🏠 👥 🔍 🧩 🅰️ 📌 ↩️

المستدرك على الصحيحين سے متعلقہ
تمام کتب
ترقیم الرسالہ
ترقيم الشرکۃ
عربی لفظ
اردو لفظ
حدیث کتب میں نمبر سے حدیث تلاش کریں:

ترقیم الرساله سے تلاش کل احادیث (9018)
حدیث نمبر لکھیں:
ترقیم الشركة سے تلاش کل احادیث (8909)
حدیث نمبر لکھیں:
حدیث میں عربی لفظ/الفاظ تلاش کریں
عربی لفظ / الفاظ لکھیں:
حدیث میں اردو لفظ/الفاظ تلاش کریں
اردو لفظ / الفاظ لکھیں:

108. يَلِدُ الْمُؤْمِنُ فَلَا يَمُوتُ إِلَى أَرْبَعِينَ سَنَةً بَعْدَ خُرُوجِ الدَّابَّةِ
دابۃ الارض کے خروج کے بعد مومن کے ہاں بچہ پیدا ہوگا اور وہ چالیس سال تک نہیں مرے گا
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 8803
أخبرني أبو بكر محمد بن المؤمَّل، حدثنا الفضل بن محمد بن المسيَّب، حدثنا نُعيم بن حمّاد، حدثنا ابن لَهِيعة، عن عبد الوهاب بن حسين (2) ، عن محمد بن ثابت البُنَاني، عن أبيه، عن الحارث، عن عبد الله بن مسعود، عن النبي ﷺ قال:"خروجُ الدابَّةِ بعد طلوع الشمس من مَغربِها [فإذا خَرَجَت] قَتَلَت (3) إبليسَ وهو ساجدٌ، ويَتمتَّع المؤمنون في الأرض بعد ذلك أربعين سنةً، لا يَتمنَّونَ شيئًا إلَّا أُعطُوه ووَجَدُوه، ولا جَوْرَ ولا ظُلَم، وقد أسلَمَ الأشياءُ لرب العالمين طَوْعًا وكَرْهًا، والسَّبُعُ والطيرُ كَرْهًا، حتى إنَّ السَّبُع لا يؤذي دابةً ولا طيرًا، ويلدُ المؤمنُ فلا يموت حتى يُتِمَّ أربعين سنةً بعد خروج دابَّةِ الأرض، ثم يعودُ فيهم الموتُ فيمكُثون كذلك ما شاءَ اللهُ، ثم يُسرِعُ الموتُ في المؤمنين فلا يبقى مؤمنٌ، فيقول الكافر: قد كنَّا مَرعُوبِين من المؤمنين، فلم يبقَ منهم أحدٌ، وليس تُقبَل منا توبةٌ، فما لنا لا نَتهارجُ؟! فيتهارَجُون في الطريق تَهارُجَ البهائمِ، ثم يقوم أحدُهم بأمِّه وأختِه وابنتِه فتُنكَحُ وسطَ الطريق، يقومُ عنها واحدٌ ويَنزُو عليها آخرُ، لا يُنكِرُ ولا يغيِّرُ، فأفضلُهم يومئذٍ من يقول: لو تَنحَّيتم عن الطريق كان أحسنَ، فيكونون بذلك حتى لا يبقى أحدٌ من أولاد النِّكاح، ويكون أهلُ الأرض أولادَ السِّفَاح فيَمكثُون بذلك ما شاء الله، ثم يُعقِرُ اللهُ أرحامَ النساء ثلاثين سنةً، لا تَلِدُ امرأةٌ، ولا يكون في الأرض طفلٌ، ويكون كلُّهم أولادَ الزنى شِرارَ الناس، وعليهم تقومُ الساعةُ" (1) . محمد بن ثابت بن أسلمَ البُناني من أعزِّ البصريين وأولادِ التابعين حديثًا، إلَّا أنَّ عبد الوهاب بن الحسين مجهولٌ.
[التعليق - من تلخيص الذهبي] ترقيم العلميه 8590 - ذا موضوع والسلام
سیدنا عبداللہ بن مسعود رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: دابة الارض کا خروج سورج کے مغرب سے طلوع ہونے کے بعد ہوگا، پس جب وہ نکلے گا تو ابلیس کو اس حال میں قتل کر دے گا کہ وہ سجدے میں ہوگا، اور اس کے بعد چالیس سال تک اہل ایمان زمین پر عیش و آرام سے رہیں گے، وہ جس چیز کی تمنا کریں گے انہیں عطا کر دی جائے گی اور وہ اسے پا لیں گے، وہاں نہ کوئی ظلم ہوگا نہ زیادتی، اور تمام اشیاء رب العالمین کے سامنے خوشی یا ناخوشی سے سرِ تسلیم خم کر چکی ہوں گی، یہاں تک کہ درندے اور پرندے بھی (ناخوشی سے ہی سہی) تابع ہوں گے، یہاں تک کہ کوئی درندہ کسی جانور یا پرندے کو ایذا نہیں پہنچائے گا، اور مومن کے ہاں بچہ پیدا ہوگا تو وہ دابة الارض کے نکلنے کے بعد چالیس سال پورے کیے بغیر فوت نہیں ہوگا، پھر ان میں دوبارہ موت کا سلسلہ شروع ہو جائے گا اور وہ جب تک اللہ چاہے گا اسی حال میں رہیں گے، پھر اہل ایمان میں تیزی سے اموات ہوں گی یہاں تک کہ کوئی مومن باقی نہیں رہے گا، تب کافر کہیں گے: ہم مومنوں سے مرعوب تھے اب ان میں سے کوئی باقی نہیں رہا اور اب ہماری توبہ بھی قبول نہیں کی جائے گی، تو پھر ہمیں کیا ہوا کہ ہم جانوروں کی طرح ایک دوسرے کے ساتھ بدکاری نہ کریں؟! چنانچہ وہ راستوں میں چوپایوں کی طرح ایک دوسرے پر گریں گے (بدکاری کریں گے)، پھر ان میں سے کوئی اپنی ماں، بہن اور بیٹی کے ساتھ راستے کے بیچ میں بدکاری کرے گا، ایک فارغ ہو کر اٹھے گا تو دوسرا اس پر چڑھ جائے گا، کوئی اس پر نہ تو اعتراض کرے گا اور نہ اسے روکے گا، اس دن ان میں سے بہترین وہ شخص ہوگا جو یہ کہے گا: اگر تم راستے سے ہٹ کر یہ کام کرتے تو زیادہ اچھا ہوتا، وہ اسی حال میں رہیں گے یہاں تک کہ نکاح سے پیدا ہونے والی اولاد میں سے کوئی باقی نہیں رہے گا اور تمام روئے زمین پر صرف حرام زادے (ناجائز اولاد) باقی رہ جائیں گے، پس وہ جب تک اللہ چاہے گا اسی حال میں رہیں گے، پھر اللہ تعالیٰ تیس سال تک عورتوں کے رحم بانجھ کر دے گا، کوئی عورت بچہ نہیں جنے گی اور زمین پر کوئی بچہ نہیں ہوگا، وہ سب کے سب بدترین لوگ اور زنا کی اولاد ہوں گے اور انہی پر قیامت قائم ہوگی۔
محمد بن ثابت بن اسلم بنانی کی حدیث اہل بصرہ اور اولادِ تابعین کی روایات میں بہت قیمتی ہے، البتہ عبد الوہاب بن حسین مجہول ہے۔ [المستدرك على الصحيحين/كِتَابُ الْفِتَنِ وَالْمَلَاحِمِ/حدیث: 8803]
تخریج الحدیث: «إسناده واهٍ، ابن لهيعة سيئ الحفظ، وعبد الوهاب بن حسين لا يُعرف وهو مجهولٌ كما قال المصنف، ومحمد بن ثابت» [ترقيم الرساله 8803] [ترقيم الشركة 8693] [ترقيم العلميه 8590]

الحكم على الحديث: إسناده واهٍ
مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 8804
أخبرني الحسين بن حَليم (2) المروَزي، أخبرنا أبو الموجِّه، أخبرنا عَبْدانُ (3) ، أخبرنا عبد الله، أخبرنا سفيان، عن المغيرة بن النُّعمان، حدثنا عبد الله بن يزيد الباهِليّ، حدثنا الأحنَف بن قيس قال: كنتُ بالمدينة فإذا أنا برجل يَفِرُّ الناسُ منه حين يَرَونَه، فقلت: ما أنت؟ قال: أنا أبو ذرٍّ، صاحبُ رسول الله ﷺ، قلت: ما يُفِرُّ الناسَ منك؟ قال: أنهاهم عن الكُنوز بالذي كان يَنهاهم رسولُ الله ﷺ، قال: قلت: فإنَّ أُعطِياتِنا قد ارتفَعَت اليومَ وبَلَغَت، هل تخافُ علينا شيئًا؟ قال: أمَّا اليومَ فلا، ولكنها تُوشِكُ أن تكون أثمانَ دِينِكم، فإذا كانت أثمانَ دينِكم فدَعُوها وإيَّاكم (1) .
هذا حديث صحيح الإسناد، ولم يُخرجاه.
[التعليق - من تلخيص الذهبي] ترقيم العلميه 8591 - صحيح
احنف بن قیس سے روایت ہے، انہوں نے کہا: میں مدینہ منورہ میں تھا کہ اچانک میری نظر ایک ایسے شخص پر پڑی جسے دیکھتے ہی لوگ بھاگ کھڑے ہوتے تھے، میں نے پوچھا: آپ کون ہیں؟ انہوں نے کہا: میں رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کا صحابی ابوذر ہوں، میں نے عرض کیا: لوگ آپ سے کیوں بھاگ رہے ہیں؟ انہوں نے فرمایا: میں انہیں خزانے جمع کرنے سے اس طرح منع کرتا ہوں جس طرح رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم انہیں منع فرمایا کرتے تھے، میں نے عرض کیا: آج تو ہمارے وظائف اور آمدنی بہت بڑھ چکی ہے، کیا آپ کو ہمارے بارے میں کسی چیز کا خوف ہے؟ انہوں نے فرمایا: آج کے دن تو نہیں، لیکن عنقریب یہ وظائف تمہارے دین کی قیمت بن جائیں گے، پس جب یہ تمہارے دین کی قیمت بن جائیں تو انہیں چھوڑ دینا اور ان سے بچ کر رہنا۔
یہ حدیث صحیح الاسناد ہے لیکن شیخین نے اسے روایت نہیں کیا۔ [المستدرك على الصحيحين/كِتَابُ الْفِتَنِ وَالْمَلَاحِمِ/حدیث: 8804]
تخریج الحدیث: «صحيح، وهذا إسناد محتمل للتحسين من أجل عبد الله بن يزيد الباهلي» [ترقيم الرساله 8804] [ترقيم الشركة 8694] [ترقيم العلميه 8591]

الحكم على الحديث: صحيح
مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں