یہ تکبیرات کے دن ہیں ، تکبیرات سنئیے۔
علماء کرام کے آڈیو، ویڈیو دروس ، خطبات، دورہ قرآن، تعلیم القرآن اگر آپ ٹیکسٹ کی صورت میں ٹائپ کروانا چاہتے ہوں تو رابطہ کریں۔
+92-331-5902482
سنن ابن ماجه سے متعلقہ
تمام کتب
ترقیم شاملہ
عربی
اردو
10. باب : ما جاء في غسل النبي صلى الله عليه وسلم
باب: نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کے غسل کی کیفیت کا بیان۔
حدیث نمبر: 1468
حَدَّثَنَا عَبَّادُ بْنُ يَعْقُوبَ ، حَدَّثَنَا الْحُسَيْنُ بْنُ زَيْدِ بْنِ عَلِيِّ بْنِ الْحُسَيْنِ بْنِ عَلِيٍّ ، عَنْ إِسْمَاعِيل بْنِ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ جَعْفَرٍ ، عَنْ أَبِيهِ ، عَنْ عَلِيٍّ ، قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ:" إِذَا أَنَا مُتُّ فَاغْسِلْنِي بِسَبْعِ قِرَبٍ مِنْ بِئْرِي بِئْرِ غَرْسٍ".
علی رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”جب میں انتقال کر جاؤں تو مجھے میرے کنویں (بئر غرس) کے سات مشکیزوں سے غسل دینا“۔ [سنن ابن ماجه/كتاب الجنائز/حدیث: 1468]
حضرت علی رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”جب میں فوت ہو جاؤں تو مجھے میرے کنویں «بِئْرِ غَرْسٍ» کے پانی کی سات مشکوں سے غسل دینا۔“ [سنن ابن ماجه/كتاب الجنائز/حدیث: 1468]
تخریج الحدیث دارالدعوہ: «تفرد بہ ابن ماجہ، (تحفة الأشراف: 10164، ومصباح الزجاجة: 523) (ضعیف)» (اس کی سند میں عباد بن یعقوب متروک ہے، ملاحظہ ہو: سلسلة الاحادیث الضعیفة، للالبانی: 1237)
قال الشيخ الألباني: ضعيف
قال الشيخ زبير على زئي:إسناده حسن
عباد بن يعقوب الرواجني الاسدي: ثقة صدوق عند الجمهور، فھو حسن الحديث
عباد بن يعقوب الرواجني الاسدي: ثقة صدوق عند الجمهور، فھو حسن الحديث
الرواة الحديث:
تخريج الحديث:
کتاب | نمبر | مختصر عربی متن |
|---|---|---|
سنن ابن ماجه |
1468
| إذا أنا مت فاغسلني بسبع قرب من بئري بئر غرس |
سنن ابن ماجہ کی حدیث نمبر 1468 کے فوائد و مسائل
مولانا عطا الله ساجد حفظ الله، فوائد و مسائل، سنن ابن ماجه، تحت الحديث1468
اردو حاشہ:
فوائد و مسائل:
(1)
بئر غرس مدینہ میں اس طرف ایک کنواں تھا جہاں قبیلہ بنو نضیر کی رہائش ہوا کرتی تھی۔
یہ کنواں اپنے پانی کی عمدگی کی وجہ سے مشہور تھا۔ (معجم البلدان: 193/4)
۔
(2)
مذکورہ روایت محققین کے نذدیک ضعیف ہے۔
فوائد و مسائل:
(1)
بئر غرس مدینہ میں اس طرف ایک کنواں تھا جہاں قبیلہ بنو نضیر کی رہائش ہوا کرتی تھی۔
یہ کنواں اپنے پانی کی عمدگی کی وجہ سے مشہور تھا۔ (معجم البلدان: 193/4)
۔
(2)
مذکورہ روایت محققین کے نذدیک ضعیف ہے۔
[سنن ابن ماجہ شرح از مولانا عطا الله ساجد، حدیث/صفحہ نمبر: 1468]
Sunan Ibn Majah Hadith 1468 in Urdu
عبد الله بن جعفر الهاشمي ← علي بن أبي طالب الهاشمي