ہے کیونکہ اس دور میں فتوحات اور جنگیں کثرت سے تھیں۔ 📌 اہم نکتہ: اس بنیاد پر حدیث کا صرف پہلا حصہ "مرفوع" اور باقی حصہ "موقوف" ہو گا، واللہ اعلم۔
(3) إسناده صحيح. حميد: هو ابن أبي حميد الطويل، والحسن: هو البصري. وأخرجه البخاري في "التاريخ الكبير" 2/ 12، والبزار في "مسنده" (3049) من طريقين عن المعتمر بن سليمان، بهذا الإسناد.
⚖️ درجۂ حدیث: اس کی سند صحیح ہے۔ 🔍 فنی نکتہ / علّت: (راوی): حمید سے مراد "حمید بن ابی حمید الطویل" ہیں اور حسن سے مراد "حسن بصری" ہیں۔ 📖 حوالہ / مصدر: اسے امام بخاری نے "التاریخ الکبیر" (2/ 12) اور بزار نے "مسند" (3049) میں معتمر بن سلیمان سے دو مختلف طرق کے ساتھ اسی سند سے روایت کیا ہے۔
وأخرجه أحمد 32/ (19499)، وابن حبان (6710) من طريق يونس بن محمد، عن حماد بن سلمة، عن يونس بن عبيد وثابت وحبيب بن الشهيد وحميد الطويل، عن الحسن، عن حِطّان، عن أبي موسى مرفوعًا.
📖 حوالہ / مصدر: اسے امام احمد (32/ 19499) اور ابن حبان (6710) نے یونس بن محمد عن حماد بن سلمہ عن یونس بن عبید و ثابت و حبیب بن الشہید و حمید الطویل عن الحسن عن حطان عن ابی موسیٰ کے طریق سے "مرفوعاً" روایت کیا ہے۔
وأخرجه كذلك مرفوعًا أحمد أيضًا (19492) و (19717) عن عبد الصمد وعفان، عن حماد بن سلمة، عن علي بن زيد، عن حطان، به.
📖 حوالہ / مصدر: اسے امام احمد نے (19492 اور 19717) میں عبد الصمد اور عفان عن حماد بن سلمہ عن علی بن زید عن حطان کے طریق سے اسی طرح "مرفوعاً" روایت کیا ہے۔