🏠 👥 🔍 🧩 🅰️ 📌 ↩️

سنن ابن ماجه سے متعلقہ
تمام کتب
ترقیم شاملہ
عربی
اردو
حدیث کتب میں نمبر سے حدیث تلاش کریں:

سنن ابن ماجہ میں ترقیم شاملہ سے تلاش کل احادیث (4341)
حدیث نمبر لکھیں:
حدیث میں عربی لفظ/الفاظ تلاش کریں
عربی لفظ / الفاظ لکھیں:
حدیث میں اردو لفظ/الفاظ تلاش کریں
اردو لفظ / الفاظ لکھیں:
62. باب : مسح الحصى في الصلاة
باب: نماز میں کنکریاں ہٹانے کا بیان۔
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 1026
حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ الصَّبَّاحِ ، وَعَبْدُ الرَّحْمَنِ بْنُ إِبْرَاهِيمَ ، قَالَا: حَدَّثَنَا الْوَلِيدُ بْنُ مُسْلِمٍ ، حَدَّثَنَا الْأَوْزَاعِيُّ ، حَدَّثَنِي يَحْيَى بْنُ أَبِي كَثِيرٍ ، حَدَّثَنِي أَبُو سَلَمَةَ ، قَالَ: حَدَّثَنِي مُعَيْقِيبٌ ، قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فِي مَسْحِ الْحَصَى فِي الصَّلَاةِ:" إِنْ كُنْتَ فَاعِلًا فَمَرَّةً وَاحِدَةً".
معیقیب رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے نماز میں کنکریوں کے ہٹانے کے بارے میں فرمایا: اگر تمہیں ایسا کرنا ضروری ہو تو ایک بار کر لو۔ [سنن ابن ماجه/كتاب إقامة الصلاة والسنة/حدیث: 1026]
تخریج الحدیث دارالدعوہ: «صحیح البخاری/العمل في الصلاة 8 (1207)، صحیح مسلم/المساجد 12 (546)، سنن ابی داود/الصلاة 175 (946)، سنن الترمذی/الصلاة 163 (380)، سنن النسائی/السہو 8 (1193)، (تحفة الأشراف: 11485)، وقد أخرجہ: مسند احمد (3/426، 5/425، 426، سنن الدارمی/الصلاة 110 (1427) (صحیح)»
قال الشيخ الألباني: صحيح
قال الشيخ زبير على زئي:بخاري ومسلم

الرواة الحديث:
اسم الشهرة
الرتبة عند ابن حجر/ذهبي
أحاديث
👤←👥معيقب بن أبي فاطمة الدوسيصحابي
👤←👥أبو سلمة بن عبد الرحمن الزهري، أبو سلمة
Newأبو سلمة بن عبد الرحمن الزهري ← معيقب بن أبي فاطمة الدوسي
ثقة إمام مكثر
👤←👥يحيى بن أبي كثير الطائي، أبو نصر
Newيحيى بن أبي كثير الطائي ← أبو سلمة بن عبد الرحمن الزهري
ثقة ثبت لكنه يدلس ويرسل
👤←👥عبد الرحمن بن عمرو الأوزاعي، أبو عمرو
Newعبد الرحمن بن عمرو الأوزاعي ← يحيى بن أبي كثير الطائي
ثقة مأمون
👤←👥الوليد بن مسلم القرشي، أبو العباس
Newالوليد بن مسلم القرشي ← عبد الرحمن بن عمرو الأوزاعي
ثقة
👤←👥دحيم القرشي، أبو سعيد
Newدحيم القرشي ← الوليد بن مسلم القرشي
ثقة حافظ متقن
👤←👥محمد بن الصباح الجرجرائي، أبو جعفر
Newمحمد بن الصباح الجرجرائي ← دحيم القرشي
صدوق حسن الحديث
تخريج الحديث:
کتاب
نمبر
مختصر عربی متن
سنن النسائى الصغرى
1193
إن كنت لا بد فاعلا فمرة
صحيح البخاري
1207
الرجل يسوي التراب حيث يسجد قال إن كنت فاعلا فواحدة
صحيح مسلم
1219
إن كنت لا بد فاعلا فواحدة
صحيح مسلم
1222
إن كنت فاعلا فواحدة
صحيح مسلم
1220
المسح في الصلاة فقال واحدة
جامع الترمذي
380
إن كنت لا بد فاعلا فمرة واحدة
سنن أبي داود
946
لا تمسح وأنت تصلي فإن كنت لا بد فاعلا فواحدة تسوية الحصى
سنن ابن ماجه
1026
إن كنت فاعلا فمرة واحدة
سنن ابن ماجہ کی حدیث نمبر 1026 کے فوائد و مسائل
مولانا عطا الله ساجد حفظ الله، فوائد و مسائل، سنن ابن ماجه، تحت الحديث1026
اردو حاشہ:
فوائد و مسائل:
(1)
نماز کے دوران میں اگر محسوس کیا جائے کہ کنکریاں زیادہ اونچی نیچی ہیں۔
جو چہرے میں چبھ کر نماز سے توجہ ہٹانے کا باعث بن رہی ہیں۔
تو ایک بار ہاتھ پھیر کرمعمولی سی برابر کر لی جایئں زیادہ تکلف کرنا مناسب نہیں۔

(2)
نماز میں خشوع کے منافی حرکت کرنے سے نماز نہیں ٹوٹتی لیکن ثواب میں کمی واقع ہوجاتی ہے۔
اس لئے زیادہ حرکات سے ثواب بہت زیادہ کم ہوسکتا ہے۔
جو مومن کےلئے انتہائی خسارے کا باعث ہے۔
[سنن ابن ماجہ شرح از مولانا عطا الله ساجد، حدیث/صفحہ نمبر: 1026]

تخریج الحدیث کے تحت دیگر کتب سے حدیث کے فوائد و مسائل
الشيخ عمر فاروق سعيدي حفظ الله، فوائد و مسائل، تحت الحديث سنن ابي داود 946
نماز میں کنکری ہٹانے کے حکم کا بیان۔
معیقیب رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: تم نماز پڑھنے کی حالت میں (کنکریوں پر) ہاتھ نہ پھیرو، یعنی انہیں برابر نہ کرو، اگر کرنا ضروری ہو تو ایک دفعہ برابر کر لو۔‏‏‏‏ [سنن ابي داود/أبواب تفريع استفتاح الصلاة /حدیث: 946]
946۔ اردو حاشیہ:
شیخ البانی رحمہ اللہ کے نزدیک یہ روایت ضعیف ہے، لیکن شواہد کی بنا پر قابل استدلال ہے۔ بنابریں نمازی کو چاہیے کہ نماز شروع کرنے سے پہلے اپنی جگہ صاف کر لے اور مصلیٰ وغیرہ درست کر کے کھڑا ہو۔ نماز کے دوران یہ عمل جائز نہیں، اگر کرنا بھی ہو تو صرف ایک بار میں اس کی رخصت ہے۔
[سنن ابی داود شرح از الشیخ عمر فاروق سعیدی، حدیث/صفحہ نمبر: 946]

الشيخ الحديث مولانا عبدالعزيز علوي حفظ الله، فوائد و مسائل، تحت الحديث ، صحيح مسلم: 1220
حضرت معیقیب رضی اللہ تعالیٰ عنہ سے روایت ہے کہ انہوں نے نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم سے نماز میں ہاتھ پھیرنے کے بارے میں سوال کیا تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ایک بار۔ [صحيح مسلم، حديث نمبر:1220]
حدیث حاشیہ:
فوائد ومسائل:
نماز میں نماز کی جگہ سجدہ کرتے وقت بار بار صاف کرنا درست نہیں ہے یہ نماز کے آداب اور تواضع کے منافی حرکت ہے ضرورت کی صورت میں صرف ایک دفعہ کرنا درست ہے۔
[تحفۃ المسلم شرح صحیح مسلم، حدیث/صفحہ نمبر: 1220]

مولانا داود راز رحمه الله، فوائد و مسائل، تحت الحديث صحيح بخاري: 1207
1207. حضرت معیقیب ؓ سے روایت ہے کہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے ایک شخص سے فرمایا جو دوران نماز میں سجدے کی جگہ پر مٹی ہموار کر رہا تھا: اگر تم یہ کرنا ہی چاہتے ہو تو ایک دفعہ کر لو (اس سے زیادہ نہ کرو)۔ [صحيح بخاري، حديث نمبر:1207]
حدیث حاشیہ:
کیونکہ باربار ایسا کرنا نماز میں خشوع وخضوع کے خلاف ہے۔
[صحیح بخاری شرح از مولانا داود راز، حدیث/صفحہ نمبر: 1207]

الشيخ حافط عبدالستار الحماد حفظ الله، فوائد و مسائل، تحت الحديث صحيح بخاري:1207
1207. حضرت معیقیب ؓ سے روایت ہے کہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے ایک شخص سے فرمایا جو دوران نماز میں سجدے کی جگہ پر مٹی ہموار کر رہا تھا: اگر تم یہ کرنا ہی چاہتے ہو تو ایک دفعہ کر لو (اس سے زیادہ نہ کرو)۔ [صحيح بخاري، حديث نمبر:1207]
حدیث حاشیہ:
(1)
ایک حدیث میں ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا:
جب تم میں سے کوئی نماز ادا کر رہا ہو تو سجدہ گاہ سے کنکریوں کو مت ہٹائے کیونکہ اس وقت رحمت الٰہی اس کے سامنے ہوتی ہے۔
(سنن أبي داود، الصلاة، حدیث: 945)
لیکن اگر کنکریاں تکلیف کا باعث ہوں تو ایک مرتبہ انہیں دور کر دیا جائے، بار بار اس عمل کو دہرانا صحیح نہیں۔
ایک روایت میں یہ الفاظ ہیں:
اگر کنکریاں ہٹانا ضروری ہو تو ایک مرتبہ ہٹا لو یا انہیں پڑا رہنے دو۔
(مسندأحمد: 163/5)
اگرچہ اس حدیث کو بعض معاصرین نے کمزور کہا ہے، تاہم یہ اس بنا پر قابل حجت ہے کہ مذکورہ صحیح بخاری کی حدیث سے اس کی تائید ہوتی ہے۔
حدیث میں بار بار کنکریوں کو ہٹانے سے اس لیے منع کیا گیا ہے کہ نماز کے وقت اللہ کی رحمت نمازی کے روبرو ہوتی ہے، اس لیے توجہ ہٹا کر کنکریوں کو بار بار ہموار کرنا گویا اللہ کی رحمت سے روگردانی کرنا ہے۔
(2)
عنوان میں کنکریوں کا ذکر ہے جبکہ حدیث میں تراب، یعنی مٹی کے الفاظ ہیں، چونکہ منیٰ میں عموماً کنکریاں ہوتی ہیں، اس لیے ظن غالب کی بنیاد پر اس حدیث سے عنوان ثابت ہوتا ہے۔
ممکن ہے کہ امام بخاری ؒ نے کنکریوں اور منیٰ دونوں کے لیے ایک حکم ہونے کی تنبیہ فرمائی ہو، نیز صحیح مسلم کی روایت میں کنکریوں کے الفاظ بھی ہیں۔
(صحیح مسلم، المساجد، حدیث: 1219(546)
[هداية القاري شرح صحيح بخاري، اردو، حدیث/صفحہ نمبر: 1207]