🏠 👥 🔍 🧩 🅰️ 📌 ↩️

المستدرك على الصحيحين سے متعلقہ
تمام کتب
ترقیم الرسالہ
ترقيم الشرکۃ
عربی لفظ
اردو لفظ
حدیث کتب میں نمبر سے حدیث تلاش کریں:

ترقیم الرساله سے تلاش کل احادیث (9018)
حدیث نمبر لکھیں:
ترقیم الشركة سے تلاش کل احادیث (8909)
حدیث نمبر لکھیں:
حدیث میں عربی لفظ/الفاظ تلاش کریں
عربی لفظ / الفاظ لکھیں:
حدیث میں اردو لفظ/الفاظ تلاش کریں
اردو لفظ / الفاظ لکھیں:
128. ذكر نفخ الصور وإنبات الأجساد
صور پھونکے جانے اور جسموں کے دوبارہ اگنے کا تذکرہ
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 8849
حدثنا محمد بن المظفر الحافظ، حدثنا عبد الله بن سليمان، حدثنا محمد (1) بن مُصفَّى الحِمصي، حدثنا إسماعيل، عن أيوب، عن أبي قِلَابة، عن أنس قال: قال رسول الله ﷺ:"من أدرَكَ منكم عيسى ابنَ مريمَ، فليُقرِئْه مني السلامَ" (2) . صلَّى الله عليهما. إسماعيل هذا أظنُّه ابنَ عيَّاش، ولم يحتجّا به.
سیدنا انس رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: تم میں سے جو بھی عیسیٰ ابن مریم علیہ السلام کو پائے، وہ انہیں میرا سلام پہنچا دے۔
میرا گمان ہے کہ یہ راوی اسماعیل بن عیاش ہے، اور شیخین نے اسے بطور حجت قبول نہیں کیا۔ [المستدرك على الصحيحين/كتاب الفتن والملاحم/حدیث: 8849]
تخریج الحدیث: «إسناده حسن، إن سَلِمَ من تدليس محمد بن مصفَّى الحمصي، وهو صدوق عرف بتدليس التسوية، وإسماعيل هذا هو ابن عُليّة، وليس ابن عياش كما ظنه المصنف، فإنَّ ابن عياش لا تعرف له رواية أبدًا عن أيوب» [ترقيم الرساله 8849] [ترقيم الشركة 8739]

الحكم على الحديث: إسناده حسن
المستدرك على الصحيحين کی حدیث نمبر 8849 پر
الشیخ عادل مرشد، ڈاکٹر احمد برہوم، ڈاکٹر محمد کامل قرہ بلی، ڈاکٹر سعید اللحام کی
تخريج وتحقيقِ محدثانہ نکات و اصطلاحی مطالعہ
(1) تحرَّف في النسخ الخطية إلى: محمود، والتصويب من "إتحاف المهرة" (1271).
📝 نوٹ / توضیح: قلمی نسخوں میں نام تحریف ہو کر ’محمود‘ ہوگیا ہے، جس کی تصحیح "اتحاف المہرۃ" (1271) سے کی گئی ہے۔
(2) إسناده حسن إن سَلِمَ من تدليس محمد بن مصفَّى الحمصي، وهو صدوق عرف بتدليس التسوية، وإسماعيل هذا هو ابن عُليّة، وليس ابن عياش كما ظنه المصنف، فإنَّ ابن عياش لا تعرف له رواية أبدًا عن أيوب - وهو ابن أبي تميمة السختياني - أما ابن علية فروايته عنه مشهورة معروفة عند أصحاب الكتب الستة وغيرهم. أبو قلابة هو عبد الله بن زيد الجَرْمي.
⚖️ درجۂ حدیث: اگر یہ سند محمد بن مصفیٰ الحمصی کی تدلیس سے محفوظ ہو تو ’حسن‘ ہے، وہ صدوق ہیں لیکن ’تدلیس تسویہ‘ کے لیے مشہور ہیں۔ 🔍 فنی نکتہ / علّت: یہاں اسماعیل سے مراد ’اسماعیل بن علیہ‘ ہیں، نہ کہ ’اسماعیل بن عیاش‘ جیسا کہ مصنف نے گمان کیا۔ کیونکہ ابن عیاش کی ایوب (جو کہ ابن ابی تمیمہ السختیانی ہیں) سے کوئی روایت معروف نہیں ہے، جبکہ ابن علیہ کی ایوب سے روایت مشہور ہے اور کتب ستہ کے مصنفین و دیگر کے ہاں معروف ہے۔ ابو قلابہ سے مراد عبد اللہ بن زید الجرمی ہیں۔
وهذا الحديث لم نقف عليه عند غير المصنف.
📌 اہم نکتہ: یہ حدیث ہمیں مصنف (ابن حبان) کے علاوہ کسی اور کے ہاں نہیں ملی۔

Al Mustadrak ala al‑Sahihayn Hadith 8849 in Urdu