🏠 👥 🔍 🧩 🅰️ 📌 ↩️

المستدرك على الصحيحين سے متعلقہ
تمام کتب
ترقیم الرسالہ
ترقيم الشرکۃ
عربی لفظ
اردو لفظ
حدیث کتب میں نمبر سے حدیث تلاش کریں:

ترقیم الرساله سے تلاش کل احادیث (9018)
حدیث نمبر لکھیں:
ترقیم الشركة سے تلاش کل احادیث (8909)
حدیث نمبر لکھیں:
حدیث میں عربی لفظ/الفاظ تلاش کریں
عربی لفظ / الفاظ لکھیں:
حدیث میں اردو لفظ/الفاظ تلاش کریں
اردو لفظ / الفاظ لکھیں:
7. إن آخر من يحشر راعيان من مزينة
حشر کے میدان میں لائے جانے والے آخری دو افراد قبیلہ مزینہ کے چرواہے ہوں گے
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 8903
حدثنا أبو العباس محمد بن يعقوب، حدثنا بَحْر بن نَصْر، حدثنا عبد الله بن وهب، أخبرني عمرو بن الحارث، أنَّ سعيد بن أبي هلال حدَّثه، أنه سمع عثمانَ بن عبد الرحمن القُرَظي يقول: قرأَتْ عائشة قول الله ﷿: ﴿وَلَقَدْ جِئْتُمُونَا فُرَادَى كَمَا خَلَقْنَاكُمْ أَوَّلَ مَرَّةٍ﴾ [الأنعام: 9] ، فقالت: يا رسول الله، واسَوْأَتاه، إِنَّ الرجال والنساء يُحشَرون جميعًا يَنظُر بعضُهم إلى سَوْاةِ بعض؟! فقال رسول الله ﷺ:"لكلِّ امرِئٍ منهم يومَئِذٍ شأنٌ يُغنيه، لا ينظرُ الرجالُ إلى النساءُ، ولا النساء إلى الرجال، شُغِلَ بعضُهم عن بعض" (4) .
هذا حديث صحيح الإسناد، ولم يُخرجاه.
[التعليق - من تلخيص الذهبي] ترقيم العلميه 8689 - فيه انقطاع
عثمان بن عبدالرحمن القرظی بیان کرتے ہیں کہ ام المومنین سیدہ عائشہ رضی اللہ عنہا نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے سامنے یہ آیت پڑھی وَلَقَدْ جِئْتُمُونَا فُرَادَى كَمَا خَلَقْنَاكُمْ أَوَّلَ مَرَّةٍ [الأنعام: 94] بے شک تم ہمارے پاس اکیلے آئے جیسا ہم نے تمہیں پہلی بار پیدا کیا تھا (امام احمد رضا) اور عرض کی: یا رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم پردے کا کیا بنے گا؟ مرد اور عورتوں کو اکٹھے جمع کیا جائے گا، یہ ایک دوسرے کی شرمگاہوں کو دیکھیں گے۔ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا: اس دن ہر شخص کو اپنی مصیبت پڑی ہو گی، اس کو کسی اور چیز کا خیال بھی نہیں رہے گا۔ مرد عورتوں کی جانب اور عورتیں مردوں کی جانب نگاہ نہیں کریں گے، سب ایک دوسرے سے اعراض کر رہے ہوں گے۔ ٭٭ یہ حدیث صحیح الاسناد ہے لیکن امام بخاری رحمۃ اللہ علیہ اور امام مسلم رحمۃ اللہ علیہ نے اس کو نقل نہیں کیا۔ [المستدرك على الصحيحين/كتاب : الأهوال/حدیث: 8903]

المستدرك على الصحيحين کی حدیث نمبر 8903 پر
الشیخ عادل مرشد، ڈاکٹر احمد برہوم، ڈاکٹر محمد کامل قرہ بلی، ڈاکٹر سعید اللحام کی
تخريج وتحقيقِ محدثانہ نکات و اصطلاحی مطالعہ
(4) حديث صحيح، وهذا إسناد ضعيف عثمان بن عبد الرحمن القرظي لم نقف له على ترجمة بهذا الاسم، إلَّا أن يكون هو عثمان بن عبد الرحمن الزهري الوقّاصي، فإنه ابن أخت محمد بن كعب القرظي، وهو من طبقة سعيد بن أبي هلال، فلعلَّ سعيدًا ذهل فنسبه إليه، وقد أشار الإمام أحمد فيما نقله عنه الساجي إلى تخليط سعيد في بعض الأحاديث، فإن كان هذا، فإنَّ عثمان الوقّاصي هذا متروك، وسواء كان هذا أو ذاك فإنَّ الذهبي أعلَّه في "تلخيصه" بالانقطاع، ولعله من أجل أن عثمان - أيًّا كان لم يسمع من عائشة.
⚖️ درجۂ حدیث: یہ حدیث (متن کے لحاظ سے) صحیح ہے، مگر یہ سند ضعیف ہے۔ 🔍 فنی نکتہ / علّت: اس سند میں "عثمان بن عبدالرحمن القرظی" نام کا راوی ہے جس کا اس نام سے کوئی ترجمہ (حالات) ہمیں نہیں ملا، سوائے اس کے کہ یہ "عثمان بن عبدالرحمن الزہری الوقاصی" ہو، کیونکہ وہ محمد بن کعب القرظی کا بھانجا ہے اور سعید بن ابی ہلال کے طبقے سے ہے۔ شاید سعید کو وہم ہوا اور اس نے (ماموں کی نسبت سے) اسے القرظی کہہ دیا۔ امام احمد نے سعید کے بارے میں اشارہ کیا ہے کہ وہ بعض احادیث میں خلط ملط (تخلیط) کر جاتے تھے۔ اگر یہ واقعی وقاصی ہے تو وہ "متروک" ہے۔ بہرحال، خواہ یہ ہو یا وہ، حافظ ذہبی نے "التلخیص" میں اسے "انقطاع" کی وجہ سے معلول کہا ہے، شاید اس لیے کہ عثمان (جو بھی ہو) کا سماع حضرت عائشہ رضی اللہ عنہا سے ثابت نہیں۔
وقد أخرجه الطبري في "تفسيره" 7/ 278، وكذا ابن أبي حاتم 4/ 1349 عن يونس بن عبد الأعلى، عن ابن وهب، بهذا الإسناد. ووقع في إسناد الطبري بين ابن وهب وعمرو بن الحارث: قال ابن زيد، وهي زيادة مقحمة كما بيَّن الأستاذ محمود شاكر ﵀ في تعليقه على طبعته من "تفسير الطبري" 11/ 545.
📖 حوالہ / مصدر: اسے طبری نے "تفسیر" (7/ 278) اور ابن ابی حاتم (4/ 1349) نے یونس بن عبدالاعلیٰ عن ابن وہب کے طریق سے اسی سند کے ساتھ روایت کیا ہے۔ 🔍 فنی نکتہ / علّت: طبری کی سند میں ابن وہب اور عمرو بن حارث کے درمیان "قال ابن زید" (ابن زید نے کہا) کے الفاظ آئے ہیں، یہ ایک زبردستی ٹھونسا ہوا (مقحمہ) اضافہ ہے جیسا کہ استاد محمود شاکر رحمہ اللہ نے "تفسیر طبری" (11/ 545) کے اپنے حاشیہ/تعلیق میں واضح کیا ہے۔
وقد صحَّ هذا الخبر بنحوه عن عائشة من غير هذا الوجه، فانظر ما سلف برقم (8898).
🧩 متابعات و شواہد: یہ خبر (حدیث) حضرت عائشہ سے اس طریق کے علاوہ دوسرے طریق سے صحیح ثابت ہے، لہٰذا وہ دیکھیں جو پیچھے نمبر (8898) پر گزر چکا ہے۔