🏠 👥 🔍 🧩 🅰️ 📌 ↩️

المستدرك على الصحيحين سے متعلقہ
تمام کتب
ترقیم الرسالہ
ترقيم الشرکۃ
عربی لفظ
اردو لفظ
حدیث کتب میں نمبر سے حدیث تلاش کریں:

ترقیم الرساله سے تلاش کل احادیث (9018)
حدیث نمبر لکھیں:
ترقیم الشركة سے تلاش کل احادیث (8909)
حدیث نمبر لکھیں:
حدیث میں عربی لفظ/الفاظ تلاش کریں
عربی لفظ / الفاظ لکھیں:
حدیث میں اردو لفظ/الفاظ تلاش کریں
اردو لفظ / الفاظ لکھیں:
129. كلمة لا إله إلا الله تنجي الناس من النار
کلمہ "لا الہ الا اللہ" لوگوں کو آگ سے نجات دلائے گا
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 8850
حدثنا أبو العباس محمد بن يعقوب، حدثنا أحمد (3) بن عبد الجبار، حدثنا أبو معاوية، عن أبي مالك الأشجعيِّ، عن رِبْعيٍّ، عن حُذَيفة قال: قال رسول الله ﷺ:"يَدرُسُ الإسلام كما يَدرُسُ وَشْيُ الثوب، لا يُدرَى ما صيامٌ ولا صدقةٌ ولا نُسُك، ويُسرَى على كتاب الله ﷿ في ليلةٍ فلا يبقى في الأرض منه آيةٌ، ويبقى طوائفُ من الناس، الشيخُ الكبير والعجوزُ الكبيرة، يقولون: أدرَكْنا آباءَنا على هذه الكلمة: لا إله إلَّا الله، فنحن نقولُها". فقال له صِلةُ: فما تُغْني عنهم لا إله إلَّا الله، لا يَدرُون ما صيامٌ ولا صدقةٌ ولا نُسُك؟! فأعرضَ عنه حذيفةُ (1) ، ثم أَقبل عليه في الثالثة فقال: يا صلةُ، تُنجِيهم من النار، تُنجِيهم من النار، تُنجِيهم من النار (2) .
هذا حديث صحيح على شرط مسلم، ولم يُخرجاه.
[التعليق - من تلخيص الذهبي] ترقيم العلميه 8636 - على شرط مسلم
سیدنا حذیفہ رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا: اسلام کی تعلیمات کپڑے کی طرح میلی ہوتی رہیں گی حتی کہ ایک زمانہ آئے گا کہ لوگوں کو زکوۃ، روزہ اور قربانی تک کے بارے میں علم نہیں ہو گا، اور ایک ہی رات میں پورا قرآن اٹھا لیا جائے گا اور روئے زمین پر اس کی ایک بھی آیت باقی نہیں بچے گی، اور انسانوں میں بوڑھے مرد اور عورتیں یوں باتیں کیا کریں گے کہ ہم نے اپنے آباء و اجداد کو یہ کلمہ لا الہ الا اللہ پڑھتے پایا تھا تو ہم بھی یہ کلمہ پڑھنے لگ گئے، سیدنا صلہ نے کہا: جب وہ لوگ روزہ، زکوۃ اور قربانی سے واقف نہیں ہوں گے تو یہ کلمہ لا الہ الا اللہ ان کو کیا فائدہ دے گا؟ سیدنا حذیفہ رضی اللہ عنہ نے ان کو کوئی جواب نہیں دیا، سیدنا صلہ نے تین مرتبہ یہ سوال دہرایا، لیکن سیدنا حذیفہ رضی اللہ عنہ ہر بار پہلو تہی کرتے رہے، تیسری مرتبہ سوال کے بعد سیدنا حذیفہ رضی اللہ عنہ نے فرمایا: اے صلہ! یہ کلمہ ان کو دوزخ سے بچا لے گا، یہ کلمہ ان کو دوزخ سے بچا لے گا۔ ٭٭ یہ حدیث امام مسلم رحمۃ اللہ علیہ کے معیار کے مطابق صحیح ہے لیکن شیخین نے اس کو نقل نہیں کیا۔ [المستدرك على الصحيحين/كتاب الفتن والملاحم/حدیث: 8850]

المستدرك على الصحيحين کی حدیث نمبر 8850 پر
الشیخ عادل مرشد، ڈاکٹر احمد برہوم، ڈاکٹر محمد کامل قرہ بلی، ڈاکٹر سعید اللحام کی
تخريج وتحقيقِ محدثانہ نکات و اصطلاحی مطالعہ
(3) تحرّف في النسخ الخطية إلى: محمد، والتصويب من "إتحاف المهرة" (4262)، وقد تكررت سلسلة الإسناد هذه عند المصنف في عشرين موضعًا تقريبًا على الصواب، وأحمد بن عبد الجبار: هو العُطاردي.
📝 نوٹ / توضیح: قلمی نسخوں میں یہ نام تحریف ہو کر ’محمد‘ ہوگیا ہے، جس کی تصحیح "اتحاف المہرۃ" (4262) سے کی گئی ہے۔ مصنف کے ہاں یہ سند تقریباً بیس مقامات پر درست شکل میں آئی ہے۔ احمد بن عبد الجبار سے مراد ’عطاردی‘ ہیں۔
(1) زاد بعد هذا في "التلخيص": فردّد عليه ثلاثًا كل ذلك يعرض عنه.
🧾 تفصیلِ روایت: "التلخیص" میں اس کے بعد یہ اضافہ ہے: "پس اس نے ان پر تین بار یہ بات دہرائی، اور ہر بار وہ (نبی ﷺ) اس سے اعراض کرتے رہے۔"
(2) صحيح موقوفًا كما سبق بيانه عند الحديث (8526)، حيث رواه هناك من طريق أبي كريب محمد بن العلاء عن أبي معاوية.
⚖️ درجۂ حدیث: یہ روایت موقوفاً صحیح ہے جیسا کہ حدیث نمبر (8526) کے تحت بیان ہو چکا ہے، جہاں اسے ابو کریب محمد بن العلاء عن ابی معاویہ کے طریق سے روایت کیا گیا تھا۔