المستدرك على الصحيحين سے متعلقہ
تمام کتب
ترقیم الرسالہ
ترقيم الشرکۃ
عربی لفظ
اردو لفظ
132. إذا وقعت الملاحم خرج بعث من الموالي ، هم أكرم العرب
جب عظیم جنگیں (ملاحم) چھڑیں گی تو موالی (آزاد کردہ غلاموں) کا ایک لشکر نکلے گا جو عربوں میں سب سے معزز ہوگا
حدیث نمبر: 8859
حدثنا أبو الفضل الحسن بن يعقوب بن يوسف العَدْل، حدثنا محمد بن عبد الوهاب بن حَبيب العَبْدي، حدثنا جعفر بن عَوْن العَمْري، أخبرنا أبو حيَّان التَّيْمي، عن أبي زُرْعة بن عمرو بن جَرِير قال: جلس إلى مروانَ ثلاثةُ نَفَرٍ بالمدينة، فسمعوه يحدِّثُ عن الآيات: أوّلُها خروجُ الدجال، فقام النَّفَرُ من عند مروان فجلسوا إلى عبد الله بن عمرو، فحدَّثوه بما قال مروان، فقال عبد الله: لم يقل مروانُ شيئًا، سمعتُ رسول الله ﷺ يقول:"إنَّ أول الآيات خُروجًا طلوع الشمس من مَغرِبها والدابَّةُ، أيُّها كانت فالأُخرى على أَثرِها قريبًا". ثم أنشأَ يحدِّث، قال:"وذلك أنَّ الشمس إذا غَرَبَت أتَت تحت العَرْشِ فَسَجَدَت، واستأذَنَت في الرجوع، فيُؤذَن لها، حتى إذا أراد الله أن تَطلُعَ من مغربها أتت تحت العرش فسجدت، واستأذَنَت في الرجوع، فلم يُرَدَّ عليها شيءٌ، قال: ثم تعودُ تستأذنُ في الرجوع، فلم يُرَدَّ عليها شيءٌ، قال: ثم تعودُ تستأذنُ في الرجوع، فلا يُرَدُّ عليها، وعَلِمَت أَنْ لو أُذِنَ لها لم تُدرِكِ الشرقَ، قالت: يا ربِّ، ما أبعدَ المَشْرِقَ! مَن لي بالناس؟ حتى إذا كان الليلُ أنت فاستأذَنَت، فقال لها: اطلُعِي من مكانِك". قال: وكان عبد الله يقرأ الكتبَ، فقرأ وذلك يومَ ﴿لَا يَنْفَعُ نَفْسًا إِيمَانُهَا لَمْ تَكُنْ آمَنَتْ مِنْ قَبْلُ أَوْ كَسَبَتْ فِي إِيمَانِهَا خَيْرًا﴾ [الأنعام: 158] (1) .
هذا حديث صحيح على شرط الشيخين، ولم يُخرجاه.
هذا حديث صحيح على شرط الشيخين، ولم يُخرجاه.
ابوزرعہ بن عمرو بن جریر بیان کرتے ہیں کہ مدینہ منورہ میں مروان کے پاس تین آدمی بیٹھے ہوئے تھے، انہوں نے مروان کو قیامت کی تین نشانیاں بیان کرتے ہوئے سنا، سب سے پہلی یہ کہ دجال نکلے گا، وہ لوگ مروان کے پاس سے اٹھے اور سیدنا عبداللہ بن عمرو رضی اللہ عنہ کے پاس آئے، اور مروان کی بیان کردہ حدیث ان کو سنائی، (حدیث سن کر) سیدنا عبداللہ نے فرمایا: مروان کی بیان کردہ حدیث، اس حدیث کے موافق نہیں ہے جو میں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی زبان مبارک سے سنی ہے (میں نے آپ صلی اللہ علیہ وسلم کو یہ فرماتے ہوئے سنا ہے کہ) سب سے پہلے سورج مغرب کی جانب سے طلوع ہو گا یا دابۃ الارض نکلے گا، ان دونوں میں سے جو نشانی بھی پہلے ظاہر ہو جائے گی، اس کے فوراً بعد دوسری وقوع پذیر ہو گی، پھر آپ نے مزید حدیث بیان کرتے ہوئے فرمایا: اور یہ اس لئے ہے کہ جب سورج غروب ہو گا تو عرش کے نیچے آئے گا اور سجدہ کرے گا اور واپسی کی اجازت طلب کرے گا، لیکن اس کو اجازت نہیں ملے گی، وہ دوبارہ اجازت مانگے گا لیکن دوسری مرتبہ بھی اس کو اجازت نہیں ملے گی، پھر وہ کہے گا: اے میرے رب! مشرق بہت دور ہے مجھے وہاں تک پہنچنا ہے۔ حتی کہ جب رات ہو گی تو وہ پھر اجازت مانگے گا، تب اس کو اجازت مل جائے گی اور اس کو کہا جائے گا کہ تم جس جگہ پر ہو یہیں سے طلوع ہو جاؤ، اور سیدنا عبداللہ کتاب اللہ پڑھا کرتے تھے، تب انہوں نے یہ آیت پڑھی وَذَلِكَ يَوْمَ {لَا يَنْفَعُ نَفْسًا إِيمَانُهَا لَمْ تَكُنْ آمَنَتْ مِنْ قَبْلُ أَوْ كَسَبَتْ فِي إِيمَانِهَا خَيْرًا} [الأنعام: 158] ”جس دن تمہارے رب کی وہ ایک نشانی آئے گی کسی جان کو ایمان لانا کام نہ دے گا جو پہلے ایمان نہ لائی تھی یا اپنے یا اپنے ایمان میں کوئی بھلائی نہ کمائی تھی “ (امام احمد رضا) ٭٭ یہ حدیث امام بخاری رحمۃ اللہ علیہ اور امام مسلم رحمۃ اللہ علیہ کے معیار کے مطابق صحیح ہے لیکن شیخین رحمۃ اللہ علیہما نے اس کو نقل نہیں کیا۔ [المستدرك على الصحيحين/كتاب الفتن والملاحم/حدیث: 8859]
المستدرك على الصحيحين کی حدیث نمبر 8859 پر
الشیخ عادل مرشد، ڈاکٹر احمد برہوم، ڈاکٹر محمد کامل قرہ بلی، ڈاکٹر سعید اللحام کی
تخريج وتحقيقِ محدثانہ نکات و اصطلاحی مطالعہ
الشیخ عادل مرشد، ڈاکٹر احمد برہوم، ڈاکٹر محمد کامل قرہ بلی، ڈاکٹر سعید اللحام کی
تخريج وتحقيقِ محدثانہ نکات و اصطلاحی مطالعہ
(1) إسناده صحيح. أبو حيان التيمي: هو يحيى بن سعيد بن حيان، ومروان هو ابن الحكم.
⚖️ درجۂ حدیث: اس کی سند صحیح ہے۔ 🔍 فنی نکتہ / علّت: ابو حیان تیمی سے مراد ’یحییٰ بن سعید بن حیان‘ ہیں اور مروان سے مراد ’مروان بن حکم‘ ہیں۔
وأخرجه أحمد 11/ (6531) و (6881)، ومسلم (2941)، وأبو داود (4310)، وابن ماجه (4069) من طرق عن أبي حيان التيمي، به. وهو عندهم - غير أحمد. مختصر.
📖 حوالہ / مصدر: اسے امام احمد [11/ (6531) اور (6881)]، مسلم (2941)، ابوداؤد (4310) اور ابن ماجہ (4069) نے ابو حیان تیمی کے مختلف طرق سے اسی سند کے ساتھ روایت کیا ہے۔ احمد کے علاوہ باقی سب کے ہاں یہ حدیث مختصر ہے۔
وانظر للشطر الثاني منه ما سلف برقم (8736) من طريق وهب بن جابر عن عبد الله بن عمرو.
📖 حوالہ / مصدر: اس حدیث کے دوسرے حصے کے لیے وہب بن جابر عن عبد اللہ بن عمرو والی سابقہ روایت نمبر (8736) دیکھیں۔