یہ تکبیرات کے دن ہیں ، تکبیرات سنئیے۔
علماء کرام کے آڈیو، ویڈیو دروس ، خطبات، دورہ قرآن، تعلیم القرآن اگر آپ ٹیکسٹ کی صورت میں ٹائپ کروانا چاہتے ہوں تو رابطہ کریں۔
+92-331-5902482
سنن ابن ماجه سے متعلقہ
تمام کتب
ترقیم شاملہ
عربی
اردو
9. باب : النظر إلى المرأة إذا أراد أن يتزوجها
باب: جس عورت سے شادی کرنی ہو اس کو دیکھنے کا بیان۔
حدیث نمبر: 1865
حَدَّثَنَا الْحَسَنُ بْنُ عَلِيٍّ الْخَلَّالُ ، وَزُهَيْرُ بْنُ مُحَمَّدٍ ، وَمُحَمَّدُ بْنُ عَبْدِ الْمَلِكِ ، قَالُوا: حَدَّثَنَا عَبْدُ الرَّزَّاقِ ، عَنْ مَعْمَرٍ ، عَنْ ثابِتٍ ، عَنْ أَنَسِ بْنِ مَالِكٍ ، أَنَّ الْمُغِيرَةَ بْنَ شُعْبَةَ، أَرَادَ أَنْ يَتَزَوَّجَ امْرَأَةً، فَقَالَ لَهُ النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ:" اذْهَبْ فَانْظُرْ إِلَيْهَا، فَإِنَّهُ أَحْرَى أَنْ يُؤْدَمَ بَيْنَكُمَا" فَفَعَلَ، فَتَزَوَّجَهَا، فَذَكَرَ مِنْ مُوَافَقَتِهَا.
انس بن مالک رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ مغیرہ بن شعبہ رضی اللہ عنہ نے ایک عورت سے نکاح کرنا چاہا، تو نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے ان سے فرمایا: ”جاؤ اور اس کو دیکھ لو ایسا کرنے سے زیادہ امید ہے کہ تم دونوں کے درمیان الفت و محبت ہو“، مغیرہ رضی اللہ عنہ نے ایسا ہی کیا، اور پھر شادی کی، پھر انہوں نے اس سے اپنی باہمی موافقت اور ہم آہنگی کا ذکر کیا۔ [سنن ابن ماجه/كتاب النكاح/حدیث: 1865]
حضرت انس بن مالک رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ حضرت مغیرہ بن شعبہ رضی اللہ عنہ نے ایک خاتون سے نکاح کرنے کا ارادہ کیا تو نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے ان سے فرمایا: ”جا کر اسے دیکھ لو، امید ہے کہ تم دونوں میں موافقت پیدا ہو جائے گی۔“ انہوں نے ایسے ہی کیا، پھر اس سے شادی کر لی۔ اس کے بعد انہوں نے اس سے موافقت کا ذکر فرمایا۔ [سنن ابن ماجه/كتاب النكاح/حدیث: 1865]
تخریج الحدیث دارالدعوہ: «تفرد بہ ابن ماجہ، (تحفة الأشراف: 490، ومصباح الزجاجة: 665)، وقد أخرجہ: سنن الترمذی/النکاح 5 (1087)، سنن النسائی/النکاح 17 (3237)، مسند احمد (4/245، 246)، سنن الدارمی/النکاح 5 (2218) (صحیح)»
قال الشيخ الألباني: صحيح
قال الشيخ زبير على زئي:إسناده صحيح
حَدَّثَنِي
حَدَّثَنِي
الرواة الحديث:
تخريج الحديث:
کتاب | نمبر | مختصر عربی متن |
|---|---|---|
سنن ابن ماجه |
1865
| انظر إليها فإنه أحرى أن يؤدم بينكما |
سنن ابن ماجہ کی حدیث نمبر 1865 کے فوائد و مسائل
مولانا عطا الله ساجد حفظ الله، فوائد و مسائل، سنن ابن ماجه، تحت الحديث1865
اردو حاشہ:
فوائد ومسائل:
(1)
رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے ارشاد پر عمل کرنے میں بڑی برکت ہے۔
نکاح سے پہلے جائز حدود میں رہتے ہوئے ایک دوسرے کو دیکھ لینے سے ایک دوسرے کی طرف میلان ہو جاتا ہے جس کے نتیجے میں نکاح کے بعد باہم ہم آہنگی پیدا ہو جاتی ہے۔
جواز صرف ایک نظر دیکھ لینے کا ہے۔
تنہائی میں ایک دوسرے سے ملاقات کرنا اور طویل بات چیت یا اکٹھے سیر کو جانا وغیرہ یہ سب کام دین کے صریح خلاف ہیں۔
اس حدیث سے ایسے کاموں کا جواز نہیں نکلتا۔
فوائد ومسائل:
(1)
رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے ارشاد پر عمل کرنے میں بڑی برکت ہے۔
نکاح سے پہلے جائز حدود میں رہتے ہوئے ایک دوسرے کو دیکھ لینے سے ایک دوسرے کی طرف میلان ہو جاتا ہے جس کے نتیجے میں نکاح کے بعد باہم ہم آہنگی پیدا ہو جاتی ہے۔
جواز صرف ایک نظر دیکھ لینے کا ہے۔
تنہائی میں ایک دوسرے سے ملاقات کرنا اور طویل بات چیت یا اکٹھے سیر کو جانا وغیرہ یہ سب کام دین کے صریح خلاف ہیں۔
اس حدیث سے ایسے کاموں کا جواز نہیں نکلتا۔
[سنن ابن ماجہ شرح از مولانا عطا الله ساجد، حدیث/صفحہ نمبر: 1865]
Sunan Ibn Majah Hadith 1865 in Urdu
ثابت بن أسلم البناني ← أنس بن مالك الأنصاري