یہ تکبیرات کے دن ہیں ، تکبیرات سنئیے۔
علماء کرام کے آڈیو، ویڈیو دروس ، خطبات، دورہ قرآن، تعلیم القرآن اگر آپ ٹیکسٹ کی صورت میں ٹائپ کروانا چاہتے ہوں تو رابطہ کریں۔
+92-331-5902482
سنن ابن ماجه سے متعلقہ
تمام کتب
ترقیم شاملہ
عربی
اردو
51. باب : ضرب النساء
باب: عورتوں کو مارنے پیٹنے کے حکم کا بیان۔
حدیث نمبر: 1986
حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ يَحْيَى ، والْحَسَنُ بْنُ مُدْرِكٍ الطَّحَّانُ ، قَالَا: حَدَّثَنَا يَحْيَى بْنُ حَمَّادٍ ، حَدَّثَنَا أَبُو عَوَانَةَ ، عَنْ دَاوُدَ بْنِ عَبْدِ اللَّهِ الْأَوْدِيِّ ، عَنْ عَبْدِ الرَّحْمَنِ الْمُسْلِيِّ ، عَنِ الْأَشْعَثِ بْنِ قَيْسٍ ، قَالَ: ضِفْتُ عُمَرَ لَيْلَةً، فَلَمَّا كَانَ فِي جَوْفِ اللَّيْلِ قَامَ إِلَى امْرَأَتِهِ يَضْرِبُهَا، فَحَجَزْتُ بَيْنَهُمَا، فَلَمَّا أَوَى إِلَى فِرَاشِهِ، قَالَ لِي: يَا أَشْعَثُ احْفَظْ عَنِّي شَيْئًا سَمِعْتُهُ عَنْ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ:" لَا يُسْأَلُ الرَّجُلُ فِيمَ يَضْرِبُ امْرَأَتَهُ، وَلَا تَنَمْ إِلَّا عَلَى وِتْرٍ، وَنَسِيتُ الثَّالِثَةَ".
اشعث بن قیس رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ میں ایک رات عمر رضی اللہ عنہ کا مہمان ہوا، جب آدھی رات ہوئی تو وہ اپنی بیوی کو مارنے لگے، تو میں ان دونوں کے بیچ حائل ہو گیا، جب وہ اپنے بستر پہ جانے لگے تو مجھ سے کہا: اشعث! وہ بات جو میں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے سنی ہے تم اسے یاد کر لو: ”شوہر اپنی بیوی کو مارے تو قیامت کے دن اس سلسلے میں سوال نہیں کیا جائے گا، اور وتر پڑھے بغیر نہ سوؤ“ اور تیسری چیز آپ نے کیا کہی میں بھول گیا۔ [سنن ابن ماجه/كتاب النكاح/حدیث: 1986]
حضرت اشعث بن قیس رضی اللہ عنہ سے روایت ہے، انہوں نے فرمایا: ”میں ایک رات حضرت عمر رضی اللہ عنہ کے ہاں مہمان رہا۔ آدھی رات ہوئی تو وہ اٹھ کر اپنی عورت کو مارنے لگے، میں نے بیچ بچاؤ کرا دیا۔ جب وہ اپنے بستر پر گئے تو مجھ سے فرمایا: ”اے اشعث! میری ایک بات یاد رکھنا۔ میں نے وہ بات رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے سنی ہے۔“ (آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”مرد سے نہیں پوچھنا چاہیے کہ اس نے اپنی عورت کو کیوں مارا۔“ اور وتر پڑھے بغیر مت سویا کر۔ اور تیسری بات مجھے یاد نہیں رہی۔)“ [سنن ابن ماجه/كتاب النكاح/حدیث: 1986]
تخریج الحدیث دارالدعوہ: «سنن ابی داود/النکاح 43 (2147)، (تحفة الأشراف: 10407)، وقد أخرجہ: مسند احمد (1/20) (ضعیف)» (یہ سند عبدالرحمن مسلمی کی وجہ سے ضعیف ہے، جو اس حدیث کے علاوہ کی دوسری حدیث کی روایت میں غیر معروف ہیں، اور داود بن عبد اللہ اودی روایت میں منفرد ہیں)
قال الشيخ الألباني: ضعيف
قال الشيخ زبير على زئي:حسن
الرواة الحديث:
تخريج الحديث:
کتاب | نمبر | مختصر عربی متن |
|---|---|---|
سنن أبي داود |
2147
| لا يسأل الرجل فيما ضرب امرأته |
سنن ابن ماجه |
1986
| لا يسأل الرجل فيم يضرب امرأته ولا تنم إلا على وتر |
حدیث نمبر: 1986M
حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ خَالِدِ بْنِ خِدَاشٍ ، حَدَّثَنَا عَبْدُ الرَّحْمَنِ بْنُ مَهْدِيٍّ ، حَدَّثَنَا أَبُو عَوَانَةَ ، بِإِسْنَادِهِ نَحْوَهُ.
اس سند سے بھی اسی جیسی حدیث مروی ہے۔ [سنن ابن ماجه/كتاب النكاح/حدیث: 1986M]
قال الشيخ الألباني: ضعيف
الرواة الحديث:
اسم الشهرة | الرتبة عند ابن حجر/ذهبي | أحاديث |
|---|---|---|
| 👤←👥الوضاح بن عبد الله اليشكري، أبو عوانة | ثقة ثبت | |
👤←👥عبد الرحمن بن مهدي العنبري، أبو سعيد عبد الرحمن بن مهدي العنبري ← الوضاح بن عبد الله اليشكري | ثقة ثبت حافظ عارف بالرجال والحديث | |
👤←👥محمد بن خالد المهلبي، أبو بكر محمد بن خالد المهلبي ← عبد الرحمن بن مهدي العنبري | صدوق حسن الحديث |
Sunan Ibn Majah Hadith 1986 in Urdu
أشعث بن قيس الكندي ← عمر بن الخطاب العدوي