سنن ابن ماجه سے متعلقہ
تمام کتب
ترقیم شاملہ
عربی
اردو
64. بَابُ : مَا جَاءَ فِي ذِكْرِ مَرَضِ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ
باب: رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی بیماری کا بیان۔
حدیث نمبر: 1623
حَدَّثَنَا أَبُو بَكْرِ بْنُ أَبِي شَيْبَةَ ، حَدَّثَنَا يُونُسُ بْنُ مُحَمَّدٍ ، حَدَّثَنَا لَيْثُ بْنُ سَعْدٍ ، عَنْ يَزِيدَ بْنِ أَبِي حَبِيبٍ ، عَنْ مُوسَى بْنِ سَرْجِسَ ، عَنِ الْقَاسِمِ بْنِ مُحَمَّدٍ ، عَنْ عَائِشَةَ ، قَالَتْ: رَأَيْتُ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ وَهُوَ يَمُوتُ وَعِنْدَهُ قَدَحٌ فِيهِ مَاءٌ، فَيُدْخِلُ يَدَهُ فِي الْقَدَحِ، ثُمَّ يَمْسَحُ وَجْهَهُ بِالْمَاءِ، ثُمَّ يَقُولُ:" اللَّهُمَّ أَعِنِّي عَلَى سَكَرَاتِ الْمَوْتِ".
ام المؤمنین عائشہ رضی اللہ عنہا کہتی ہیں کہ میں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کو موت کے وقت دیکھا، آپ صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس پانی کا ایک پیالہ تھا، آپ اپنا ہاتھ پیالہ میں داخل کرتے، اور پانی اپنے منہ پر ملتے، پھر فرماتے: ”اے اللہ! موت کی سختیوں میں میری مدد فرما“۔ [سنن ابن ماجه/كتاب الجنائز/حدیث: 1623]
حضرت عائشہ رضی اللہ عنہا سے روایت ہے، انہوں نے فرمایا: ”میں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کو دیکھا، جبکہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم کا آخری وقت تھا، آپ صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس پانی کا ایک پیالہ تھا، نبی صلی اللہ علیہ وسلم پیالے میں ہاتھ ڈالتے، پھر پانی (والا ہاتھ) چہرے پر پھیر لیتے پھر فرماتے: «اللَّهُمَّ أَعِنِّي عَلَى غَمَرَاتِ الْمَوْتِ أَوْ سَكَرَاتِ الْمَوْتِ» ”اے اللہ! موت کی سختیوں پر میری مدد فرما۔““ [سنن ابن ماجه/كتاب الجنائز/حدیث: 1623]
تخریج الحدیث دارالدعوہ: «سنن الترمذی/الجنائز 8 (978)، (تحفة الأشراف: 17556)، وقد أخرجہ: مسند احمد (6/64، 70، 77، 151) (ضعیف)» (سند میں موسی بن سرجس مستور ہیں)
قال الشيخ الألباني: ضعيف
قال الشيخ زبير على زئي:إسناده حسن
الرواة الحديث:
اسم الشهرة | الرتبة عند ابن حجر/ذهبي | أحاديث |
|---|---|---|
| 👤←👥عائشة بنت أبي بكر الصديق، أم عبد الله | صحابي | |
👤←👥القاسم بن محمد التيمي، أبو محمد، أبو عبد الرحمن القاسم بن محمد التيمي ← عائشة بنت أبي بكر الصديق | ثقة أفضل أهل زمانه | |
👤←👥موسى بن سرجس الحجازي موسى بن سرجس الحجازي ← القاسم بن محمد التيمي | مقبول | |
👤←👥يزيد بن قيس الأزدي، أبو رجاء يزيد بن قيس الأزدي ← موسى بن سرجس الحجازي | ثقة فقيه وكان يرسل | |
👤←👥الليث بن سعد الفهمي، أبو الحارث الليث بن سعد الفهمي ← يزيد بن قيس الأزدي | ثقة ثبت فقيه إمام مشهور | |
👤←👥يونس بن محمد المؤدب، أبو محمد يونس بن محمد المؤدب ← الليث بن سعد الفهمي | ثقة ثبت | |
👤←👥ابن أبي شيبة العبسي، أبو بكر ابن أبي شيبة العبسي ← يونس بن محمد المؤدب | ثقة حافظ صاحب تصانيف |
تخريج الحديث:
کتاب | نمبر | مختصر عربی متن |
|---|---|---|
جامع الترمذي |
978
| اللهم أعني على غمرات الموت وسكرات الموت |
سنن ابن ماجه |
1623
| اللهم أعني على سكرات الموت |
سنن ابن ماجہ کی حدیث نمبر 1623 کے فوائد و مسائل
مولانا عطا الله ساجد حفظ الله، فوائد و مسائل، سنن ابن ماجه، تحت الحديث1623
اردو حاشہ:
فائدہ:
یہی واقعہ صحیح بخاری میں بھی ہے۔
اس میں یہ الفاظ ہیں۔ (لَاإِلٰهَ إِلاَّ اللهَ إِنَّ لَلْمَوْتِ سَكَرَاتٍ)
”اللہ کے سوا کوئی معبود نہیں یقیناً موت کی سختیاں ہوتی ہیں۔“ (صحیح البخاري، المغازي، باب مرض النبي صلی اللہ علیہ وسلم ووفاته، حدیث: 4449)
(2)
رسول ا للہ صلی اللہ علیہ وسلم نے زندگی کے آخری وقت میں چہرے پر پانی والا ہاتھ پھیرا اس کی وجہ غالباً یہ ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کو آخری ایام میں سخت بخارتھا۔
اس لئے وفات سے چار دن پہلے (جمعرات اور جمعے کی درمیانی رات)
عشاء کے وقت نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے غسل فرمایا تھا تاکہ بخار کی شدت کم ہوتو نماز باجماعت ادا فرمایئں لیکن ضعف کی شدت کی وجہ سے مسجد میں تشریف نہ لے جا سکے۔
(3)
نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے آخری وقت میں بھی اللہ کی طرف توجہ فرمائی اور اسی کا ذکر فرمایا اس لئے مسلمان کو چاہیے کہ سخت سے سخت حالات میں بھی اللہ تعالیٰ ہی کی طرف توجہ کرے۔
فائدہ:
یہی واقعہ صحیح بخاری میں بھی ہے۔
اس میں یہ الفاظ ہیں۔ (لَاإِلٰهَ إِلاَّ اللهَ إِنَّ لَلْمَوْتِ سَكَرَاتٍ)
”اللہ کے سوا کوئی معبود نہیں یقیناً موت کی سختیاں ہوتی ہیں۔“ (صحیح البخاري، المغازي، باب مرض النبي صلی اللہ علیہ وسلم ووفاته، حدیث: 4449)
(2)
رسول ا للہ صلی اللہ علیہ وسلم نے زندگی کے آخری وقت میں چہرے پر پانی والا ہاتھ پھیرا اس کی وجہ غالباً یہ ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کو آخری ایام میں سخت بخارتھا۔
اس لئے وفات سے چار دن پہلے (جمعرات اور جمعے کی درمیانی رات)
عشاء کے وقت نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے غسل فرمایا تھا تاکہ بخار کی شدت کم ہوتو نماز باجماعت ادا فرمایئں لیکن ضعف کی شدت کی وجہ سے مسجد میں تشریف نہ لے جا سکے۔
(3)
نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے آخری وقت میں بھی اللہ کی طرف توجہ فرمائی اور اسی کا ذکر فرمایا اس لئے مسلمان کو چاہیے کہ سخت سے سخت حالات میں بھی اللہ تعالیٰ ہی کی طرف توجہ کرے۔
[سنن ابن ماجہ شرح از مولانا عطا الله ساجد، حدیث/صفحہ نمبر: 1623]
تخریج الحدیث کے تحت دیگر کتب سے حدیث کے فوائد و مسائل
الشیخ ڈاکٹر عبد الرحمٰن فریوائی حفظ اللہ، فوائد و مسائل، سنن ترمذی، تحت الحديث 978
موت کے وقت کی سختی کا بیان۔
ام المؤمنین عائشہ رضی الله عنہا کہتی ہیں کہ میں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کو دیکھا کہ آپ سکرات کے عالم میں تھے، آپ کے پاس ایک پیالہ تھا، جس میں پانی تھا، آپ پیالے میں اپنا ہاتھ ڈالتے پھر اپنے چہرے پر ملتے اور فرماتے: «اللهم أعني على غمرات الموت أو سكرات الموت» ”اے اللہ! سکرات الموت میں میری مدد فرما۔“ [سنن ترمذي/كتاب الجنائز/حدیث: 978]
ام المؤمنین عائشہ رضی الله عنہا کہتی ہیں کہ میں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کو دیکھا کہ آپ سکرات کے عالم میں تھے، آپ کے پاس ایک پیالہ تھا، جس میں پانی تھا، آپ پیالے میں اپنا ہاتھ ڈالتے پھر اپنے چہرے پر ملتے اور فرماتے: «اللهم أعني على غمرات الموت أو سكرات الموت» ”اے اللہ! سکرات الموت میں میری مدد فرما۔“ [سنن ترمذي/كتاب الجنائز/حدیث: 978]
اردو حاشہ:
نوٹ:
(سند میں موسیٰ بن سرجس مجہول الحال راوی ہیں)
نوٹ:
(سند میں موسیٰ بن سرجس مجہول الحال راوی ہیں)
[سنن ترمذي مجلس علمي دار الدعوة، نئى دهلى، حدیث/صفحہ نمبر: 978]
Sunan Ibn Majah Hadith 1623 in Urdu
القاسم بن محمد التيمي ← عائشة بنت أبي بكر الصديق