المستدرك على الصحيحين سے متعلقہ
تمام کتب
ترقیم الرسالہ
ترقيم الشرکۃ
عربی لفظ
اردو لفظ
129. كَلِمَةُ لَا إِلَهَ إِلَّا اللَّهُ تُنْجِي النَّاسَ مِنَ النَّارِ
کلمہ "لا الہ الا اللہ" لوگوں کو آگ سے نجات دلائے گا
حدیث نمبر: 8849
حدثنا محمد بن المظفر الحافظ، حدثنا عبد الله بن سليمان، حدثنا محمد (1) بن مُصفَّى الحِمصي، حدثنا إسماعيل، عن أيوب، عن أبي قِلَابة، عن أنس قال: قال رسول الله ﷺ:"من أدرَكَ منكم عيسى ابنَ مريمَ، فليُقرِئْه مني السلامَ" (2) . صلَّى الله عليهما. إسماعيل هذا أظنُّه ابنَ عيَّاش، ولم يحتجّا به.
سیدنا انس رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں کہ اللہ تعالیٰ نے ارشاد فرمایا: تم میں جس کی بھی ملاقات سیدنا عیسیٰ علیہ السلام سے ہو، وہ ان تک میرا سلام پہنچا دے۔ ٭٭ اس حدیث کی سند میں جو اسماعیل نامی راوی ہیں، میرا گمان ہے کہ وہ ابن عیاش ہیں، امام بخاری رحمۃ اللہ علیہ اور امام مسلم رحمۃ اللہ علیہ نے ان کی روایات نقل نہیں کیں۔ [المستدرك على الصحيحين/كِتَابُ الْفِتَنِ وَالْمَلَاحِمِ/حدیث: 8849]
حدیث نمبر: 8850
حدثنا أبو العباس محمد بن يعقوب، حدثنا أحمد (3) بن عبد الجبار، حدثنا أبو معاوية، عن أبي مالك الأشجعيِّ، عن رِبْعيٍّ، عن حُذَيفة قال: قال رسول الله ﷺ:"يَدرُسُ الإسلام كما يَدرُسُ وَشْيُ الثوب، لا يُدرَى ما صيامٌ ولا صدقةٌ ولا نُسُك، ويُسرَى على كتاب الله ﷿ في ليلةٍ فلا يبقى في الأرض منه آيةٌ، ويبقى طوائفُ من الناس، الشيخُ الكبير والعجوزُ الكبيرة، يقولون: أدرَكْنا آباءَنا على هذه الكلمة: لا إله إلَّا الله، فنحن نقولُها". فقال له صِلةُ: فما تُغْني عنهم لا إله إلَّا الله، لا يَدرُون ما صيامٌ ولا صدقةٌ ولا نُسُك؟! فأعرضَ عنه حذيفةُ (1) ، ثم أَقبل عليه في الثالثة فقال: يا صلةُ، تُنجِيهم من النار، تُنجِيهم من النار، تُنجِيهم من النار (2) .
هذا حديث صحيح على شرط مسلم، ولم يُخرجاه.
[التعليق - من تلخيص الذهبي] ترقيم العلميه 8636 - على شرط مسلم
هذا حديث صحيح على شرط مسلم، ولم يُخرجاه.
[التعليق - من تلخيص الذهبي] ترقيم العلميه 8636 - على شرط مسلم
سیدنا حذیفہ رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا: اسلام کی تعلیمات کپڑے کی طرح میلی ہوتی رہیں گی حتی کہ ایک زمانہ آئے گا کہ لوگوں کو زکوۃ، روزہ اور قربانی تک کے بارے میں علم نہیں ہو گا، اور ایک ہی رات میں پورا قرآن اٹھا لیا جائے گا اور روئے زمین پر اس کی ایک بھی آیت باقی نہیں بچے گی، اور انسانوں میں بوڑھے مرد اور عورتیں یوں باتیں کیا کریں گے کہ ہم نے اپنے آباء و اجداد کو یہ کلمہ ” لا الہ الا اللہ “ پڑھتے پایا تھا تو ہم بھی یہ کلمہ پڑھنے لگ گئے، سیدنا صلہ نے کہا: جب وہ لوگ روزہ، زکوۃ اور قربانی سے واقف نہیں ہوں گے تو یہ کلمہ ” لا الہ الا اللہ “ ان کو کیا فائدہ دے گا؟ سیدنا حذیفہ رضی اللہ عنہ نے ان کو کوئی جواب نہیں دیا، سیدنا صلہ نے تین مرتبہ یہ سوال دہرایا، لیکن سیدنا حذیفہ رضی اللہ عنہ ہر بار پہلو تہی کرتے رہے، تیسری مرتبہ سوال کے بعد سیدنا حذیفہ رضی اللہ عنہ نے فرمایا: اے صلہ! یہ کلمہ ان کو دوزخ سے بچا لے گا، یہ کلمہ ان کو دوزخ سے بچا لے گا۔ ٭٭ یہ حدیث امام مسلم رحمۃ اللہ علیہ کے معیار کے مطابق صحیح ہے لیکن شیخین نے اس کو نقل نہیں کیا۔ [المستدرك على الصحيحين/كِتَابُ الْفِتَنِ وَالْمَلَاحِمِ/حدیث: 8850]