المستدرك على الصحيحين سے متعلقہ
تمام کتب
ترقیم الرسالہ
ترقيم الشرکۃ
عربی لفظ
اردو لفظ
108. يلد المؤمن فلا يموت إلى أربعين سنة بعد خروج الدابة
دابۃ الارض کے خروج کے بعد مومن کے ہاں بچہ پیدا ہوگا اور وہ چالیس سال تک نہیں مرے گا
حدیث نمبر: 8802
حدثنا أبو العباس محمد بن يعقوب، حدثنا بكَّار بن قُتيبة القاضي، حدثنا أبو داود الطَّيالِسي، حدثنا شَيْبان بن عبد الرحمن، عن منصور، عن رِبْعيِّ بن حِرَاش، عن البراء بن ناجيَة الكاهِلي، عن عبد الله بن مسعود، أنَّ رسول الله ﷺ قال:"تدورُ رَحَا الإسلام لخمسٍ وثلاثين، أو ستٍّ وثلاثين، فإن يَهلِكوا فسبيلُ مَن هَلَك، وإن يَقُمْ لهم دينُهم يَقُمْ لهم سبعين عامًا" فقال عمر: يا رسول الله، بما مَضَى أو بما بقيَ؟ قال:"بما بَقِيَ" (2) .
هذا حديث صحيح الإسناد، ولم يُخرجاه. حديثٌ إسنادُه خارجَ شرط الكتب الثلاث (1) ، أخرجتُه تعجُّبًا، إذ هو قريبٌ ممَّا نحن فيه:
[التعليق - من تلخيص الذهبي] ترقيم العلميه 8589 - صحيح
هذا حديث صحيح الإسناد، ولم يُخرجاه. حديثٌ إسنادُه خارجَ شرط الكتب الثلاث (1) ، أخرجتُه تعجُّبًا، إذ هو قريبٌ ممَّا نحن فيه:
[التعليق - من تلخيص الذهبي] ترقيم العلميه 8589 - صحيح
سیدنا عبداللہ بن مسعود رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا: اسلام کی چکی 35 سال تک گھومے گی، یا 36 سال۔ اگر وہ ہلاک ہو گئے تو ہلاک ہونے والوں کی راہ چلے جائیں گے اور اگر ان کا دین قائم رہا تو ستر سال تک قائم رہے گا۔ سیدنا عمر رضی اللہ عنہ نے کہا: یا رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم اس میں گزشتہ زمانہ بھی شامل ہے؟ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: جو باقی بچا ہے، وہ ہے۔ ٭٭ یہ حدیث صحیح الاسناد ہے لیکن امام بخاری رحمۃ اللہ علیہ اور امام مسلم رحمۃ اللہ علیہ نے اس کو نقل نہیں کیا۔ ایک حدیث ایسی ہے جس کی اسناد تینوں کتابوں سے خارج ہے لیکن وہ ہمارے موضوع کے بہت قریب ہے، اس لیے میں نے اس کو اپنی کتاب میں درج کر لیا ہے۔ (جیسا کہ درج ذیل ہے) [المستدرك على الصحيحين/كتاب الفتن والملاحم/حدیث: 8802]
المستدرك على الصحيحين کی حدیث نمبر 8802 پر
الشیخ عادل مرشد، ڈاکٹر احمد برہوم، ڈاکٹر محمد کامل قرہ بلی، ڈاکٹر سعید اللحام کی
تخريج وتحقيقِ محدثانہ نکات و اصطلاحی مطالعہ
الشیخ عادل مرشد، ڈاکٹر احمد برہوم، ڈاکٹر محمد کامل قرہ بلی، ڈاکٹر سعید اللحام کی
تخريج وتحقيقِ محدثانہ نکات و اصطلاحی مطالعہ
(2) حديث صحيح، وهذا إسناد محتمل للتحسين من أجل البراء بن ناجية كما سبق بيانه برقم (4599). أبو داود الطيالسي: هو سليمان بن داود، ومنصور: هو ابن المعتمر.
⚖️ درجۂ حدیث: یہ حدیث صحیح ہے۔ 🔍 فنی نکتہ / علّت: یہ سند براء بن ناجیہ کی وجہ سے "تحسین" کا احتمال رکھتی ہے جیسا کہ حدیث نمبر (4599) میں بیان ہو چکا۔ (رجال کا تعین): ابو داؤد طیالسی سے مراد "سلیمان بن داؤد" ہیں اور منصور سے مراد "منصور بن المعتمر" ہیں۔
وهو في "مسند الطيالسي" برقم (383). وأخرجه الطحاوي في "مشكل الآثار" (1613) من طريق عبيد الله بن موسى، عن شيبان النحوي، بهذا الإسناد.
📖 حوالہ / مصدر: یہ روایت "مسند طیالسی" میں نمبر (383) پر ہے۔ اسے طحاوی نے "مشکل الآثار" (1613) میں عبید اللہ بن موسیٰ عن شیبان النحوی کے طریق سے اسی سند کے ساتھ روایت کیا ہے۔
وسلف عند المصنف برقم (4599) من طريق شريك النخعي، و (4644) من طريق سفيان الثوري، كلاهما عن منصور.
📖 حوالہ / مصدر: یہ مصنف کے ہاں پہلے گزر چکی ہے: نمبر (4599) پر شریک النخعی کے طریق سے، اور (4644) پر سفیان ثوری کے طریق سے، اور یہ دونوں (شریک اور سفیان) اسے منصور سے روایت کرتے ہیں۔
(1) يريد بالكتب الثلاث: الصحيحين ومستدركه هذا، والله تعالى أعلم.
📝 نوٹ / توضیح: "تین کتابوں" سے ان کی مراد صحیحین (بخاری و مسلم) اور ان کی یہ کتاب (مستدرک) ہے، واللہ اعلم۔