یہ تکبیرات کے دن ہیں ، تکبیرات سنئیے۔
علماء کرام کے آڈیو، ویڈیو دروس ، خطبات، دورہ قرآن، تعلیم القرآن اگر آپ ٹیکسٹ کی صورت میں ٹائپ کروانا چاہتے ہوں تو رابطہ کریں۔
+92-331-5902482
سنن ابن ماجه سے متعلقہ
تمام کتب
ترقیم شاملہ
عربی
اردو
9. باب : النظر إلى المرأة إذا أراد أن يتزوجها
باب: جس عورت سے شادی کرنی ہو اس کو دیکھنے کا بیان۔
حدیث نمبر: 1866
حَدَّثَنَا الْحَسَنُ بْنُ أَبِي الرَّبِيعِ ، أَنْبَأَنَا عَبْدُ الرَّزَّاقِ ، عَنْ مَعْمَرٍ ، عَنْ ثَابِتٍ الْبُنَانِيِّ ، عَنْ بَكْرِ بْنِ عَبْدِ اللَّهِ الْمُزَنِيِّ ، عَنِ الْمُغِيرَةِ بْنِ شُعْبَةَ ، قَالَ: أَتَيْتُ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فَذَكَرْتُ لَهُ امْرَأَةً أَخْطُبُهَا، فَقَالَ:" اذْهَبْ فَانْظُرْ إِلَيْهَا، فَإِنَّهُ أَجْدَرُ أَنْ يُؤْدَمَ بَيْنَكُمَا"، فَأَتَيْتُ امْرَأَةً مِنْ الْأَنْصَارِ، فَخَطَبْتُهَا إِلَى أَبَوَيْهَا، وَأَخْبَرْتُهُمَا بِقَوْلِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، فَكَأَنَّهُمَا كَرِهَا ذَلِكَ، قَالَ: فَسَمِعَتْ ذَلِكَ الْمَرْأَةُ وَهِيَ فِي خِدْرِهَا، فَقَالَتْ: إِنْ كَانَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ أَمَرَكَ أَنْ تَنْظُرَ فَانْظُرْ، وَإِلَّا فَإِنِّي أَنْشُدُكَ كَأَنَّهَا أَعْظَمَتْ ذَلِكَ، قَالَ: فَنَظَرْتُ إِلَيْهَا، فَتَزَوَّجْتُهَا، فَذَكَرَ مِنْ مُوَافَقَتِهَا.
مغیرہ بن شعبہ رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ میں نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس آیا اور میں نے آپ سے ذکر کیا کہ میں ایک عورت کو پیغام دے رہا ہوں، آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”جاؤ اسے دیکھ لو، اس سے تم دونوں میں محبت زیادہ ہونے کی امید ہے“، چنانچہ میں ایک انصاری عورت کے پاس آیا، اور اس کے ماں باپ کے ذریعہ سے اسے پیغام دیا، اور نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کا فرمان سنایا، لیکن ایسا معلوم ہوا کہ ان کو یہ بات پسند نہیں آئی، اس عورت نے پردہ سے یہ بات سنی تو کہا: اگر رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے دیکھنے کا حکم دیا ہے، تو تم دیکھ لو، ورنہ میں تم کو اللہ کا واسطہ دلاتی ہوں، گویا کہ اس نے اس چیز کو بہت بڑا سمجھا، مغیرہ رضی اللہ عنہ کہتے ہیں: میں نے اس عورت کو دیکھا، اور اس سے شادی کر لی، پھر انہوں نے اپنی باہمی موافقت اور ہم آہنگی کا حال بتایا۔ [سنن ابن ماجه/كتاب النكاح/حدیث: 1866]
حضرت مغیرہ بن شعبہ رضی اللہ عنہ سے روایت ہے، انہوں نے فرمایا: ”میں نے نبی صلی اللہ علیہ وسلم کی خدمت میں حاضر ہو کر ایک خاتون کا ذکر کیا کہ میں اس سے نکاح کے لیے پیغام بھیجنے والا ہوں۔ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”جا کر اسے دیکھ لو، امید ہے تمہارے درمیان محبت پیدا ہو جائے گی۔“ چنانچہ میں ایک انصاری خاتون کے ہاں گیا اور اس کے والدین سے اس کا رشتہ طلب کیا اور انہیں رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کا ارشاد بھی سنایا۔ یوں محسوس ہوا کہ اس کے والدین نے اس چیز کو پسند نہیں کیا (کہ یہ مرد اس لڑکی کو دیکھے۔) لڑکی پردے میں تھی، اس نے یہ بات چیت سن لی، چنانچہ اس نے کہا: ”اگر تجھے اللہ کے رسول صلی اللہ علیہ وسلم نے دیکھنے کا حکم دیا ہے تو دیکھ لے، ورنہ میں تجھے قسم دیتی ہوں (کہ جھوٹا بہانہ بنا کر مجھے نہ دیکھنا)“ اس نے گویا اس بات کو بہت بڑا سمجھا (سنتے ہی اعتبار نہ آیا کہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا ہو گا)۔“ حضرت مغیرہ رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں: ”(میں سچ کہہ رہا تھا، اس لیے) میں نے اسے دیکھ لیا، پھر میں نے اس سے شادی کر لی۔“ پھر حضرت مغیرہ رضی اللہ عنہ نے اس سے ہم آہنگی پیدا ہو جانے کا ذکر فرمایا۔ [سنن ابن ماجه/كتاب النكاح/حدیث: 1866]
تخریج الحدیث دارالدعوہ: «سنن الترمذی/النکاح 5 (1087)، سنن النسائی/النکاح 17 (3237)، (تحفة الأشراف: 11489)، وقد أخرجہ: مسند احمد (4/244، سنن الدارمی/النکاح 5 (2218) (صحیح)»
قال الشيخ الألباني: صحيح
قال الشيخ زبير على زئي:إسناده صحيح
الرواة الحديث:
تخريج الحديث:
کتاب | نمبر | مختصر عربی متن |
|---|---|---|
جامع الترمذي |
1087
| انظر إليها فإنه أحرى أن يؤدم بينكما |
سنن ابن ماجه |
1866
| انظر إليها فإنه أجدر أن يؤدم بينكما |
سنن النسائى الصغرى |
3237
| انظر إليها فإنه أجدر أن يؤدم بينكما |
سنن ابن ماجہ کی حدیث نمبر 1866 کے فوائد و مسائل
مولانا عطا الله ساجد حفظ الله، فوائد و مسائل، سنن ابن ماجه، تحت الحديث1866
اردو حاشہ:
فوائدومسائل:
(1)
والدین نے حدیث نبوی کو ناپسند نہیں کیا بلکہ انہیں یہ بات پسند نہ آئی کہ ایک اجنبی مرد ان کی جوان بچی پر نگاہ ڈالے۔
(2)
کنواری جوان بچی کو پردے کا اہتمام کرنا چاہیے۔
(3)
لڑکے کو چاہیے کہ صرف اسی لڑکی کو دیکھے جس سے وہ واقعی نکاح کرنے کا خواہش مند ہو۔
اس بہانے سے لوگوں کی بچیوں کو دیکھتے پھرنا بہت بری بات ہے۔
اللہ تعالیٰ دلوں کےخیالات سے باخبر ہے، اس سے کسی کی خیانت پوشیدہ نہیں۔
(4)
صحابہ اور صحابیات کے دل میں حدیث نبوی کا احترام بہت زیادہ تھا چنانچہ لڑکی کو جب نبی صلی اللہ علیہ وسلم کا ارشاد بتایا گیا تو وہ فورا راضی ہو گئی، حالانکہ طبعی طور پر یہ چیز اس کے لیے ناپسندیدہ تھی۔
(5)
اس سے یہ بھی معلوم ہوتا ہے کہ صحابہ کرام کے ذہنوں میں فرمان رسول کی کتنی زیادہ اہمیت تھی۔
فوائدومسائل:
(1)
والدین نے حدیث نبوی کو ناپسند نہیں کیا بلکہ انہیں یہ بات پسند نہ آئی کہ ایک اجنبی مرد ان کی جوان بچی پر نگاہ ڈالے۔
(2)
کنواری جوان بچی کو پردے کا اہتمام کرنا چاہیے۔
(3)
لڑکے کو چاہیے کہ صرف اسی لڑکی کو دیکھے جس سے وہ واقعی نکاح کرنے کا خواہش مند ہو۔
اس بہانے سے لوگوں کی بچیوں کو دیکھتے پھرنا بہت بری بات ہے۔
اللہ تعالیٰ دلوں کےخیالات سے باخبر ہے، اس سے کسی کی خیانت پوشیدہ نہیں۔
(4)
صحابہ اور صحابیات کے دل میں حدیث نبوی کا احترام بہت زیادہ تھا چنانچہ لڑکی کو جب نبی صلی اللہ علیہ وسلم کا ارشاد بتایا گیا تو وہ فورا راضی ہو گئی، حالانکہ طبعی طور پر یہ چیز اس کے لیے ناپسندیدہ تھی۔
(5)
اس سے یہ بھی معلوم ہوتا ہے کہ صحابہ کرام کے ذہنوں میں فرمان رسول کی کتنی زیادہ اہمیت تھی۔
[سنن ابن ماجہ شرح از مولانا عطا الله ساجد، حدیث/صفحہ نمبر: 1866]
تخریج الحدیث کے تحت دیگر کتب سے حدیث کے فوائد و مسائل
الشیخ ڈاکٹر عبد الرحمٰن فریوائی حفظ اللہ، فوائد و مسائل، سنن ترمذی، تحت الحديث 1087
جس عورت کو شادی کا پیغام دیا جائے، اسے دیکھ لینے کا بیان۔
مغیرہ بن شعبہ رضی الله عنہ کہتے ہیں کہ انہوں نے ایک عورت کے پاس نکاح کا پیغام بھیجا، تو نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”تم اسے دیکھ لو“ ۱؎۔ [سنن ترمذي/كتاب النكاح/حدیث: 1087]
مغیرہ بن شعبہ رضی الله عنہ کہتے ہیں کہ انہوں نے ایک عورت کے پاس نکاح کا پیغام بھیجا، تو نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”تم اسے دیکھ لو“ ۱؎۔ [سنن ترمذي/كتاب النكاح/حدیث: 1087]
اردو حاشہ:
وضاحت:
1؎:
جمہورکے نزدیک یہ حکم مستحب ہے واجب نہیں،
اگرکوئی کسی قابل اعتماد رشتہ دارعورت کو بھیج کر عورت کے رنگ وروپ اور عادات وخصائل کا پتہ لگا لے تو یہ بھی ٹھیک ہے جیسا کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے ام سلیم رضی اللہ عنہا کو بھیج کر ایک عورت کے متعلق معلومات حاصل کی تھی۔
وضاحت:
1؎:
جمہورکے نزدیک یہ حکم مستحب ہے واجب نہیں،
اگرکوئی کسی قابل اعتماد رشتہ دارعورت کو بھیج کر عورت کے رنگ وروپ اور عادات وخصائل کا پتہ لگا لے تو یہ بھی ٹھیک ہے جیسا کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے ام سلیم رضی اللہ عنہا کو بھیج کر ایک عورت کے متعلق معلومات حاصل کی تھی۔
[سنن ترمذي مجلس علمي دار الدعوة، نئى دهلى، حدیث/صفحہ نمبر: 1087]
Sunan Ibn Majah Hadith 1866 in Urdu
بكر بن عبد الله المزني ← المغيرة بن شعبة الثقفي