یہ تکبیرات کے دن ہیں ، تکبیرات سنئیے۔
علماء کرام کے آڈیو، ویڈیو دروس ، خطبات، دورہ قرآن، تعلیم القرآن اگر آپ ٹیکسٹ کی صورت میں ٹائپ کروانا چاہتے ہوں تو رابطہ کریں۔
+92-331-5902482
سنن ابن ماجه سے متعلقہ
تمام کتب
ترقیم شاملہ
عربی
اردو
4. باب : حق الجوار
باب: جوار (پڑوس) کے حق کا بیان۔
حدیث نمبر: 3674
حَدَّثَنَا عَلِيُّ بْنُ مُحَمَّدٍ , حَدَّثَنَا وَكِيعٌ , حَدَّثَنَا يُونُسُ بْنُ أَبِي إِسْحَاق , عَنْ مُجَاهِدٍ , عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ , قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ:" مَا زَالَ جِبْرَائِيلُ يُوصِينِي بِالْجَارِ , حَتَّى ظَنَنْتُ أَنَّهُ سَيُوَرِّثُهُ".
ابوہریرہ رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”جبرائیل برابر پڑوسی کے بارے میں وصیت و تلقین کرتے رہے، یہاں تک کہ مجھے یہ خیال ہونے لگا کہ وہ ہمسایہ کو وارث بنا دیں گے“۔ [سنن ابن ماجه/كتاب الأدب/حدیث: 3674]
حضرت ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”حضرت جبریل علیہ السلام مجھے پڑوسی کے ساتھ حسن سلوک کی ہمیشہ تاکید کرتے رہے حتی کہ میں گمان کرنے لگا کہ وہ اسے وراثت میں بھی شریک ٹھہرا دیں گے۔“ [سنن ابن ماجه/كتاب الأدب/حدیث: 3674]
تخریج الحدیث دارالدعوہ: «تفرد بہ ابن ماجہ، (تحفة الأشراف: 14352، ومصباح الزجاجة: 1280)، وقد أخرجہ: مسند احمد (2/259، 305، 445، 514) (صحیح)»
قال الشيخ الألباني: صحيح
قال الشيخ زبير على زئي:إسناده صحيح
الرواة الحديث:
اسم الشهرة | الرتبة عند ابن حجر/ذهبي | أحاديث |
|---|---|---|
| 👤←👥أبو هريرة الدوسي | صحابي | |
👤←👥مجاهد بن جبر القرشي، أبو محمد، أبو الحجاج مجاهد بن جبر القرشي ← أبو هريرة الدوسي | ثقة إمام في التفسير والعلم | |
👤←👥يونس بن أبي إسحاق السبيعي، أبو إسرائيل يونس بن أبي إسحاق السبيعي ← مجاهد بن جبر القرشي | صدوق حسن الحديث | |
👤←👥وكيع بن الجراح الرؤاسي، أبو سفيان وكيع بن الجراح الرؤاسي ← يونس بن أبي إسحاق السبيعي | ثقة حافظ إمام | |
👤←👥علي بن محمد الكوفي، أبو الحسن علي بن محمد الكوفي ← وكيع بن الجراح الرؤاسي | ثقة |
تخريج الحديث:
کتاب | نمبر | مختصر عربی متن |
|---|---|---|
سنن ابن ماجه |
3674
| ما زال جبرائيل يوصيني بالجار حتى ظننت أنه سيورثه |
سنن ابن ماجہ کی حدیث نمبر 3674 کے فوائد و مسائل
مولانا عطا الله ساجد حفظ الله، فوائد و مسائل، سنن ابن ماجه، تحت الحديث3674
اردو حاشہ:
فوائد و مسائل:
(1)
رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم اپنی مرضی سے کوئی شرعی حکم جاری نہیں کرتے تھے بلکہ وحی کے ذریعے سے جو حکم نازل ہوتا تھا اس پر عمل کرتے اور کرواتے تھے۔
(2)
وراثت کے قوانین نصوص پر مبنی ہیں، ان میں قیاس نہیں چلتا۔
(3)
پڑوسی کے ساتھ زیادہ سے زیادہ حسن سلوک کا خیال رکھنا چاہیے۔
فوائد و مسائل:
(1)
رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم اپنی مرضی سے کوئی شرعی حکم جاری نہیں کرتے تھے بلکہ وحی کے ذریعے سے جو حکم نازل ہوتا تھا اس پر عمل کرتے اور کرواتے تھے۔
(2)
وراثت کے قوانین نصوص پر مبنی ہیں، ان میں قیاس نہیں چلتا۔
(3)
پڑوسی کے ساتھ زیادہ سے زیادہ حسن سلوک کا خیال رکھنا چاہیے۔
[سنن ابن ماجہ شرح از مولانا عطا الله ساجد، حدیث/صفحہ نمبر: 3674]
Sunan Ibn Majah Hadith 3674 in Urdu
مجاهد بن جبر القرشي ← أبو هريرة الدوسي