🏠 👥 🔍 🧩 🅰️ 📌 ↩️

سنن ابن ماجه سے متعلقہ
تمام کتب
ترقیم شاملہ
عربی
اردو
حدیث کتب میں نمبر سے حدیث تلاش کریں:

سنن ابن ماجہ میں ترقیم شاملہ سے تلاش کل احادیث (4341)
حدیث نمبر لکھیں:
حدیث میں عربی لفظ/الفاظ تلاش کریں
عربی لفظ / الفاظ لکھیں:
حدیث میں اردو لفظ/الفاظ تلاش کریں
اردو لفظ / الفاظ لکھیں:
64. باب : ما جاء في ذكر مرض رسول الله صلى الله عليه وسلم
باب: رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی بیماری کا بیان۔
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 1622
حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ نُمَيْرٍ ، حَدَّثَنَا مُصْعَبُ بْنُ الْمِقْدَامِ ، حَدَّثَنَا سُفْيَانُ ، عَنِ الْأَعْمَشِ ، عَنْ شَقِيقٍ ، عَنْ مَسْرُوقٍ ، قَالَ: قَالَتْ عَائِشَةُ :" مَا رَأَيْتُ أَحَدًا أَشَدَّ عَلَيْهِ الْوَجَعُ مِنْ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ".
ام المؤمنین عائشہ رضی اللہ عنہا کہتی ہیں کہ میں نے کسی پر مرض الموت کی تکلیف اتنی سخت نہیں دیکھی جتنی کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم پر دیکھی ۱؎۔ [سنن ابن ماجه/كتاب الجنائز/حدیث: 1622]
تخریج الحدیث دارالدعوہ: «‏‏‏‏صحیح البخاری/المرضی 2 (5646)، صحیح مسلم/البروالصلة 14 (2570)، (تحفة الأشراف: 17609)، وقد أخرجہ: سنن الترمذی/الزہد 56 (2397)، وقد أخرجہ: مسند احمد (6/181) (صحیح)» ‏‏‏‏
وضاحت: ۱؎: اس سے معلوم ہوا کہ سکرات کی شدت اور موت کی سختی بری چیز نہیں ہے، بلکہ اس سے درجے بلند ہوتے ہیں۔
قال الشيخ الألباني: صحيح
قال الشيخ زبير على زئي:بخاري ومسلم

الرواة الحديث:
اسم الشهرة
الرتبة عند ابن حجر/ذهبي
أحاديث
👤←👥عائشة بنت أبي بكر الصديق، أم عبد اللهصحابي
👤←👥مسروق بن الأجدع الهمداني، أبو عائشة
Newمسروق بن الأجدع الهمداني ← عائشة بنت أبي بكر الصديق
ثقة
👤←👥شقيق بن سلمة الأسدي، أبو وائل
Newشقيق بن سلمة الأسدي ← مسروق بن الأجدع الهمداني
مخضرم
👤←👥سليمان بن مهران الأعمش، أبو محمد
Newسليمان بن مهران الأعمش ← شقيق بن سلمة الأسدي
ثقة حافظ
👤←👥سفيان الثوري، أبو عبد الله
Newسفيان الثوري ← سليمان بن مهران الأعمش
ثقة حافظ فقيه إمام حجة وربما دلس
👤←👥مصعب بن المقدام الخثعمي، أبو عبد الله
Newمصعب بن المقدام الخثعمي ← سفيان الثوري
صدوق حسن الحديث
👤←👥محمد بن نمير الهمداني، أبو عبد الرحمن
Newمحمد بن نمير الهمداني ← مصعب بن المقدام الخثعمي
ثقة حافظ
تخريج الحديث:
کتاب
نمبر
مختصر عربی متن
صحيح البخاري
5646
ما رأيت أحدا أشد عليه الوجع من رسول الله
صحيح مسلم
6557
ما رأيت رجلا أشد عليه الوجع من رسول الله
جامع الترمذي
2397
ما رأيت الوجع على أحد أشد منه على رسول الله
سنن ابن ماجه
1622
ما رأيت أحدا أشد عليه الوجع من رسول الله
سنن ابن ماجہ کی حدیث نمبر 1622 کے فوائد و مسائل
مولانا عطا الله ساجد حفظ الله، فوائد و مسائل، سنن ابن ماجه، تحت الحديث1622
اردو حاشہ:
فائده:
جان نکلنے کی سختی یا نرمی اور چیز ہے۔
اور بیماری کی وجہ سے جسم کا تکلیف محسوس کرنا اور چیز ہے۔
بعض اوقات مرض کی شدت کی وجہ سے وفات تک تکلیف رہتی ہے۔
یہ جسمانی تکلیف ہے۔
جس کا انسان کے نیک یا بد ہونے سے کوئی تعلق نہیں۔
جان نکلتے وقت فرشتوں کی سختی کی وجہ سے حاصل ہونے والی تکلیف کا تعلق روح سے ہے۔
اسے قریب بیٹھے ہوئے لوگ بھی محسوس نہیں کرسکتے البتہ یہ تکلیف نیک لوگوں کو نہیں ہوتی۔
گناہ گاروں اور کافروں کو ان کے جرائم کے مطابق کم یا زیادہ ہوتی ہے۔
[سنن ابن ماجہ شرح از مولانا عطا الله ساجد، حدیث/صفحہ نمبر: 1622]

تخریج الحدیث کے تحت دیگر کتب سے حدیث کے فوائد و مسائل
الشیخ ڈاکٹر عبد الرحمٰن فریوائی حفظ اللہ، فوائد و مسائل، سنن ترمذی، تحت الحديث 2397
مصیبت میں صبر کرنے کا بیان۔
ابووائل شقیق بن سلمہ کہتے ہیں کہ ام المؤمنین عائشہ رضی الله عنہا نے کہا: میں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے درد سے زیادہ درد کسی شخص کا نہیں دیکھا ۱؎۔ [سنن ترمذي/كتاب الزهد/حدیث: 2397]
اردو حاشہ:
وضاحت:
1؎:
اس سے اس تکلیف کی طرف اشارہ ہے جس سے مرض الموت میں آپ صلی اللہ علیہ وسلم دو چار ہوئے تھے۔
[سنن ترمذي مجلس علمي دار الدعوة، نئى دهلى، حدیث/صفحہ نمبر: 2397]

مولانا داود راز رحمه الله، فوائد و مسائل، تحت الحديث صحيح بخاري: 5646
5646. ام المومنین سیدہ عائشہ‬ ؓ س‬ے روایت ہے انہوں نے کہا کہ میں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے زیادہ کسی کو سخت بیماری میں مبتلا نہیں دیکھا۔ [صحيح بخاري، حديث نمبر:5646]
حدیث حاشیہ:
آپ کو اس قدر شدید بخار تھا کہ چادر مبارک بھی بہت سخت گرم ہو گئی تھی، بار بار غشی طاری ہوتی اور آپ بے ہوش ہو کر ہوش میں ہو جاتے پھر غشی طاری ہو جاتی اور وقت ہوش زبان مبارک سے یہ الفاظ نکلتے (اللھم ألحقني بالرفیق الأعلیٰ صلی اللہ علیه وسلم۔
)
[صحیح بخاری شرح از مولانا داود راز، حدیث/صفحہ نمبر: 5646]

الشيخ حافط عبدالستار الحماد حفظ الله، فوائد و مسائل، تحت الحديث صحيح بخاري:5646
5646. ام المومنین سیدہ عائشہ‬ ؓ س‬ے روایت ہے انہوں نے کہا کہ میں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے زیادہ کسی کو سخت بیماری میں مبتلا نہیں دیکھا۔ [صحيح بخاري، حديث نمبر:5646]
حدیث حاشیہ:
(1)
حضرت عائشہ رضی اللہ عنہا مرض وفات کی حالت بیان کرتی ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم پر غشی طاری ہوتی، پھر ہوش میں آتے، پانی سے کپڑا تر کر کے ہونٹوں پر لگاتے اور کہتے:
موت کی بہت سختیاں ہیں۔
(2)
اللہ تعالیٰ ان حضرات کو سخت تکلیفوں میں مبتلا کرتا ہے جن میں قوتِ یقین، کمالِ صبر اور ایمان کی بہت مضبوطی ہوتی ہے۔
وہ بیماری کو حصول ثواب اور بلندئ درجات کا ذریعہ خیال کرتے ہیں، اس لیے جس قدر بیماری سخت ہو گی اسی قدر ثواب زیادہ ہو گا۔
واللہ المستعان
[هداية القاري شرح صحيح بخاري، اردو، حدیث/صفحہ نمبر: 5646]