🏠 👥 🔍 🧩 🅰️ 📌 ↩️

الحمدللہ ! رمضان المبارک کے بابرکت مہینے میں حدیث 365 ایپ ریلیز کر دی گئی ہے۔
ان شاءاللہ اگلی کتاب مستدرک حاکم پیش کی جا رہی ہے
سنن ابن ماجه سے متعلقہ
تمام کتب
ترقیم شاملہ
عربی
اردو
حدیث کتب میں نمبر سے حدیث تلاش کریں:

سنن ابن ماجہ میں ترقیم شاملہ سے تلاش کل احادیث (4341)
حدیث نمبر لکھیں:
حدیث میں عربی لفظ/الفاظ تلاش کریں
عربی لفظ / الفاظ لکھیں:
حدیث میں اردو لفظ/الفاظ تلاش کریں
اردو لفظ / الفاظ لکھیں:
191. . باب : ما جاء في ليلة النصف من شعبان
باب: نصف شعبان کی رات کا بیان۔
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 1388
حَدَّثَنَا الْحَسَنُ بْنُ عَلِيٍّ الْخَلَّالُ ، حَدَّثَنَا عَبْدُ الرَّزَّاقِ ، أَنْبَأَنَا ابْنُ أَبِي سَبْرَةَ ، عَنْ إِبْرَاهِيمَ بْنِ مُحَمَّدٍ ، عَنْ مُعَاوِيَةَ بْنِ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ جَعْفَرٍ ، عَنْ أَبِيهِ ، عَنْ عَلِيِّ بْنِ أَبِي طَالِبٍ ، قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ:" إِذَا كَانَتْ لَيْلَةُ النِّصْفِ مِنْ شَعْبَانَ، فَقُومُوا لَيْلَهَا، وَصُومُوا يَوْمَهَا، فَإِنَّ اللَّهَ يَنْزِلُ فِيهَا لِغُرُوبِ الشَّمْسِ إِلَى سَمَاءِ الدُّنْيَا، فَيَقُولُ:" أَلَا مِنْ مُسْتَغْفِرٍ لِي فَأَغْفِرَ لَهُ، أَلَا مُسْتَرْزِقٌ فَأَرْزُقَهُ، أَلَا مُبْتَلًى فَأُعَافِيَهُ"، أَلَا كَذَا أَلَا كَذَا حَتَّى يَطْلُعَ الْفَجْرُ.
علی رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: جب نصف شعبان کی رات آئے تو اس رات کو قیام کرو اور دن کو روزہ رکھو۔ اس رات اللہ تعالیٰ سورج کے غروب ہوتے ہی پہلے آسمان پر نزول فرما لیتا ہے اور صبح صادق طلوع ہونے تک کہتا رہتا ہے: کیا کوئی مجھ سے بخشش مانگنے والا ہے کہ میں اسے معاف کر دوں؟ کیا کوئی رزق طلب کرنے والا ہے کہ اسے رزق دوں؟ کیا کوئی (کسی بیماری یا مصیبت میں) مبتلا ہے کہ میں اسے عافیت عطا فرما دوں؟۔‏‏‏‏ [سنن ابن ماجه/كتاب إقامة الصلاة والسنة/حدیث: 1388]
تخریج الحدیث دارالدعوہ: «موضوع، ابن ماجہ (1388) العلل المتناہیۃ (2/ 71 ح 923)»
قال الشيخ الألباني: ضعيف جدا أو موضوع
قال الشيخ زبير على زئي:ضعيف
إسناده موضوع
أبو بكر ابن أبي سبرة: كان ’’يضع الحديث ‘‘ كما قال أحمد و ابن معين وغيرهما وقال ابن حجر: ’’رموه بالوضع وقال مصعب الزبيري: كان عالمًا ‘‘(تقريب: 7974): قلت:لم ينفعه علمه لأنه كان يكذب مع كونه عالمًا (!) وشيخه لا يعرف،ولعله إبراهيم بن محمد بن أبي يحيي: متروك (انظر التقريب: 241 وضعيف سنن أبي داود: 2131)
انوار الصحيفه، صفحه نمبر 426

الرواة الحديث:
اسم الشهرة
الرتبة عند ابن حجر/ذهبي
أحاديث
👤←👥علي بن أبي طالب الهاشمي، أبو الحسن، أبو الحسينصحابي
👤←👥عبد الله بن جعفر الهاشمي، أبو جعفر
Newعبد الله بن جعفر الهاشمي ← علي بن أبي طالب الهاشمي
صحابي
👤←👥معاوية بن عبد الله القرشي
Newمعاوية بن عبد الله القرشي ← عبد الله بن جعفر الهاشمي
ثقة
👤←👥إبراهيم بن محمد الهاشمي
Newإبراهيم بن محمد الهاشمي ← معاوية بن عبد الله القرشي
صدوق حسن الحديث
👤←👥أبو بكر بن أبي سبرة القرشي، أبو بكر
Newأبو بكر بن أبي سبرة القرشي ← إبراهيم بن محمد الهاشمي
متهم بالوضع
👤←👥عبد الرزاق بن همام الحميري، أبو بكر
Newعبد الرزاق بن همام الحميري ← أبو بكر بن أبي سبرة القرشي
ثقة حافظ
👤←👥الحسن بن علي الهذلي، أبو علي، أبو محمد
Newالحسن بن علي الهذلي ← عبد الرزاق بن همام الحميري
ثقة حافظ له تصانيف
تخريج الحديث:
کتاب
نمبر
مختصر عربی متن
سنن ابن ماجه
1388
ليلة النصف من شعبان فقوموا ليلها وصوموا يومها فإن الله ينزل فيها لغروب الشمس إلى سماء الدنيا فيقول ألا من مستغفر لي فأغفر له ألا مسترزق فأرزقه ألا مبتلى فأعافيه
سنن ابن ماجہ کی حدیث نمبر 1388 کے فوائد و مسائل
حافظ زبير على زئي رحمه الله، فوائد و مسائل،سنن ابن ماجہ1388
پندرہ شعبان کی رات اور مخصوص عبادت
9: حدیث علی رضی اللہ عنہ
اسے ابن ابی سبرہ نے «عن إبراهيم بن محمد عن معاوية بن عبد الله بن جعفر عن أبيه عن على بن أبى طالب رضي الله عنه» کی سند سے بیان کیا ہے۔
تخریج: ابن ماجہ (1388) العلل المتناہیۃ (2/ 71 ح 923)
اس میں ابوبکر بن ابی سبرۃ کذاب ہے۔ دیکھئے: [تقريب التهذيب 7973]
نتیجہ: یہ روایت موضوع ہے۔
تنبیہ: سیدنا علی رضی اللہ عنہ سے اس مفہوم کی دیگر موضوع روایات بھی مروی ہیں۔ دیکھئے: [الموضوعا ت لابن الجوزي 2/ 127 ميزان الاعتدال 3/ 120 واللآلي المصنوعة 2/ 60]
مفصل مضمون سلسلہ احادیث صحیحہ حدیث نمبر 1144 ترقیم البانی پر موجود ہے۔
اصل مضمون کے لئے دیکھئے تحقیقی و علمی مقالات للشیخ حافظ زبیر علی زئی رحمہ اللہ (جلد 1 صفحہ 291 تا 304)
[تحقیقی و علمی مقالات للشیخ زبیر علی زئی، حدیث/صفحہ نمبر: 291]

مولانا عطا الله ساجد حفظ الله، فوائد و مسائل، سنن ابن ماجه، تحت الحديث1388
اردو حاشہ:
فائدہ:
  یہ روایت سخت ضعیف ہی نہیں بلکہ موضوع (من گھڑت)
ہے اس لئے پندرہ شعبان کے روزے کی کوئی اصل نہیں۔
اس طرح اس رات میں خاص طور پر اللہ تعالیٰ کے آسمان دنیا پر نزول کا مسئلہ ہے جیسا کہ اس ر وایت میں اور اگلی روایت میں ہے۔
وہ بھی صحیح نہیں۔
البتہ صحیح روایات سے یہ ثابت ہے کہ اللہ تبارک وتعالیٰ ہر رات کو پہلے آسمان پر نزول فرماتا ہے۔
اس نزول کی کیفیت کیا ہے۔
؟ اسے ہم جان سکتے ہیں نہ بیان کرسکتے ہیں۔
تاہم اس صفت نزول پر ایمان رکھنا ضروری ہے۔
[سنن ابن ماجہ شرح از مولانا عطا الله ساجد، حدیث/صفحہ نمبر: 1388]