سنن ابن ماجه سے متعلقہ
تمام کتب
ترقیم شاملہ
عربی
اردو
5. باب : من لعب به الشيطان في منامه فلا يحدث به الناس
باب: جس نے خواب دیکھا کہ شیطان اس سے کھیل رہا ہے وہ اسے کسی سے بیان نہ کرے۔
حدیث نمبر: 3912
حَدَّثَنَا عَلِيُّ بْنُ مُحَمَّدٍ , حَدَّثَنَا أَبُو مُعَاوِيَةَ , عَنْ الْأَعْمَشِ , عَنْ أَبِي سُفْيَانَ , عَنْ جَابِرٍ , قَالَ: أَتَى النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ رَجُلٌ وَهُوَ يَخْطُبُ , فَقَالَ: يَا رَسُولَ اللَّهِ , رَأَيْتُ الْبَارِحَةَ فِيمَا يَرَى النَّائِمُ , كَأَنَّ عُنُقِي ضُرِبَتْ وَسَقَطَ رَأْسِي فَاتَّبَعْتُهُ فَأَخَذْتُهُ فَأَعَدْتُهُ , فَقَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ:" إِذَا لَعِبَ الشَّيْطَانُ بِأَحَدِكُمْ فِي مَنَامِهِ , فَلَا يُحَدِّثَنَّ بِهِ النَّاسَ".
جابر رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم خطبہ دے رہے تھے کہ ایک شخص آپ کی خدمت میں حاضر ہوا، اور اس نے عرض کیا: اللہ کے رسول! میں نے کل رات خواب دیکھا کہ میری گردن اڑا دی گئی، اور میرا سر الگ ہو گیا، میں اس کے پیچھے چلا اور اس کو اٹھا کر پھر اپنے مقام پر رکھ لیا؟ تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”جب شیطان خواب میں تم میں سے کسی کے ساتھ کھیلے تو وہ اسے لوگوں سے بیان نہ کرے“۔ [سنن ابن ماجه/كتاب تعبير الرؤيا/حدیث: 3912]
تخریج الحدیث دارالدعوہ: «صحیح مسلم/الرؤیا 1 (2268)، (تحفة الأشراف: 2308)، وقد أخرجہ: مسند احمد (3/315) (صحیح)»
قال الشيخ الألباني: صحيح
قال الشيخ زبير على زئي:صحيح مسلم
الرواة الحديث:
تخريج الحديث:
کتاب | نمبر | مختصر عربی متن |
|---|---|---|
صحيح مسلم |
5926
| لا يحدثن أحدكم بتلعب الشيطان به في منامه |
صحيح مسلم |
5927
| إذا لعب الشيطان بأحدكم في منامه فلا يحدث به الناس |
صحيح مسلم |
5925
| لا تخبر بتلعب الشيطان بك في المنام |
سنن ابن ماجه |
3913
| لا يخبر الناس بتلعب الشيطان به في المنام |
سنن ابن ماجه |
3912
| إذا لعب الشيطان بأحدكم في منامه فلا يحدثن به الناس |
طلحة بن نافع القرشي ← جابر بن عبد الله الأنصاري