🏠 👥 🔍 🧩 🅰️ 📌 ↩️

سنن ابن ماجه سے متعلقہ
تمام کتب
ترقیم شاملہ
عربی
اردو
حدیث کتب میں نمبر سے حدیث تلاش کریں:

سنن ابن ماجہ میں ترقیم شاملہ سے تلاش کل احادیث (4341)
حدیث نمبر لکھیں:
حدیث میں عربی لفظ/الفاظ تلاش کریں
عربی لفظ / الفاظ لکھیں:
حدیث میں اردو لفظ/الفاظ تلاش کریں
اردو لفظ / الفاظ لکھیں:
7. باب : البينة على المدعي واليمين على المدعى عليه
باب: مدعی اپنے دعوے کے حق میں گواہی پیش کرے اور مدعیٰ علیہ (یعنی جس کے خلاف دعویٰ ہے) اس پر قسم کھائے۔
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 2322
حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ نُمَيْرٍ ، وَعَلِيُّ بْنُ مُحَمَّدٍ ، قَالَا: حَدَّثَنَا وَكِيعٌ ، وَأَبُو مُعَاوِيَةَ ، قَالَا: حَدَّثَنَا الْأَعْمَشُ ، عَنْ شَقِيقٍ ، عَنِ الْأَشْعَثِ بْنِ قَيْسٍ ، قَالَ: كَانَ بَيْنِي وَبَيْنَ رَجُلٍ مِنَ الْيَهُودِ أَرْضٌ فَجَحَدَنِي فَقَدَّمْتُهُ إِلَى النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، فَقَالَ لِي رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ:" هَلْ لَكَ بَيِّنَةٌ؟ قُلْتُ: لَا، قَالَ لِلْيَهُودِيِّ:" احْلِفْ"، قُلْتُ: إِذًا يَحْلِفَ فِيهِ فَيَذْهَبَ بِمَالِي، فَأَنْزَلَ اللَّهُ سُبْحَانَهُ إِنَّ الَّذِينَ يَشْتَرُونَ بِعَهْدِ اللَّهِ وَأَيْمَانِهِمْ ثَمَنًا قَلِيلا سورة آل عمران آية 77 إِلَى آخِرِ الْآيَةِ".
اشعث بن قیس رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ میرے اور ایک یہودی کے درمیان ایک زمین مشترک تھی، اس نے میرے حصہ کا انکار کر دیا، تو میں اس کو نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس لے کر آیا، تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: کیا تمہارے پاس گواہ ہیں؟ میں نے عرض کیا: نہیں، تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے یہودی سے کہا: تم قسم کھاؤ، میں نے عرض کیا: تب تو وہ قسم کھا لے گا اور میرا مال ہڑپ کر جائے گا، اس پر اللہ تعالیٰ نے یہ آیت اتاری: «إن الذين يشترون بعهد الله وأيمانهم ثمنا قليلا» (سورة آل عمران: 77) جو لوگ اللہ کے عہد اور اپنی قسموں کے بدلے تھوڑا مال لیتے ہیں ان کا آخرت میں کوئی حصہ نہیں اور اللہ تعالیٰ ان سے بات تک نہیں کرے گا، نہ قیامت کے دن ان پر رحمت کی نگاہ ڈالے گا، نہ گناہوں سے ان کو پاک کرے گا، اور ان کو نہایت درد ناک عذاب ہوتا رہے گا۔ [سنن ابن ماجه/كتاب الأحكام/حدیث: 2322]
تخریج الحدیث دارالدعوہ: «‏‏‏‏صحیح البخاری/المسافات 4 (2356، 2357)، الرہن 6 (2515، 2516)، الخصومات 4 (2416، 2417)، الأحکام 30 (7183، 7184)، صحیح مسلم/الایمان 61 (138)، سنن ابی داود/الأقضیة 25 (3621)، سنن الترمذی/البیوع 42 (1269)، (تحفة الأشراف: 158، 9244)، وقد أخرجہ: مسند احمد (5/211) (صحیح)» ‏‏‏‏
قال الشيخ الألباني: صحيح
قال الشيخ زبير على زئي:متفق عليه

الرواة الحديث:
اسم الشهرة
الرتبة عند ابن حجر/ذهبي
أحاديث
👤←👥أشعث بن قيس الكندي، أبو محمدصحابي
👤←👥شقيق بن سلمة الأسدي، أبو وائل
Newشقيق بن سلمة الأسدي ← أشعث بن قيس الكندي
مخضرم
👤←👥سليمان بن مهران الأعمش، أبو محمد
Newسليمان بن مهران الأعمش ← شقيق بن سلمة الأسدي
ثقة حافظ
👤←👥محمد بن خازم الأعمى، أبو معاوية
Newمحمد بن خازم الأعمى ← سليمان بن مهران الأعمش
ثقة
👤←👥وكيع بن الجراح الرؤاسي، أبو سفيان
Newوكيع بن الجراح الرؤاسي ← محمد بن خازم الأعمى
ثقة حافظ إمام
👤←👥علي بن محمد الكوفي، أبو الحسن
Newعلي بن محمد الكوفي ← وكيع بن الجراح الرؤاسي
ثقة
👤←👥محمد بن نمير الهمداني، أبو عبد الرحمن
Newمحمد بن نمير الهمداني ← علي بن محمد الكوفي
ثقة حافظ
تخريج الحديث:
کتاب
نمبر
مختصر عربی متن
سنن أبي داود
3621
ألك بينة قلت لا قال لليهودي احلف قلت يا رسول الله إذا يحلف ويذهب بمالي فأنزل الله إن الذين يشترون بعهد الله وأيمانهم ثمنا قليلا
سنن أبي داود
3622
هل لك بينة قال لا ولكن أحلفه والله ما يعلم أنها أرضي اغتصبنيها أبوه فتهيأ الكندي يعني لليمين وساق الحديث
سنن ابن ماجه
2322
هل لك بينة قلت لا قال لليهودي احلف قلت إذا يحلف فيه فيذهب بمالي فأنزل الله سبحانه إن الذين يشترون بعهد الله وأيمانهم ثمنا قليلا
سنن ابن ماجہ کی حدیث نمبر 2322 کے فوائد و مسائل
مولانا عطا الله ساجد حفظ الله، فوائد و مسائل، سنن ابن ماجه، تحت الحديث2322
اردو حاشہ:
فوائد و مسائل:
(1)
جھوٹی قسم کھانا کبیرہ گناہ ہے۔

(2)
  کسی کی چیز ناجائز طور پر حاصل کرنے کے لیے اس پر جھوٹا دعوٰی کرنا بہت بڑا جرم ہے۔

(3)
  قاضی گواہوں اور شواہد کی بنا پر اپنی سمجھ کےمطابق فیصلہ کرنے کا مکلف ہے۔
اگر اس نے اپنی سمجھ کےمطابق قرآن وحدیث کو سامنے رکھتے ہوئے صحیح فیصلہ کرنے کی کوشش کی ہے تو وہ گناہ گار نہیں خواہ وہ فیصلہ حقیقت میں غلط ہی ہو لیکن اگر مدعی کو معلوم ہے کہ یہ دعوی جھوٹا ہے تو اس کے لیے کسی کی چیز لینا جائز نہیں خواہ اس کے حق میں فیصلہ ہو گیا ہو۔

اللہ تعالیٰ بات نہیں کرے گا۔
اس کا مطلب یہ ہے کہ رحمت اور خوشنودی سےبات نہیں کرے گا بلکہ غضب کےساتھ زجر و توبیخ کے طور پر یا محاسبے کے لیے بات کرے گا۔

(5)
  کلام کرنا اللہ کی صفت ہے۔
وہ جب چاہتا ہے جس سے چاہتا ہے جیسے چاہتا ہے کلام فرماتا ہے تاہم اس کی کوئی صفت مخلوق کی صفت سے مشابہ نہیں۔

(6)
  جن لوگوں کی نیکیاں زیادہ ہوں گی اور گناہ کم اور معمولی ہوں گے اللہ ان کے گناہ معاف کرکے انہیں پاک وصاف کردے گا جب کہ عادی مجرم اور بعض کبیرہ گناہوں کے مرتکب اس معافی سے محروم رہیں گے۔
[سنن ابن ماجہ شرح از مولانا عطا الله ساجد، حدیث/صفحہ نمبر: 2322]

تخریج الحدیث کے تحت دیگر کتب سے حدیث کے فوائد و مسائل
الشيخ عمر فاروق سعيدي حفظ الله، فوائد و مسائل، سنن ابي داود ، تحت الحديث 3621
مدعی علیہ ذمی ہو تو اسے قسم کھلائی جائے یا نہیں؟
اشعث رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ میرے اور ایک یہودی کے درمیان کچھ (مشترک) زمین تھی، یہودی نے میرے حصہ کا انکار کیا، میں اسے نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس لے گیا تو نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے مجھ سے فرمایا: کیا تمہارے پاس کوئی گواہ ہے؟ میں نے کہا: نہیں، آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے یہودی سے فرمایا: تم قسم کھاؤ میں نے عرض کیا: اللہ کے رسول! تب تو یہ قسم کھا کر میرا مال ہڑپ لے گا، تو اللہ تعالیٰ نے یہ آیت نازل فرمائی: «إن الذين يشترون بعهد الله وأيمانهم» جو لوگ اللہ کا عہد و پیمان دے کر اور اپنی قسمیں کھا کر تھوڑا مال ۔۔۔۔ (مکمل حدیث اس نمبر پر پڑھیے۔) [سنن ابي داود/كتاب الأقضية /حدیث: 3621]
فوائد ومسائل:
فائدہ: کافر کے ساتھ اگر معاملہ قسم پر آٹھرے تو اس سے اللہ کے پاک اور عظیم نام ہی کی قسم لی جائے۔
اگر وہ جھوٹی قسم کھا جاتے تو صبر کرتے ہوئے یقین رکھنا چاہیے۔
کہ وہ اس جھوٹی قسم کے وبال سے بچ نہیں سکے گا۔
[سنن ابی داود شرح از الشیخ عمر فاروق سعیدی، حدیث/صفحہ نمبر: 3621]