🏠 👥 🔍 🧩 🅰️ 📌 ↩️

المستدرك على الصحيحين سے متعلقہ
تمام کتب
ترقیم الرسالہ
ترقيم الشرکۃ
عربی لفظ
اردو لفظ
حدیث کتب میں نمبر سے حدیث تلاش کریں:

ترقیم الرساله سے تلاش کل احادیث (9018)
حدیث نمبر لکھیں:
ترقیم الشركة سے تلاش کل احادیث (8909)
حدیث نمبر لکھیں:
حدیث میں عربی لفظ/الفاظ تلاش کریں
عربی لفظ / الفاظ لکھیں:
حدیث میں اردو لفظ/الفاظ تلاش کریں
اردو لفظ / الفاظ لکھیں:

108. يَلِدُ الْمُؤْمِنُ فَلَا يَمُوتُ إِلَى أَرْبَعِينَ سَنَةً بَعْدَ خُرُوجِ الدَّابَّةِ
دابۃ الارض کے خروج کے بعد مومن کے ہاں بچہ پیدا ہوگا اور وہ چالیس سال تک نہیں مرے گا
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 8802
حدثنا أبو العباس محمد بن يعقوب، حدثنا بكَّار بن قُتيبة القاضي، حدثنا أبو داود الطَّيالِسي، حدثنا شَيْبان بن عبد الرحمن، عن منصور، عن رِبْعيِّ بن حِرَاش، عن البراء بن ناجيَة الكاهِلي، عن عبد الله بن مسعود، أنَّ رسول الله ﷺ قال:"تدورُ رَحَا الإسلام لخمسٍ وثلاثين، أو ستٍّ وثلاثين، فإن يَهلِكوا فسبيلُ مَن هَلَك، وإن يَقُمْ لهم دينُهم يَقُمْ لهم سبعين عامًا" فقال عمر: يا رسول الله، بما مَضَى أو بما بقيَ؟ قال:"بما بَقِيَ" (2) .
هذا حديث صحيح الإسناد، ولم يُخرجاه. حديثٌ إسنادُه خارجَ شرط الكتب الثلاث (1) ، أخرجتُه تعجُّبًا، إذ هو قريبٌ ممَّا نحن فيه:
[التعليق - من تلخيص الذهبي] ترقيم العلميه 8589 - صحيح
سیدنا عبداللہ بن مسعود رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا: اسلام کی چکی 35 سال تک گھومے گی، یا 36 سال۔ اگر وہ ہلاک ہو گئے تو ہلاک ہونے والوں کی راہ چلے جائیں گے اور اگر ان کا دین قائم رہا تو ستر سال تک قائم رہے گا۔ سیدنا عمر رضی اللہ عنہ نے کہا: یا رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم اس میں گزشتہ زمانہ بھی شامل ہے؟ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: جو باقی بچا ہے، وہ ہے۔ ٭٭ یہ حدیث صحیح الاسناد ہے لیکن امام بخاری رحمۃ اللہ علیہ اور امام مسلم رحمۃ اللہ علیہ نے اس کو نقل نہیں کیا۔ ایک حدیث ایسی ہے جس کی اسناد تینوں کتابوں سے خارج ہے لیکن وہ ہمارے موضوع کے بہت قریب ہے، اس لیے میں نے اس کو اپنی کتاب میں درج کر لیا ہے۔ (جیسا کہ درج ذیل ہے) [المستدرك على الصحيحين/كِتَابُ الْفِتَنِ وَالْمَلَاحِمِ/حدیث: 8802]

مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 8803
أخبرني أبو بكر محمد بن المؤمَّل، حدثنا الفضل بن محمد بن المسيَّب، حدثنا نُعيم بن حمّاد، حدثنا ابن لَهِيعة، عن عبد الوهاب بن حسين (2) ، عن محمد بن ثابت البُنَاني، عن أبيه، عن الحارث، عن عبد الله بن مسعود، عن النبي ﷺ قال:"خروجُ الدابَّةِ بعد طلوع الشمس من مَغربِها [فإذا خَرَجَت] قَتَلَت (3) إبليسَ وهو ساجدٌ، ويَتمتَّع المؤمنون في الأرض بعد ذلك أربعين سنةً، لا يَتمنَّونَ شيئًا إلَّا أُعطُوه ووَجَدُوه، ولا جَوْرَ ولا ظُلَم، وقد أسلَمَ الأشياءُ لرب العالمين طَوْعًا وكَرْهًا، والسَّبُعُ والطيرُ كَرْهًا، حتى إنَّ السَّبُع لا يؤذي دابةً ولا طيرًا، ويلدُ المؤمنُ فلا يموت حتى يُتِمَّ أربعين سنةً بعد خروج دابَّةِ الأرض، ثم يعودُ فيهم الموتُ فيمكُثون كذلك ما شاءَ اللهُ، ثم يُسرِعُ الموتُ في المؤمنين فلا يبقى مؤمنٌ، فيقول الكافر: قد كنَّا مَرعُوبِين من المؤمنين، فلم يبقَ منهم أحدٌ، وليس تُقبَل منا توبةٌ، فما لنا لا نَتهارجُ؟! فيتهارَجُون في الطريق تَهارُجَ البهائمِ، ثم يقوم أحدُهم بأمِّه وأختِه وابنتِه فتُنكَحُ وسطَ الطريق، يقومُ عنها واحدٌ ويَنزُو عليها آخرُ، لا يُنكِرُ ولا يغيِّرُ، فأفضلُهم يومئذٍ من يقول: لو تَنحَّيتم عن الطريق كان أحسنَ، فيكونون بذلك حتى لا يبقى أحدٌ من أولاد النِّكاح، ويكون أهلُ الأرض أولادَ السِّفَاح فيَمكثُون بذلك ما شاء الله، ثم يُعقِرُ اللهُ أرحامَ النساء ثلاثين سنةً، لا تَلِدُ امرأةٌ، ولا يكون في الأرض طفلٌ، ويكون كلُّهم أولادَ الزنى شِرارَ الناس، وعليهم تقومُ الساعةُ" (1) . محمد بن ثابت بن أسلمَ البُناني من أعزِّ البصريين وأولادِ التابعين حديثًا، إلَّا أنَّ عبد الوهاب بن الحسين مجهولٌ.
[التعليق - من تلخيص الذهبي] ترقيم العلميه 8590 - ذا موضوع والسلام
سیدنا عبداللہ بن مسعود رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں کہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا: دابۃ الارض کا نکلنا، سورج کے مغرب کی جانب سے نکلنے کے بعد ہو گا، جب وہ نکلے گا تو ابلیس کو طمانچہ مارے گا، اس وقت وہ سجدے کی حالت میں ہو گا۔ اس کے بعد مسلمان، چالیس سال زمین میں سکون سے گزاریں گے۔ وہ جس چیز کی آرزو کریں گے، ان کو مل جائے گی، کوئی ظلم و ستم نہیں ہو گا۔ تمام چیزیں خوشی سے یا مجبوری سے، اللہ رب العالمین کی بارگاہ میں سر جھکائیں گی حتی کہ درندے بھی کسی جانور یا پرندے کو تکلیف نہیں دیں گے۔ اور جو مومن پیدا ہو گا، وہ دابۃ الارض کے نکلنے کے بعد چالیس سال پورے کرے گا، اس کے بعد ان میں دوبارہ موت آ جائے گی، لیکن یہ لوگ پھر بھی کافی عرصہ زندہ رہیں گے، پھر مومنین میں موت بہت جلد جلد آئے گی، حتی کہ روئے زمین پر کوئی بھی مسلمان باقی نہیں بچے گا، کافر کہیں گے: ہم مسلمانوں سے بہت مرعوب ہوتے تھے، لیکن ان میں سے تو کوئی ایک بھی نہیں رہا، اور ہماری توبہ تو قبول ہونی نہیں ہے، اس لئے وہ لوگ راستوں میں جانوروں کی طرح زنا کریں گے حتی کہ یہ لوگ اپنی ماں اور بیٹی کے ساتھ سرعام بیچ چوراہے کے، زنا کریں گے، ایک مرد زنا کر کے ہٹے گا تو اسی عورت کے ساتھ دوسرا شروع ہو جائے گا، وہ لوگ اس عمل کو برا نہیں سمجھیں گے اور نہ ان کو تبدیل کرنے کی کوشش کریں گے۔ اس زمانے میں سب سے افضل شخص وہ ہو گا جو ان کو اتنا کہہ دے کہ اگر تم یہ کام سڑک سے تھوڑا ہٹ کر کرتے تو اچھا ہوتا۔ پھر حالات یہی رہیں گے، حتی کہ کوئی حلالی نہیں بچے گا۔ پوری زمین پر حرامی لوگ ہوں گے، پھر یہ لوگ ایک عرصہ تک رہیں گے۔ پھر اللہ تعالیٰ تیس سال تک عورتوں کے رحم بند کر دے گا۔ کوئی عورت بچہ نہیں جنے گی اور زمین پر کوئی بچہ نہیں ہو گا۔ یہ سب حرامی لوگ ہوں گے، سب شریر ترین لوگ ہوں گے۔ انہی لوگوں پر قیامت قائم ہو جائے گی۔ ٭٭ محمد بن ثابت بن اسلم البنانی عزت دار بصریین میں سے ہیں اور تابعین کی اولاد میں سے ہیں۔ الا یہ کہ عبدالوہاب بن حسین مجہول ہے۔ [المستدرك على الصحيحين/كِتَابُ الْفِتَنِ وَالْمَلَاحِمِ/حدیث: 8803]

مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں