🏠 👥 🔍 🧩 🅰️ 📌 ↩️

سنن ابن ماجه سے متعلقہ
تمام کتب
ترقیم شاملہ
عربی
اردو
حدیث کتب میں نمبر سے حدیث تلاش کریں:

سنن ابن ماجہ میں ترقیم شاملہ سے تلاش کل احادیث (4341)
حدیث نمبر لکھیں:
حدیث میں عربی لفظ/الفاظ تلاش کریں
عربی لفظ / الفاظ لکھیں:
حدیث میں اردو لفظ/الفاظ تلاش کریں
اردو لفظ / الفاظ لکھیں:
31. باب : فضل أهل بدر
باب: اہل بدر کے مناقب و فضائل۔
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 160
حَدَّثَنَا عَلِيُّ بْنُ مُحَمَّدٍ ، وَأَبُو كُرَيْبٍ ، قَالَا: حَدَّثَنَا وَكِيعٌ ، حَدَّثَنَا سُفْيَانُ ، عَنْ يَحْيَى بْنِ سَعِيدٍ ، عَنْ عَبَايَةَ بْنِ رِفَاعَةَ ، عَنْ جَدِّهِ رَافِعِ بْنِ خَدِيجٍ ، قَالَ: جَاءَ جِبْرِيلُ أَوْ مَلَكٌ إِلَى النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فَقَالَ:" مَا تَعُدُّونَ مَنْ شَهِدَ بَدْرًا فِيكُمْ"، قَالُوا: خِيَارَنَا، قَالَ:" كَذَلِكَ هُمْ عِنْدَنَا خِيَارُ الْمَلَائِكَةِ".
رافع بن خدیج رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ جبرائیل علیہ السلام یا کوئی اور فرشتہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس آیا، اور عرض کیا: آپ اپنے میں شرکائے بدر کو کیسا سمجھتے ہیں؟ لوگوں نے کہا: وہ ہم میں سب سے بہتر ہیں، اس فرشتہ نے کہا: اسی طرح ہمارے نزدیک وہ (شرکائے بدر) سب سے بہتر ہیں ۱؎۔ [سنن ابن ماجه/باب فى فضائل اصحاب رسول الله صلى الله عليه وسلم/حدیث: 160]
حضرت رافع بن خدیج رضی اللہ عنہ سے روایت ہے، انہوں نے فرمایا: حضرت جبریل علیہ السلام، یا فرمایا: ایک فرشتہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم کی خدمت میں حاضر ہوا اور کہا: تم میں سے جو لوگ جنگ بدر میں شریک ہوئے، تم لوگ انہیں کیا مقام دیتے ہو؟ انہوں نے کہا: ہم انہیں اپنے میں افضل شمار کرتے ہیں۔ فرشتے نے کہا: اسی طرح ہماری نظر میں وہ (فرشتے جو جنگ بدر میں شریک ہوئے دوسرے) فرشتوں میں افضل ہیں۔ [سنن ابن ماجه/باب فى فضائل اصحاب رسول الله صلى الله عليه وسلم/حدیث: 160]
تخریج الحدیث دارالدعوہ: «تفرد بہ ابن ماجہ، (تحفة الأشراف: 3565، ومصباح الزجاجة: 60)، وقد أخرجہ: مسند احمد (3/465) (صحیح)» ‏‏‏‏ (اس حدیث کو امام بخاری نے (7/311) بطریق «یحییٰ بن سعید عن معاذ بن رفاعہ عن أبیہ» ذکر کیا ہے، یہ نقل کرنے کے بعد بوصیری کہتے ہیں کہ اگر یہ یعنی سند ابن ماجہ محفوظ ہے تو یہ جائز ہے کہ یحییٰ بن سعید کے اس حدیث میں دو شیخ ہیں، اور سب ثقہ ہیں)
وضاحت: ۱؎: اس حدیث سے غزوہ بدر کی بڑی فضیلت ثابت ہوتی ہے، اس لئے کہ شرکاء بدر انسان ہی نہیں بلکہ فرشتوں میں بھی سب سے افضل اور بہتر لوگ ہیں۔
قال الشيخ الألباني: صحيح
قال الشيخ زبير على زئي:صحيح
 
الرواة الحديث:
اسم الشهرة
الرتبة عند ابن حجر/ذهبي
أحاديث
👤←👥رافع بن خديج الأنصاري، أبو رافع، أبو خديج، أبو عبد اللهصحابي
👤←👥عباية بن رفاعة الزرقي، أبو رفاعة
Newعباية بن رفاعة الزرقي ← رافع بن خديج الأنصاري
ثقة
👤←👥يحيى بن سعيد الأنصاري، أبو سعيد
Newيحيى بن سعيد الأنصاري ← عباية بن رفاعة الزرقي
ثقة ثبت
👤←👥سفيان الثوري، أبو عبد الله
Newسفيان الثوري ← يحيى بن سعيد الأنصاري
ثقة حافظ فقيه إمام حجة وربما دلس
👤←👥وكيع بن الجراح الرؤاسي، أبو سفيان
Newوكيع بن الجراح الرؤاسي ← سفيان الثوري
ثقة حافظ إمام
👤←👥محمد بن العلاء الهمداني، أبو كريب
Newمحمد بن العلاء الهمداني ← وكيع بن الجراح الرؤاسي
ثقة حافظ
👤←👥علي بن محمد الكوفي، أبو الحسن
Newعلي بن محمد الكوفي ← محمد بن العلاء الهمداني
ثقة
تخريج الحديث:
کتاب
نمبر
مختصر عربی متن
سنن ابن ماجه
160
ما تعدون من شهد بدرا فيكم قالوا خيارنا قال كذلك هم عندنا خيار الملائكة
سنن ابن ماجہ کی حدیث نمبر 160 کے فوائد و مسائل
مولانا عطا الله ساجد حفظ الله، فوائد و مسائل، سنن ابن ماجه، تحت الحديث160
اردو حاشہ:
(1)
ظاہر الفاظ سے معلوم ہوتا ہے کہ فرشتے نے انسانی صورت میں ظاہر ہو کر صحابہ کرام رضی اللہ عنھم سے بات چیت کی۔
سابقہ امتوں میں بھی فرشتوں کے بعض انسانوں کے سامنے ظاہر ہو کر ان کے ساتھ بات چیت کرنے کے واقعات ہوئے ہیں جس طرح حضرت مریم علیہا السلام اور فرشتے کی بات چیت ہوئی تھی۔
یہ بھی ممکن ہے کہ فرشتے نے نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کے واسطے سے صحابہ کرام رضی اللہ عنھم سے بات کی ہو، جس طرح حضرت جبریل علیہ السلام نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے ذریعے سے حضرت عائشہ رضی اللہ عنہا کو سلام پہنچایا تھا۔

(2)
اس حدیث سے بدر میں شریک ہونے والے تمام صحابہ کرام رضی اللہ عنھم کی فضیلت ثابت ہوتی ہے۔
بدری صحابہ کی تعداد مشہور روایت کے مطابق تین سو تیرہ ہے جبکہ دوسرے اقوال کے مطابق ان کی تعداد تین سو چودہ یا تین سو سترہ ہے۔ (دیکھیے: فتح الباری، 7/364، حدیث: 3956)

(3)
فرشتوں کا نزول جنگ بدر کے علاوہ دوسرے موقعوں پر بھی ہوا لیکن جو فرشتے اس موقع پر حاضر تھے، وہ دوسروں سے افضل ہیں۔

(4)
جہاد کی بہت فضیلت ہے کہ اس سے انسان تو کیا فرشتوں کو بھی شرف حاصل ہو جاتا ہے۔
[سنن ابن ماجہ شرح از مولانا عطا الله ساجد، حدیث/صفحہ نمبر: 160]

Sunan Ibn Majah Hadith 160 in Urdu